انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من العجز والکسل والبخل والهرم و عذاب القبر وفتنة المحيا والممات اے اللہ! میں عاجزی، سستی و کاہلی، بخیلی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: "Allahumma inni audhu bika minal-ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-harami, adhabil-qabr wa fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, I seek refuge in You from incapacity and laziness, and miserliness and old age, and the torment of the grave, and the trials of life and death).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5448
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ (پڑھنا) نہیں چھوڑتے تھے: آپ فرماتے: اللہم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وغلبة الرجال اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و سستی سے، کنجوسی و بزدلی سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had supplications that he never omitted to recite. He used to say: Allahumma inni audhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice and being overpowered by (other) men).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5449
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٦٠٦) (صحیح) (اس کے راوی ” منہال “ کا کسی صحابی سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے، لیکن اس باب اور اس سے پہلے کے باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی کچھ دعائیں تھیں جنہیں آپ (پڑھنا) نہیں چھوڑتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن والدين وغلبة الرجال اے اللہ! میں فکر و سوچ اور پریشانی سے، عاجزی و کاہلی سے، کنجوسی و بزدلی سے، قرض سے اور لوگوں کے غالب آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور ابن فضیل کی حدیث میں غلطی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) had supplications that he never neglected. He used to say: Allahumma inni audhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-daini, wa ghalabatar-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, debt, and being overpowered by (other) men).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5450
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی محمد بن اسحاق کی حدیث جو عمرو بن ابی عمرو سے بواسطہ انس بن مالک مروی ہے یہ صحیح ہے، جب کہ ابن اسحاق کی روایت جو منہال ابن عمرو سے بواسطہ انس بن مالک مروی ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ منہال کا سماع صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دعا فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والجبن والبخل وفتنة الدجال و عذاب القبر اے اللہ! میں کاہلی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے، کنجوسی سے، دجال کے فتنے سے، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say in his supplication: Allahumma inni audhu bika minal-kasali, wal-harami, wal-jubni, wal-bukhli, wa fitnatid-dajjali, wa adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge in You from laziness, old age, cowardice, miserliness, the tribulation of the Dajjal and the torment of the grave.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5451
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من العجز والکسل والهرم والبخل والجبن وأعوذ بک من عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات اے اللہ! میں عاجزی، کاہلی، بڑھاپے، کنجوسی، اور بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، نیز قبر کے عذاب سے اور موت اور زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated from Anas that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: "Allahumma inni audhu bika minal-ajzi, wal-kasali, wal-harami, wal-bukhli, wal-jubni, wa audhu bika min adhabil-qabri, wa min fitnatil-mahya wal-mamati (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, old age, miserliness and cowardice, and I seek refuge in You from the torment of the grave, and from the trials of life and death).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5452
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا کرتے تو فرماتے: اللہم إني أعوذ بک من الهم والحزن والعجز والکسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال اللہ! میں حزن و ملال، رنج و غم، عاجزی و کاہلی، کنجوسی و بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید بن سلمہ ضعیف ہیں ١ ؎۔ ہم نے ان کی روایت اس لیے بیان کی ہے کہ اس کی سند (ایک راوی کا) اضافہ ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) , that : When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) supplicated, he would say: "Allahumma inni audhu bika minal-hammi, wal-hazani, wal-ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wad-dalaid-daini, wa ghalabatir-rijal (O Allah, I seek refuge with You from worry, grief, incapacity, laziness, miserliness, cowardice, difficult debt and being overpowered by men).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5453
Notes · وضاحت
١ ؎: جب حفظ سے روایت کریں تب ضعیف ہیں، ورنہ صحیح الکتاب ہیں۔ ٢ ؎: اور وہ عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں، لیکن سند حدیث نمبر ٥٤٥٢ میں ان کا اضافہ نہیں ہے، اور اس اضافہ کے بغیر بھی سند متصل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٧٦) (صحیح) (اس کے راوی ” عبداللہ بن المطلب “ مجہول ہیں، لیکن ان کے بغیر سند متصل ہے جیسا کہ نمبر ٥٤٥٢ میں ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرض اور معصیت (گناہ) سے پناہ مانگتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو قرض دار ہوگا وہ بولے گا تو جھوٹ بولے گا اور وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) often used to seek refuge (with Allah) from debt and sin. I said: O Messenger of Allah, how often you seek refuge from debt! He said: Whoever gets into debt speaks and lies, and makes a promise and breaks it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5454
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے آدمی قرض لینے سے طاقت بھر بچے، ایسی نوبت ہی نہ آنے دے کہ قرض لینے کے لیے مجبور ہو، طاقت و قناعت سے کام لے۔
شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے تعوذ سکھائیے جس کے ذریعے میں اللہ کی پناہ مانگوں، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا: کہو، أعوذ بک من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کان کی برائی سے، آنکھ کے کی برائی سے، زبان کی برائی سے، دل کی برائی سے، منی کی برائی سے، یہاں تک کہ یہ چیز مجھے یاد ہوگئی، سعد ؓ کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ وکیع نے الفاظ حدیث میں ابونعیم کی مخالفت کی ہے۔
It was narrated that Shakal bin Humaid said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: O Prophet of Allah, teach me words by which I may seek refuge (with Allah). He took me by the hand then said: Say: Audhu bika min sharri samI, wa sharri basari, wa sharri lisani, wa sharri qalbi, wa sharri mani (I seek refuge in You from the evil of my hearing, the evil of my seeing, the evil of my tongue, the evil of my heart, and the evil of my sperm), until I had memorized it." Waki contradicted him in the wordings.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5455
