مینڈک سے متعلق احادیث
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ: أَنَّ طَبِيبًا ذَكَرَ ضِفْدَعًا فِي دَوَاءٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهِ.
عبدالرحمٰن بن عثمان ؓ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ ﷺ کے پاس دوا میں مینڈک کا تذکرہ کیا تو آپ نے اسے مار ڈالنے سے روکا ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Uthman that: a physician made mention of the use of frogs in a remedy in the presence of the Messenger of Allah ﷺ and the Messengher of Allah forbade killing them. (sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4355
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے مینڈک کو مار کر دوا میں استعمال کرنے سے روکا، کیونکہ یہ نجس و ناپاک ہے اور ناپاک چیزوں سے علاج حرام ہے، نیز مینڈک کو مارنے سے روکنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ کھانے کے لیے بھی قتل کرنا پڑتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ١١ (٣٨٧١)، الأدب ١٧٧ (٥٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٠٦)، مسند احمد (٣/٤٥٣، ٤٩٩)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢٠٤١) (صحیح )