جابر ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن ہم نے گھوڑوں اور نیل گائے کا گوشت کھایا، اور ہمیں نبی اکرم ﷺ نے (گھریلو) گدھے (کے گوشت کھانے) سے منع فرمایا۔
It was narrated that Jabir said: "On the Day of Khaibar we ate the flesh of horses, and onagers, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade us (from eating) donkeys."(sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4343
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٢ (٣١٩٢)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٠)، مسند احمد (٣/٣٢٢) (صحیح )
عمیر بن سلمہ ضمری ؓ کہتے ہیں کہ اس دوران جب کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ روحاء کے پتھروں میں چل رہے تھے اور لوگ احرام باندھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک زخمی نیل گائے ملی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ممکن ہے اسے زخمی کرنے والا آئے ، اتنے میں قبیلہ بہز کا ایک شخص آیا، اسی نے اس کو زخمی کیا تھا، وہ بولا: اللہ کے رسول! آپ اس نیل گائے کو لے لیجئے تو آپ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیں۔
It was narrated that Umair bin Salamah Ad-Damri said: "While we were traveling with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in part of Athaya Ar-Rawha and they were in Ihram, we saw a wounded onager, the Messenger of Allah ﷺ said: "Leave it, for soon the one who wounded it will come, then a man from Bahz came, and he was the one who had wounded the onager. He said: O Messenger of Allah, it is up to you what you do with this onager, The Messenger of Allah ﷺ ordered Abu Bakr to distribute it among the people.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4344
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک نیل گائے شکار کیا اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے کر آئے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے اور میں حلال (یعنی احرام سے باہر) تھا تو ہم نے اس میں سے کھایا، پھر ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے سے کہا: ہم اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا، چناچہ ہم نے آپ ﷺ سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر فرمایا: کیا تم لوگوں کے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ہمیں بھی دو ، تو ہم اس میں سے کچھ گوشت آپ کے پاس لے آئے، آپ نے اس میں سے کھایا حالانکہ آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
It was narrated that from Ibn Abi Qatadah, from Abu Qatadah, that: he caught an onager and brought it to his companions who were in Ihram whereas he was not, and they ate from it. Then they said to one another: "Let us ask the Messenger of Allah ﷺ about it," So we asked him and he said:" You did well" Then he said to us: "Do you have anything left of it?" We said: "Yes." He said: "Give us some "So we brought him some, and he ate from it, while he was in Ihram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4345
زہدم سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ ؓ کے پاس ایک مرغی لائی گئی تو لوگوں میں سے ایک شخص وہاں سے ہٹ گیا، ابوموسیٰ اشعری ؓ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ وہ بولا: میں نے اسے دیکھا کہ وہ کوئی چیز کھا رہی تھی تو میں نے اس کو گندہ سمجھا اور قسم کھالی کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا، ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: قریب آؤ اور کھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے، اور اسے حکم دیا کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
It was narrated from Zahdam that: some chicken was brought to AbuMusa and a man moved away form the people. He said: "What is the matter with You?" He said: "I saw it eating something that I consider filthy, and I swore I would not eat it." Abu Musa said: "Come and eat, for I saw the Messenger of Allah ﷺ eating it." And he told him to offer expiation for his vow (Kafarat Al- Yamin)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4346
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ اشعری ؓ کے پاس تھے، اتنے میں انہیں ان کا کھانا پیش کیا گیا اور ان کے کھانے میں مرغی کا گوشت پیش کیا گیا، لوگوں میں بنی تیم کا ایک سرخ آدمی تھا جیسے وہ غلام ہو ١ ؎، وہ کھانے کے قریب نہیں آیا، اس سے ابوموسیٰ ؓ نے کہا: قریب آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے کھاتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Zahadam Al-Jarmi said: "We were with Abu Musa and His food was brought, including chicken. Among the people there was a man from banu Taimullah who had reddish complexion, as if he were a freed slave. He did not come close and Abu Musa said: "Come (and eat) for I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) eating it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4347