شکل بن حمید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے دعا سکھائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں، آپ نے فرمایا: کہو اللہم عافني من شر سمعي وبصري ولساني وقلبي ومن شر منيي اے اللہ! تو مجھے پناہ دے کان، نگاہ، زبان، دل اور منی (نطفہ) کی برائی سے۔
It was narrated from Shutair bin Shakal bin Humaid, that his father said: "I said: O Messenger of Allah, teach me a supplication from which I may benefit. He said: Say: Allahumma afini min sharri sami, wa basari, wa lisani, wa qalbi, wa min sharri mani (O Allah, protect me from the evil of my hearing, my seeing, my tongue and my heart, and from the evil of my sperm.)" - Meaning sexual organ.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5456
حمید بیان کرتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ سے قبر کے عذاب اور دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے:اللہم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والجبن والبخل وفتنة الدجال و عذاب القبر اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی و کاہلی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے، بخیلی اور کنجوسی سے، دجال کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے ۔
It was narrated that Khalid said: "Humaid narrated: Anas - bin Malik - was asked about the torment of the grave and about the Dajjal. He said: "The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: Allahumma, inni audhu bika minal-kasali, wal-harami, wal-jubni, wal-bukhli, wa fitnatid-dajjali, wa adhabil-qabr (O Allah, I seek refuge with You from laziness, old age, cowardice, stinginess, the tribulation of the Dajjal and the torment of the grave.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5457
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ میں تمہیں وہی سکھاتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ ہمیں سکھاتے تھے، آپ فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من العجز والکسل والبخل والجبن والهرم و عذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بک من قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع وعلم لا ينفع ودعوة لا يستجاب لها اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و مجبوری اور بےبسی سے، کاہلی سے، بخیلی و کنجوسی سے، بزدلی و کم ہمتی سے، بڑھاپے سے، قبر کے عذاب سے، اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے (برائیوں سے) پاک کر دے، تو ہی بہترین پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور سرپرست ہے، اے اللہ! میں ایسے دل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس میں تیرا ڈر نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو، ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو سکے ۔
It was narrated that Zaid bin Arqam (RA) said: "I will not teach you anything but that which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to teach us. He said: Allahumma inni audhu bika min al-ajzi wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa adhabil-qabri, Allahumma ati nafsi taqwaha, wa zakkiha anta khairu min zakkaha, anta waliyyuha wa mawlaha. Allahumma inni audhu bika min qalbin la yakhshau wa min nafsin la tashbau wa ilmin la yanfau wa dawatin la yustajabu laha (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave. O Allah, make my soul obedient and purify it, for You are the best One to purify it, You are its Guardian and Lord. O Allah, I seek refuge in You from a heart that is not humble, a soul that is not satisfied, knowledge that is of no benefit and a supplication that is not answered.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5458
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر ١٨ (٢٧٢٢)، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٨)، مسند احمد (٤/٣٧١)، ویأتي عند المؤلف برقم ٥٥٤٠ (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہم إني أعوذ بک من العجز والکسل والبخل والجبن والهرم و عذاب القبر وفتنة المحيا والممات اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی و بےبسی، سستی و کاہلی، بخیلی و کنجوسی، بزدلی و کم ہمتی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے ۔
It was narrated from Anas that: The Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Allahumma inni audhu bika min al-ajzi, wal-kasali, wal-bukhli, wal-jubni, wal-harami, wa adhabil-qabri, wa fitnatil-mahya wal-mamat (O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, miserliness, cowardice, old age, the torment of the grave and the trials of life and death).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5459
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من الفقر وأعوذ بک من القلة والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم اے اللہ! میں فقر و غربت سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کمی اور ذلت سے پناہ مانگتا ہوں، ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اوزاعی نے حماد کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: "Allahumma, inni audhu bika minal-faqri wa audhu bika min al-qillati wadh-dhillati, wa audhu bika an azlima aw uzlam (O Allah, I seek refuge with you from poverty, I seek refuge with You from want and humiliation, and I seek refuge with You from wronging others or being wronged.)" Al-Awzai contradicted hI contradicted him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5460
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں کی روایتوں میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے شیخ مختلف ہیں، کیونکہ حماد کی روایت میں سعید بن یسار ہیں جب کہ اوزاعی کی روایت میں ان کے شیخ جعفر بن عیاض ہیں، (جو ضعیف ہیں) نیز ان دونوں کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٥)، مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٢٥، ٢٥٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٤٦٤ (صحیح )
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقر سے، قلت، کمی اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Seek refuge with Allah from poverty, want, humiliation and wronging others or being wronged.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5461
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٥)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٤٦٥ و ٥٤٦٦ (ضعیف) (اس کے راوی ” جعفر “ لین الحدیث ہیں، ان کی روایت اور سعید بن یسار کی پچھلی روایت کے الفاظ میں فرق ملاحظہ فرمائیں )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ کہا کرتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من القلة والفقر والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم اے اللہ! میں قلت سے، فقر سے، ذلت سے، تیری پناہ مانگتا ہوں اور ظلم کرنے اور کئے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah: From the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that he used to say: "Allahumma inni audhu bika minal-qillati wal-faqri, wadh-dhillati wa audhu bika min azlima aw uzlam (O Allah, I seek refuge with You from want, poverty and humiliation, and I seek refuge with You from wronging others or being wronged).
