ام المؤمنین ام سلمہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ذی الحجہ کے مہینے کا چاند دیکھا پھر قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو وہ اپنے بال اور ناخن قربانی کرنے تک نہ لے ١ ؎۔
It was narrated from Ummm Salamah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever sees the new crescent of Dhul-Hijjah and wants to offer a sacrifice, let him not remove any of his hair or nails until he has offered the sacrifice.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4361
Notes · وضاحت
١ ؎: بال اور ناخن وغیرہ کچھ نہ کاٹے، جمہور کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نہ اپنے ناخن کترے اور نہ بال کٹوائے ۔
It was narrated that Amr bin Muslim said: "Ibn Al-Musayyab told me that Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him that the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his nails or cut his hair for the first ten days Dhul-Hijjah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4362
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہوجائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ١ ؎۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Whoever wants to offer a sacrifice when dhul-Hijjah begins, let him not remove anything from his hair or nails." I (the narrator) mentioned that to Ikrimah, and he said: "Should he not also keep away from women and perfume?
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4363
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٤٣٦٦ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” شریک القاضی “ حافظے کے کمزور ہیں )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے ۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "when the (first) ten (days of Dhul-Jijjah) begin, and one of you wants to offer a sacrifice, let him not remove anything from his hair or skin.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4364
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: مجھے قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ) کو عید منانے کا حکم ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید کا دن بنایا ہے ، وہ شخص بولا: اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کی قربانی کروں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی کے دن) ١ ؎ اپنے بال، ناخن کاٹو، اپنی مونچھ تراشو اور ناف کے نیچے کے بال کاٹو، تو یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری مکمل قربانی ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr bin al-As that the Messenger of Allah ﷺ said to a man: "I have been instructed to take the Day of Sacrifice as an Id which Allah, the Might and Sublime, has ordained for this Ummah." The man said: "What do you think if I cannot find anything but a female sheep that has been loaned to me so that I may benefit from its milk - should I sacrifice it?" He said: "No. Rather cut something from your hair and your nails, trim your mustache and shave your pubic hairs, and you will have a complete reward with Allah, the Might and Sublime, as if you had offered the sacrifice.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4365
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جاؤ، اور عید کی نماز پڑھ کر ان کو کاٹو تو تمہیں بھی مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ١ (٢٧٨٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٩)، مسند احمد (٢/١٦٩) (حسن) (شیخ البانی نے ” عیسیٰ بن ہلال صوفی “ کو مجہول قرار دے کر اس حدیث کی تضعیف کی ہے ۔ جب کہ عیسیٰ ب تحقیق ابن حجر ” صدوق “ ہیں دیکھئے ” أحکام العیدین للفریابی “ تحقیق مساعد الراشد حدیث رقم ٢ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ میں ہی (قربانی کا جانور) ذبح یا نحر کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Nafi that: Abdullah told him that the Messenger of Allah ﷺ used to offer the sacrifice at the prayer place.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4366
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں مدینہ میں عید گاہ کے اندر قربانی کرنے کی سہولت میسر تھی تو آپ نے ایسا کیا، اگر آج ایسی سہولت میسر ہو تو عید گاہ کے اندر ایسا کیا جاسکتا ہے، یہ کوئی واجب اور سنت نہیں کہ ہر حال میں ایسا ہی کیا جائے، اس زمانہ میں تو اب شاید کسی دیہات میں بھی یہ سہولت نہ ہو، شہروں میں تو اب ایسا ممکن ہی نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن مدینے میں اونٹ نحر (ذبح) کیا، اور جب آپ (اونٹ) نحر نہیں کرتے تو عید گاہ میں ذبح کرتے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that: the Messenger of Allah ﷺ offered the sacrifice obn the Day of Sacrifice in Al-Madinah. He said: "if he did not offer the Nahr (sacrifice a camel) he would have offered Dhabihah (Sacrificed a sheep) at the prayer place.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4367
جندب بن سفیان ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید الاضحی میں تھا، آپ نے لوگوں کو نماز عید پڑھائی، جب نماز مکمل کرلی تو آپ نے دیکھا کہ کچھ بکریاں (نماز سے پہلے ہی) ذبح کردی گئیں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: نماز عید سے پہلے جس نے ذبح کیا ہے اسے چاہیئے کہ وہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے ١ ؎۔
It was narrated that Jundub bin Sufyan said: "I attended (the day of) sacrifice with the Messenger of Allah ﷺ He led the people 9in prayer, then when he finished praying he saw some sheep that had been sacrificed. He said Whoever slaughtered (his sacrifice) before the prayer. Let him slaughtered (his sacrifice) before the prayer, let him slaughter a sheep in its place, and whoever has not slaughtered, let him offer a sacrifice in the name of Allah, the Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4368