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ عام طور پر غلام عجمی ہوتے ہیں جو رومی یا ایرانی اور ترکی ہوتے تھے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا۔
It was narrated from Ibn Abbas that: on the Day of Khaibar, the Prophet of Allah forbade eating any birds with talons and any predators with fangs. (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4348
Notes · وضاحت
١ ؎: اور چونکہ مرغی ان میں سے نہیں ہے اس لیے حلال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٣ (٣٨٠٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٣ (٣٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٤)، مسند احمد (١/ ٣٣٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no person who kills a small bird or anything larger for no just reason, but Allah, the Mighty and Sublime, will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah ﷺ, what does just reason; mean? Her said: "That you slaughter it and eat it, and do not cut off its head and throw it aside.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4349
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث) ۔
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سمندر کے پانی کے سلسلے میں فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (said), concerning the water of the sea: "Its water is pure (and Purification) and its dead meat is permissible (to eat).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4350
Notes · وضاحت
١ ؎: سمندر کا مردار حلال ہے اس سے مراد سمندر کے وہ حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مرگئے اور سمندر نے ان کو ساحل کی طرف بہا دیا ہو اسی کو قرآن میں: أحل لکم صيد البحر وطعامه (المائدة: 96) میں طعام سے مراد لیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ کہلاتا ہے جو خشکی میں زندگی نہ گزار سکے جیسے مچھلی۔ مچھلی کی تمام اقسام حلال ہیں، دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں اگر کسی جانور کا نص شرعی سے نبی اکرم ﷺ یا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کھانا ثابت نہیں ہے، جبکہ وہ جانور ان کے زمانہ میں موجود تھا تو اس کے نہ کھانے کے بارے میں ان کی اقتداء ضروری ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ نے (سریہ فوجی ٹولی میں) بھیجا، ہم تین سو تھے، ہم اپنا زاد سفر اپنی گردنوں پر لیے ہوئے تھے، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کے حصے میں روزانہ ایک کھجور آتی تھی، عرض کیا گیا: ابوعبداللہ! اتنی سی کھجور آدمی کا کیا بھلا کرے گی؟ انہوں نے کہا: ہمیں اس کا فائدہ تب معلوم ہوا جب ہم نے اسے بھی ختم کردیا، پھر ہم سمندر پر گئے، دیکھا کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے، تو ہم نے اسے اٹھارہ دن تک کھایا۔
It was narrated that Jabir bin Abdulah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent us, a group of three hundred, and we carried our provision on our mounts. Our supplies ran our until each man of us had one date per day." It was said to him: "O AbuAbdullah , what good is one date for a man? He said: "When we ran out of dates it became very difficult for us. Then we found a whale that had been cast ashore by the sea. And we ate from it for eighteen days.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4351
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا۔ ہمارے امیر ابوعبیدہ بن جراح ؓ تھے، ہم قریش کی گھات میں تھے، چناچہ ہم سمندر کے کنارے ٹھہرے، ہمیں سخت بھوک لگی یہاں تک کہ ہم نے درخت کے پتے کھائے، اتنے میں سمندر نے ایک جانور نکال پھینکا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ہم نے اسے آدھے مہینہ تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا، تو ہمارے بدن صحیح ثابت ہوگئے، ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ایک پسلی لی پھر فوج میں سے سب سے لمبے شخص کو اونٹ پر بٹھایا، وہ اس کے نیچے سے گزر گیا، پھر ان لوگوں کو بھوک لگی، تو ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کئے، پھر ابوعبیدہ ؓ نے اسے روک دیا، (سفیان کہتے ہیں: ابوالزبیر جابر ؓ سے روایت کرتے ہیں) ، پھر ہم نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: کیا اس کا کچھ بقیہ تمہارے پاس ہے؟ پھر ہم نے اس کی آنکھوں کی چربی کا اتنا اتنا گھڑا (بھرا ہوا) نکالا اور اس کی آنکھ کے حلقے میں سے چار لوگ نکل گئے، ابوعبیدہ کے ساتھ ایک تھیلا تھا، جس میں کھجوریں تھیں وہ ہمیں ایک مٹھی کھجور دیتے تھے پھر ایک ایک کھجور ملنے لگی، جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں اس کے نہ ملنے کا احساس ہوا ١ ؎۔