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Seek refuge with Allah from poverty, want and humiliation, and from wronging others or being wronged.
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے ۔
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Seek refuge with Allah from poverty, want and humiliation, and from wronging others or being wronged.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5464
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: اللہم إني أعوذ بک من الکفر والفقر و عذاب القبر اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، فقر سے، اور عذاب قبر سے ، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا، وہ بولے: اے میرے بیٹے! تم نے (دعا کے) یہ کلمات کہاں سے سیکھے؟ میں نے عرض کیا: ابو جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد (یا نماز کے اخیر میں) یہی دعا مانگتے سنا۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں، وہ بولے: میرے بیٹے! اس دعا کو لازم کرلو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ بھی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے ١ ؎۔
Muslim - meaning bin Abi Bakrah - narrated that: He heard his father say following the prayer: "Allahumma inni audhu bika minal-kufri wal-faqri, wa adhabil-qabri (O Allah, I seek refuge with You from Kufr, poverty and the torment of the grave.)" I started to recite them and he said: "O my son, where did you learn these words?" I said: "O my father, I heard you saying this supplication at the end of the prayer, and I learned them from you." He said: "Continue to recite them, O my son, for the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say this supplication at the end of the prayer.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5465
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں دبر الصلا ۃ جس کے معنی نماز کے بعد بھی ہوسکتے ہیں، اور نماز کے اخیر میں بھی ہوسکتے ہیں، دونوں معنوں میں یہ لفظ وارد ہوا ہے، لیکن بقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ سلام سے پہلے دعا کی قبولیت زیادہ متوقع ہے، بمقابلہ سلام کے بعد کے، کیونکہ سلام سے پہلے بندہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من فتنة النار و عذاب النار وفتنة القبر و عذاب القبر وشر فتنة المسيح الدجال وشر فتنة الفقر وشر فتنة الغنى اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم إني أعوذ بک من الکسل والهرم والمأثم والمغرم اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، مسیح دجال کے فتنے کے شر سے، فقر کے فتنے کے شر سے، مالداری کے فتنے کے شر سے، اے اللہ! میرے گناہ برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، میرا دل گناہوں سے پاک کر دے جیسے تو نے سفید کپڑا گندگی سے صاف کیا ہے، اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری پیدا کر دے جیسے تو نے پورب اور پچھم کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) often used to say these words in his supplication: Allahumma, inni audhu bika min fitnatin-nari, wa adhabin-nari, wa fitnatil-qabri, wa adhabil-qabr, wa sharri fitnatil masihid-dajjal, wa sharri fitnatil-faqri, wa sharri fitnatil-ghina. Allahummaghsil khatayaya bimaith-thalji wal-baradi wa anqi qalbi minal-khataya kama anqaitath-thawbal-abyada min ad-danasi, wa baid baini wa baina khatayaya kama baadta bainal-mashriqi wal-maghrib. Allahumma inni audhu bika min al-kasali wal harami, wal mathami wal-maghram (O Allah, I seek refuge with You form the tribulation of the Fire and the torment of the Fire, from the tribulation of the grave and the torment of the grave, from the evil of the tribulation of the Al-Masihid-Dajjal, from the evils of the tribulation of poverty and from the evil of the tribulation of richness. O Allah, put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West. O Allah, I seek refuge in You from laziness, old age, sin and debt.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5466
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کہا کرتے تھے: اللہم إني أعوذ بک من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو (اللہ کے یہاں) قبول نہ ہو ۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to say: Allahumma inni audhu bika min al-arba: min ilmin la yanfau, wa min qalbin la yakhshau, wa min nafsin la tashbau, wa min duain la yusmau (O Allah, I seek refuge in You from four: From knowledge that is of no benefit, from a heart that is not humble, from a soul that is not satisfied and from a supplication that is not answered).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5467
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٠)، الدعاء ٢ (٣٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٩)، مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٦٥، ٤٥١)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٥٣٨ و ٥٥٣٩ (صحیح )