Notes · وضاحت
١ ؎ واضح طور پر باب کے مطابق پچھلی حدیث ہے، مؤلف نے اس حدیث سے اس طرح استدلال کیا ہے کہ آپ ﷺ نے عید گاہ میں ذبح پر کچھ نہیں فرمایا: بلکہ صرف نماز عید سے پہلے ذبح کردیئے جانے پر اعتراض کیا۔
ابوالضحاک عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء ؓ سے کہا: مجھے بتائیے کہ کن کن جانوروں کی قربانی سے رسول اللہ ﷺ نے روکا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے (اور براء نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا) میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے، آپ نے فرمایا: چار طرح کے جانور جائز نہیں: ایک تو کانا جس کا کانا پن صاف معلوم ہو، دوسرا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، تیسرا لنگڑا جس کا لنگڑا پن صاف ظاہر ہو، چوتھا وہ دبلا اور کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔ میں نے کہا: مجھے یہ بھی ناپسند ہے کہ اس کے سینگ میں کوئی نقص عیب ہو یا اس کے دانت میں کوئی کمی ہو ١ ؎، انہوں نے کہا: جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو، لیکن تم کسی اور کو اس سے مت روکو۔
It was narrated that Abu Ad-Dahhak Ubaid bin Fairuz, the freed slave of Banu Shaiban, said: "IU said to Al-Bara bin Azib: Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah ﷺ disliked or forbade, He said: The Messenger of Allah ﷺ stood up, and my hands are shorter than his, and he said: "There are four that will not do as sacrifices: the animals that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious limp; and the animal that is so emaciated that it is as if three is no marrow in its bones." I said: "I dislike that the animals should have some fault in its horns or teeth He said;what you dislike, forget about it and do not make it forbidden to anyone.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4369
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد: سینگ یا دانت میں معمولی سی کمی ہے، اسی لیے اتنی کمی والے جانور کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو … ورنہ مذکورہ چاروں عیوب کی طرح کسی بھی بڑے عیب کی موجودگی میں جمہور کے نزدیک قربانی جائز نہیں جیسے آدھا سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو سینگ ٹوٹی ہوئی، پاؤں کٹا ہوا ہو، اندھا ہو، وغیرہ وغیرہ۔
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے کہا: مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کو کن کن جانوروں کی قربانی ناپسند تھی، یا آپ ان سے منع فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے (اور اس طرح انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے چھوٹا ہے) : چار جانوروں کی قربانی درست اور صحیح نہیں ہے: کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، اور دبلا اور کمزور جس میں گودا نہ ہو ، انہوں نے کہا: مجھے ناپسند ہے کہ اس جانور کے سینگ اور کان میں کوئی عیب ہو، انہوں نے کہا: جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو لیکن کسی اور کو اس سے مت روکو۔
Ubaid bin Fairuz said: "I said to Al-Bara bin Azib: Tell me of the sacrificial animals that the Messenger of Allah ﷺ dislike or forbade. He said: "The Messenger of Allah ﷺ gestured like this with his hand, and my hands are shorter than the hand of the Messenger of Allah ﷺ, (and he said). There are four that will not do as sacrifices: The animal that clearly has one bad eye: the sick animals that is obviously sick; the lame animal with an obvious lamp; and the animal that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones: He said: "And I dislike that the animal should have some fault in its horns or ears." He said: "What you dislike, forget about it, and do not make it forbidden to anyone.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4370
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور میری انگلیاں رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں، انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے آپ فرما رہے تھے: قربانی کے جانوروں میں یہ جانور جائز نہیں ہیں: کانا جس کا کانا پن صاف معلوم ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن واضح ہو، بیمار جس کی بیماری صاف ظاہر ہو رہی ہو اور دبلا اور کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔
It was narrated from Ubaid bin Fairuz thatAl; -Bara bnin Azib said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say" - and he gestured with his fingers, but his fingers were shorter than the fingers of the Messenger of Allah ﷺ - he said "It is not permissible to offer as a sacrifice an animal that clearly has one bad eye, a lame animal that is obviously lame, as sick animal that is obviously sick, or an animals that is so emaciated that it is as if there is no marrow in its bones.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4371
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لیں اور کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ دم کٹے جانور کی، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہوں۔
It was narrated that Ali (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to examine the eyes and ears (of animals), and not to sacrifice and animals with its ears slit from the front, and animal with its ears slit form the back, a animal with its tail cut, nor an animals with a round hole in its ear.
