شکار اور ذبیحوں سے متعلق

Sunan An Nasai · Chapter 42 · 98 hadiths · Page 4 of 5

4328Sunan An Nasai

بجو سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ ؟ فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، فَقُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: نَعَمْ.

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا، میں نے کہا: کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں ۔

It was narrated that Ibn Abi Ammar said: "I asked Jabir bin Abdullah about hyenas and he told me to eat them. I said: Are they game that can be hunted)? He said: Yes, I said: Did you hear that form the Messenger of Allah ﷺ He said: Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4323
Notes · وضاحت
١ ؎: ضبع: ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سربڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع اضبع ہے (المعجم الوسیط: ٥٣٣-٥٣٤ ) ہند و پاک میں اس درندے کو لکڑ بگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیئے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو مضبعہ یا مجفرہ کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکار کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے ضبع کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں: فارسی زبان میں اسے کفتار اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ ضبع سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑ بگڑ کھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور ضبع سے مراد لکڑ بگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں ضبع کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحیدالزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہوگا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے، سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑ بگھا ہی ضبع کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیر پھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے: کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے: شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑ بگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے (صحیح مسلم و موطا امام مالک)۔ لکڑ بگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑ بگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر ؓ کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر ٤/١٥٢ )، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑ بگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے: قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربک غفور رحيم (سورة الأنعام: 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑ بگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: ٥/١٣٣-١٣٤ ) ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٣٩ (صحیح )
4329Sunan An Nasai

درندوں کی حرمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ ذِي نَابَ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی دانت (سے پھاڑے) والا درندہ ہو، اسے کھانا حرام ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Every predator possessing fangs is forbidden to eat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4324
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً شیر، چیتا، بھیڑیا اور کتا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٣ (٣٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٢) وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٧٩)، موطا امام مالک/الصید ٤ (١٤)، مسند احمد (٢/٤١٨) (صحیح )
4330Sunan An Nasai

درندوں کی حرمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Abu Tha labah Al-Khushani that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade eating any predator that has fangs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4325
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٩ (٥٥٣٠)، الطب ٥٧ (٥٧٨٠)، صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٢)، سنن ابی داود/الأطعمة ٣٣ (٣٨٠٢)، سنن الترمذی/الصید ١١ (١٧٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصید ١٣(٣٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٤)، مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤، ١٩٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٨(٢٠٢٤)، ویأتي فیما یلي و برقم: ٤٣٤٧ (صحیح )
4331Sunan An Nasai

درندوں کی حرمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ النُّهْبَى، وَلَا يَحِلُّ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ.

ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور مجثمہ حلال نہیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Thalabah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wealth taken by force is (not permissible), any predator that has fangs is not permissible, and any animal used for target practice is not permissible.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4326
Notes · وضاحت
١ ؎: مجثمہ ہر وہ جانور جسے باندھ کر اس پر تیر وغیرہ چلایا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٨٦٥)، مسند احمد (٤/١٩٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٤٤٣) (صحیح )
4332Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى، وَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ فِي الْخَيْلِ.

جابر ؓ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah ﷺ forbade the flesh of donkeys but he permitted the flesh of horses.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4327
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی جمہور علماء کا مسلک ہے اور یہی صحیح ہے، حنفیہ گھوڑے کے گوشت کو حرام کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٣٢١٩)، الصید ٢٧ (٥٥٢٠)، ٢٨ (٥٥٢٤)، صحیح مسلم/الصید ٦ (١٩٤١)، سنن ابی داود/الأطعمة ٢٦ (٣٧٨٨)، ٣٤ (٣٨٠٨)، سنن الترمذی/الأطعمة ٥ (١٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٣٩)، مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٥٦، ٣٦١، ٣٦٢، ٣٨٥)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٢ (٢٠٣٦) (صحیح )
4333Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے کا گوشت کھلایا ١ ؎ اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ allowed us to eat the flesh or horses but he forbade the flesh of donkeys.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4328
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: کھانے کی اجازت دی، جیسا کہ پچھلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٥ (١٧٩٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٩) (صحیح )
4334Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ. وعَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ خیبر کے دن ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلانا اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Jabir said: " On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed us to eat the flesh of horses but he forbade us from the flesh of donkeys.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4329
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٤٢٣، ٢٥٠٨، ٢٦٨٨) (صحیح )
4335Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے۔

It was narrated that Jabir said: "We used to eat horse meat during the time of the Messenger of Allah ﷺ.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4330
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٤ (٣١٩٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٠)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٣٣٨) (صحیح )
4336Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت حرام ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ أَكْلُ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ.

خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑے، خچر اور گدھے کا گوشت کھانا حلال نہیں ۔

It was narrated from Khalid bin al-walid that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "It is not permissible to eat the flesh of horses, mules or donkeys.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4331
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٢٦ (٣٧٩٠)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٤ (٣١٩٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٠٥)، مسند احمد (٤/٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” صالح بن یحییٰ “ ضعیف، اور ان کے باپ ” یحییٰ “ مجہول الحال ہیں )
4337Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت حرام ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ.

خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے گھوڑے، خچر اور گدھے اور دانت والے ہر درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Khalid bin Al-Walid that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the flesh of horses, mules and donkeys, and any predator that has fangs.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4332
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
4338Sunan An Nasai

گھوڑے کا گوشت حرام ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ، قُلْتُ: الْبِغَالَ ؟، قَالَ: لَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑوں کا گوشت کھاتے تھے، عطاء کہتے ہیں: میں نے کہا: خچر؟ کہا: نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ata, that Jabir said: We used to eat horseflesh. ": I said: "And mules?" He said: "No.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4333
Notes · وضاحت
١ ؎: امام نسائی نے پہلے گھوڑے کی حلت سے متعلق باب میں صحیح احادیث کی تخریج کی پھر اس کی حرمت سے متعلق باب میں دو حدیث ذکر کی، جس کی سند میں دو ضعیف راوی ہیں، اور آخر میں جابر ؓ کے اس اثر کو ذکر کر کے اس بات کو راجح قرار دیا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٣٥ (صحیح )
4339Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِالْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ.

علی ؓ نے ابن عباس ؓ سے کہا: نبی اکرم ﷺ نے خیبر کے دن نکاح متعہ ١ ؎ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔

It was narrated from Al- Hasan bin Muhammad, and Abdullah bin Muhammad that their father said: "Ali said to IbnAbbas (RA): The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Mutah marriage, and the flesh of domesticated donkeys on the Day of Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4334
Notes · وضاحت
١ ؎: نکاح متعہ یعنی وقتی نکاح جو جاہلیت میں کچھ پیسوں کے بدلے کیا جاتا تھا، شروع اسلام میں یہ حلال تھا، پھر جنگ خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔ اس حدیث میں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ شیعہ متعہ کو اب بھی حلال مانتے ہیں جب کہ آخری ممانعت کی حدیث علی ؓ ہی سے ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣٦٧ (صحیح )
4340Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَمَالِكٌ، وَأُسَامَةُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت (کھانے) سے منع فرمایا۔

It was narrated from Al-Hasan bin Muhammad, and Abdullah bin Muhammad, from their father, that Ali bin Abi Talib may Allah be please with him, said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Mutah and the flesh of domesticated donkeys on the Day of Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4335
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٣٦٧ (صحیح )
4341Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَايَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں سے منع فرمایا۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade (the flesh of) domesticated donkeys on the Day of Khaibar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4336
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصید ٢٨ (٥٥٢١)، صحیح مسلم/الصید ٥ (٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٨١٠٩، ٨١٧٤)، مسند احمد (٢/٢١، ١٠٢، ١٤٣، ١٤٤) (صحیح )
4342Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: خَيْبَرَ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں، اس میں انہوں خیبر کا ذکر نہیں کیا۔

Narrated from Ibn Umar: A similar report was narrated from Ibn Umar, but he did not mention Khaibar.