It was narrated that Amr said: "I heard Jabir say: The Messenger of Allah ﷺ sent us, three hundred riders led by "Ubaidah bin al-Jarrah, to lie in wait for the caravan of the Quraish. We stayed on the coast and became very hungry, so much so that we ate Khabat. Then the sea cast ashore a beast called (Al-Anbar), and we ate from it for half a month, and daubed our bodies with its fat, and our health was restored. Abu Ubaidah took one it its ribs and looked for the tallest camel man and the tallest man in the army, and he passed beneath it. Then they got hungry again and a man slaughtyered three camels, the they got hungry and a man slaughtered three camels, then they got hungry and a man slaughtered three camels, then they got hungry and a man slaughtered three camels. Then Abu Ubaidah told him not to do that."(One of the narrators) Sufyan said:"Abu Az-Zubair said, narrating form Jabir: "We asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Do you have anything left of it?" he said; "We took out, such-and -such an amount of a fat from its (the whales) eyes, and four men could fit into its eye socket. Abu Ubaidah had a sack of dates and he used to give them out by the handful, then he started to give one date at a time, and when we ran our of dates it became very difficult for us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4352
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ ؓ کے ساتھ ایک سریے (فوجی مہم) میں بھیجا، ہمارا زاد سفر ختم ہوگیا، ہمارا گزر ایک مچھلی سے ہوا جسے سمندر نے باہر نکال پھینکا تھا۔ ہم نے چاہا کہ اس میں سے کچھ کھائیں تو ابوعبیدہ ؓ نے ہمیں اس سے روکا، پھر کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے نمائندے ہیں اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں، تم لوگ کھاؤ، چناچہ ہم نے کچھ دنوں تک اس میں سے کھایا، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو ہم نے آپ کو اس کی خبر دی، آپ نے فرمایا: اگر تمہارے ساتھ (اس میں سے) کچھ باقی ہو تو اسے ہمارے پاس بھیجو ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sent us with Abu Ubaidah on a campaign. Our supplies ran out. Then we passed by a whale that had been cast ashore by the sea. We wanted to eat form it, but Abu; Ubaidah told us not to then he said: We are the envoys of the Messenger of Allah ﷺ for the sake of Allah So eat So we ate form it for several days. When we came to the Messenger of Allah we told him about that and he said: If you have anything left of it then send it to us.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4353
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا کہ آپ ﷺ نے اس کو حلال قرار دیا تبھی تو اس میں سے طلب فرمایا۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ ؓ کے ساتھ (ایک فوجی مہم میں) بھیجا، ہم تقریباً تین سو دس لوگ تھے، ہمیں توشہ کے بطور کھجور کا ایک تھیلا دیا گیا، وہ ہمیں ایک ایک مٹھی دیتے، پھر جب ہم اکثر کھجوریں کھاچکے تو ہمیں ایک ایک کھجور دینے لگے، یہاں تک کہ ہم اسے اس طرح چوستے جیسے بچہ چوستا ہے اور اس پر پانی پی لیتے، جب وہ بھی ختم ہوگئی تو ہمیں ختم ہونے پر اس کی قدر معلوم ہوئی، نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور اسے چبا کر پانی پی لیتے، یہاں تک کہ ہماری فوج کا نام ہی جیش الخبط (یعنی پتوں والا لشکر) پڑگیا، پھر جب ہم سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ٹیلے کی طرح ایک جانور پڑا ہوا پایا جسے عنبر کہا جاتا ہے، ابوعبیدہ ؓ نے کہا: مردہ ہے مت کھاؤ، پھر کہا: رسول اللہ ﷺ کا لشکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے اور ہم مجبور ہیں، اللہ کا نام لے کر کھاؤ، چناچہ ہم نے اس میں سے کھایا اور کچھ گوشت بھون کر سکھا کر رکھ لیا، اس کی آنکھ کی جگہ میں تیرہ لوگ بیٹھے، ابوعبیدہ ؓ نے اس کی پسلی لی پھر کچھ لوگوں کو اونٹ پر سوار کیا تو وہ اس کے نیچے سے گزر گئے، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ ہم نے عرض کیا: ہم قریش کے قافلوں کا پیچھا کر رہے تھے، پھر ہم نے آپ سے اس جانور (عنبر مچھلی) کا معاملہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخشا ہے، کیا اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ sent us with Abu Ubaidah and we numbered over three hundred men. He supplied us with a sack of dates and gave them out by the handful. When he ran short, he gave us one date at a time, until we used to suck on it like an infant, and we would drink water