سنن ابی داود/الضحایا ٦ (٢٨٠٤)، سنن الترمذی/الضحایا ٦(١٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٨ (٣١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢٥)، مسند احمد (١/٨٠، ١٠٨، ١٢٨، ١٤٩)، سنن الدارمی/الأضاحی ٣(١٩٩٥)، ویأتی فیما یلی: ٤٣٧٨-٤٣٨٠ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ مختلط اور مدلس ہیں، نیز ” شریح “ سے ان کا سماع نہیں ہے، اس لیے سند میں انقطاع بھی ہے، مگر مطلق کان ناک دیکھ بھال کرلینے کا حکم صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر ٤٣٨١، اور حاشیہ نمبر حدیث ٤٣٧٤ )
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے (جانوروں کے) آنکھ اور کان دیکھ لینے کا حکم دیا، اور یہ کہ ہم کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جو کانا ہو، جس کا کان سامنے سے کٹا ہو، یا جس کا کان پیچھے سے کٹا ہو، اور نہ کسی ایسے جانور کی جس کے کان چرے ہوئے ہوں، اور نہ ایسے جانور کی جس کے کان میں سوراخ ہو۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded us to examine the eyes and ears (of animals) and not to Sacrifice and animal with a bad eye, nor an animal with its ears slit from the front, nor an animals with its ears slit form the back, nor an animal with a round hole in its ear.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4373
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔
It was narrated that Ali bin Abi Talib, may Allah be please with him, said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade sacrificing an animals with its ears slit form the front, and animals with its ears slit form the back, and animal with its ears slit lengthwise, an animals with a round hole in tits ear, or an animals with its nose cut off.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4374
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے ۔
It was narrated from Ali bin Abi Talib, may Allah be please wityh him, that the Messenger of Allah said: "Do not sacrifice and animal with its ears slit from the front, and animal with its ears slit from the back, an animals with its ears slit lengthwise, and animal with a round hole in its ears, or an animal with one bad eye.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4375
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ ٹوٹے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (راوی قتادہ کہتے ہیں) : میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو ١ ؎۔
Ali said: "Messenger of Allah ﷺ forbade us from sacrificing an animal with a broken horn." I (the narrator) mentioned that to Saeed bin Al_Musayyab and he said: "Yes, m unless half or more of the horn is missing.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4377
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کا قول قتادہ نے نقل کیا ہے اور قتادہ مدلس ہیں لیکن انہوں نے سعید بن المسیب سے اپنی بات نقل کی ہے تو اس طرح حدیث بیان کرنے کی صراحت کردی ہے، اس لیے سعید بن المسیب کے قول کی روایت صحیح ہے اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی جائز نہ ہونے کی بات اس جانور کے بارے میں ہے جس کا سینگ آدھے سے زیادہ ٹوٹا ہو، نیز دیکھئیے حاشیہ حدیث نمبر: ٤٣٧٤۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الضحایا ٦(٢٨٠٥)، سنن الترمذی/الضحایا ٩(١٥٠٤)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٨(٣١٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣١)، مسند احمد (١/٨٣، ١٠١، ١٠٩، ١٢٧، ١٢٩، ١٣٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” جری “ لین الحدیث ہیں، لیکن سعید بن المسیب کے قول کی سند صحیح ہے کیونکہ اس میں ” جری “ نہیں ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صرف مسنہ ذبح کرو سوائے اس کے کہ اس کی قربانی تم پر گراں اور مشکل ہو تو تم بھیڑ میں سے جذعہ ذبح کر دو ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not slaughter anything but a Musinnah, unless that is difficult, in which case you can slaughter a Jadhah sheep.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4378
Notes · وضاحت
١ ؎: مُسِنّہ: وہ جانور ہے جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، اور یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں داخل ہوگیا ہو، اور گائے اور بیل میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہوگئے ہوں، اور بکری اور بھیڑ میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ ایک سال پورا کر کے دوسرے میں داخل ہوجائیں، اور جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہوچکا ہو، (محققین اہل لغت اور شارحین حدیث کا یہی صحیح قول ہے، دیکھئیے مرعاۃ شرح مشکاۃ المصابیح) لیکن یہاں مسنہ سے مراد مسن ۃ من المعز (یعنی دانت والی بکری) مراد ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں جذع ۃ من الضان (ایک سال کا دنبا) لایا گیا ہے، یعنی: دانت والی بکری ہی جائز ہے، جس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ چکے ہوں ایک سال کی بکری جائز نہیں، ہاں اگر دانت والی بکری میسر نہ ہو تو ایک سال کا دنبہ جائز ہے۔
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے بکریاں دیں، صرف ایک سال کی بکری بچ رہی۔ اس کا ذکر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ تو آپ نے فرمایا: تم اسے ذبح کرلو ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amair that: the Messenger of Allah ﷺ gave him some sheep to distribute among his Companions. A small goat was left over and he mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ. He said: "Sacrifice it yourself.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4379
Notes · وضاحت
١ ؎: عتود ایک سال کی بکری کو کہتے ہیں۔ جذعہ بھی اسی معنی میں ہے، پس اگلی دونوں روایتوں میں جو جذعہ کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے جذع ۃ من المعز یعنی بکری کا ایک سالہ بچہ۔ نبی اکرم ﷺ نے عقبہ یا ابوبردہ ؓ کو مجبوری کے تحت ایک سال کی بکری کی اجازت خصوصی طور سے دی تھی ورنہ قربانی میں اصل دانتا ہوا جانور ہی جائز ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ٤٢٨٣ میں گزرا۔ ٢ ؎: تم اسے ذبح کرلو یعنی صرف تمہارے لیے جائز ہے۔
عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، میرے حصے میں ایک جذعہ آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے حصے میں تو ایک جذعہ آیا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اسی کی قربانی کرلو ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir that: the Messenger of Allah ﷺ divided some sacrificial animals among his Companions, and I got a Jadhah sheep. I said: O Messenger of Allah, I got a Jadhah sheep. He said: Sacrifice it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4380