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4337
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢١٨)، الصید ٢٨ (٥٥٢١)، صحیح مسلم/الصید ٥ (١٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ٨١١٦، ٦٧٦٩) (صحیح )
4343Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ نَضِيجًا، وَنِيئًا.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت (پکا ہوا ہو یا غیر پکا ہوا) سے منع فرمایا۔

It was narrated that Al-Bara said: "On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the flesh of domesticated donkeys, cooked or raw.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4338
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢٢٦)، الصید ٢٨ (٥٥٢٥)، صحیح مسلم/الصید ٥ (١٩٣٨)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٣ (٣١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠)، مسند احمد (٤/٢٩٧) (صحیح )
4344Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَاهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ، فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا، فَأَكْفَأْنَاهَا.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن ہم نے گاؤں سے باہر کچھ گدھے پکڑ کر پکائے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی کہ رسول اللہ ﷺ نے (گھریلو) گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم لوگ ہانڈیاں الٹ دو، چناچہ ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔

It was narrated that Abdullah bin Awfa said: "On the Day of khaiber we caught some donkeys outside the village and we cooked them. Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: The Messenger of Allah ﷺ has forbidden the flesh of donkeys, so turn over your cooking pots with whatever is in them. So we turned them over.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4339
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ٢٠ (٣١٥٥)، المغازي ٣٨ (٤٢٢٠)، الصید ٢٨ (٥٥٢٦)، صحیح مسلم/الصید ٥ (١٩٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥١٦٤)، مسند احمد (٤/٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٨١) (صحیح )
4345Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَخَرَجُوا إِلَيْنَا وَمَعَهُمُ الْمَسَاحِي، فَلَمَّا رَأَوْنَا، قَالُوا: مُحَمَّدٌ، وَالْخَمِيسُ، وَرَجَعُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، فَأَصَبْنَا فِيهَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کے وقت خیبر پہنچے اور وہ سب (خیبر والے) ہماری طرف نکلے تھے، ان کے ساتھ کدال (بیلچے) تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور فوج، اور جلدی جلدی واپس قلعے میں چلے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: اللہ أكبر اللہ أكبر، خیبر کا برا ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں تنبیہ کی جا چکی ہے ، وہاں کچھ گدھے ملے جنہیں ہم نے پکایا، اتنے میں نبی اکرم ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں اس لیے کہ یہ (یعنی گوشت) رجس (ناپاک) ہے۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: Muhammad and the army! And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah ﷺ raised his hands, then he said: Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) called out: Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4340
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٦٩، و ٥٤٨، و ٣٣٨٢ (صحیح )
4346Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، وَالنَّاسُ جِيَاعٌ، فَوَجَدُوا فِيهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْإِنْسِ، فَذَبَحَ النَّاسُ مِنْهَا، فَحُدِّثَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ: أَلَا إِنَّ لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِ، لَا تَحِلُّ لِمَنْ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ (صحابہ کرام) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کے لیے خیبر گئے، لوگ بھوکے تھے، انہیں وہاں گھریلو گدھوں میں سے کچھ گدھے مل گئے، لوگوں نے ان میں سے کچھ ذبح کیے۔ اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: سنو! پالتو گدھوں کا گوشت اس شخص کے لیے حلال نہیں جو گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Abu ThaAabah Al-Khushani that: they went on a military campaign with the Messenger of Allah ﷺ to Khaibar, and the people were starving. They found some domesticated donkeys there, so the people slaughtered some of them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was told about that, and he ordered Abdur-rahman bin Awf to announce to the people: "The flesh of domesticated donkeys is not permissible for the one who testifies that I am the Messenger of Allah ﷺ.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4341
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسلمان کے لیے گدھا کا گوشت کھانا حلال نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٨٦٦) (صحیح) (اس کے راوی ” بقیہ “ ضعیف ہیں، مگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے )
4347Sunan An Nasai

بستی کے گدھوں کے گوشت کھانے سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْن عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانت (سے پھاڑ نے) والے تمام درندوں اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

It was narrated from Abu Thalabah Al-khushani that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating any -predator with fangs, and the flesh of domesticated donkeys.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4342
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٣٠ (صحیح )