درندوں کی حرمت سے متعلق
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ النُّهْبَى، وَلَا يَحِلُّ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ، وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ.
ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوٹا ہوا مال حلال نہیں، دانت (سے پھاڑنے) والا درندہ حلال نہیں، اور مجثمہ حلال نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Thalabah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Wealth taken by force is (not permissible), any predator that has fangs is not permissible, and any animal used for target practice is not permissible.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4326
Notes · وضاحت
١ ؎: مجثمہ ہر وہ جانور جسے باندھ کر اس پر تیر وغیرہ چلایا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٨٦٥)، مسند احمد (٤/١٩٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٤٤٣) (صحیح )