with it. When we ran out of them it became very difficult for us. We used to hit the Khabat leaves with our bows to knock them down) and swallow them, then drink water with it. We became known as Jaish Al-Khabat (the Khabat army). Then, when we were about to turn inland, we saw a beast like a hill, caloled Al-Anbar. Abu Ubaidah said: It is dead meat, do not eat it. Then he said: The army of the Messenger of Allah ﷺ in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, and we are forced by necessity; eat in the name of Allah. So we arte from it and we made some if it into jerked meat. Thirteen men could sit in its eye-socket. Abu Ubaidah took one of its ribs and seated a man on the biggest camel that the people had, and they passed beneath it. When we came to the Messenger of Allah ﷺ, he said: What kept you so long? We said: The Quraish and we told him about the beast. He said: That is provision that Allah granted to you. Do you have anything of it with you? "We said: Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4354
عبدالرحمٰن بن عثمان ؓ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Uthman that: a physician made mention of the use of frogs in a remedy in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and the Messengher of Allah forbade killing them. (sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4355
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے مینڈک کو مار کر دوا میں استعمال کرنے سے روکا، کیونکہ یہ نجس و ناپاک ہے اور ناپاک چیزوں سے علاج حرام ہے، نیز مینڈک کو مارنے سے روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ کھانے کے لیے بھی قتل کرنا پڑتا ہے۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات جنگیں کیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔
It was narrated from Abu Ya fur that he heard Abdullah bin Abi Awfa says: "We went on seven campaigns with the Messenger of Allah ﷺ and we used to eat locusts.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4356
ابویعفور کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے ٹڈی کے مارنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھ جنگیں کی ہیں، ہم (ان میں) ٹڈی کھاتے تھے۔
It was narrated that Abuy ya fur said: "I asked Abdullah bin Abu Awfa about killing locusts and he said: I went on six campaigns with the Messenger of Allah ﷺ hand we ate locusts.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4357
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: اگر تمہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو (ایک ہی کو مارتے مگر) تم نے ایک ایسی امت (مخلوق) کو مار ڈالا جو (ہماری) تسبیح (پاکی بیان) کر رہی تھی ١ ؎۔
Was narrated from Abu Hurairah from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "An ant bit one of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s, and he ordered that the ant nest be burned. Then Allah revealed to him: "One ant bit you, and you destroyed one of the nations that glorify Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4358
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نبی کی شریعت میں کاٹنے والی چیونٹی کو جلانا جائز تھا مگر اسلامی شریعت میں جلانا جائز نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٦ (٥٢٦٦)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٠(٣٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٠٧، ١٣٣١٩)، مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کے گھروں کے بارے میں حکم دیا تو ان میں جو بھی تھا اسے جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی: آخر تم نے صرف ایک کو کیوں نہ جلایا ۔ اشعث کہتے ہیں: ابن سیرین سے روایت ہے وہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ زائد ہے اس لیے کہ وہ تسبیح (اللہ کی پاکی بیان) کر رہی تھیں ۔
It was narrated from al-Hasan: "One of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s stopped beneath a tree and an ant bit him, so he gave instructions that their nest be burned with all the ants inside it. Then Allah revealed to him" Why did you not punish just one ant?" Al-Ash ath said: "A similar report was narrated from Ibn Sirin, from Abu Hurairah, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), in which were added the words: for they glorify Allah.
صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4359
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢٢٥٧، ١٤٤٠٤)، ویأتي عند المؤلف: ٤٣٦٦) (صحیح) (حدیث اور حسن بصری کا اثر دونوں صحیح ہیں )