قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 43 · 88 hadiths · Page 2 of 5

4386Sunan An Nasai

قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ أَضَاحِيَّ، فَأَصَابَنِي جَذَعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَذَعَةٌ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهَا.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے، تو مجھے ایک جذعہ ملا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے تو ایک جذعہ ملا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اسی کی قربانی کرو ۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: "The Messenger of Allah ﷺ divided some sacrificial animals among his Companions, and I got a Jadhah sheep. I said: O Messenger of Allah, I got a Jadhah sheep. He said: Sacrifice it.

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4381
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4387Sunan An Nasai

قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جذعہ یعنی ایک سال کی بھیڑ کی قربانی کی ١ ؎۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: We sacrificed a Jadhah sheep with the Messenger of Allah ﷺ.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4382
Notes · وضاحت
١ ؎: اولاً تو اس کے راوی معاذ بن عبداللہ بذات خود صدوق ہونے کے باوجود روایت میں وہم کا شکار ہوجایا کرتے تھے، تو ممکن ہے کہ جذع ۃ من المعز یا صرف جذع ۃ ہو اور انہوں نے وہم سے جذع ۃ من الضان کردیا ہو، ثانیاً: ہوسکتا ہے کہ یہ مجبوری کی صورت میں ہو، بہرحال بعض علماء اس حدیث اور اگلی دونوں حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے بغیر مجبوری کے بھی ایک سالہ دنبہ کی قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں اور مسنہ والی حدیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٩٦٩) (صحیح )
4388Sunan An Nasai

قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الْأَضْحَى، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَشْتَرِي الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ لَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ هَذَا الْيَوْمُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ.

کلیب کہتے ہیں کہ ہم سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا وقت آگیا، تو ہم میں سے کوئی دو دو یا تین تین جذعوں (ایک سالہ بھیڑوں) کے بدلے ایک مسنہ خریدنے لگا، تو مزینہ کے ایک شخص نے ہم سے کہا: ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ یہی دن آگیا (یعنی عید الاضحی) تو ہم میں سے کوئی دو یا تین جذعے دے کر مسنہ خریدنے لگا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جذعہ سے بھی وہی حق ادا ہوسکتا ہے جو ثنی یعنی مسنہ سے ہوتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Asim bin Kulaib that his father said: "We were on a journey and the day of Al-adha came, so we started to by sheep, a Musinnah for two or three Jadhahs. A man from Muzainah said to us: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey when this came, and we stated to look for sheep, (offering to buy) aMusinnah for two or three Jadhahs. Then the Messenger of Allah ﷺ said: "A Jadhah is sufficient for that for which a Thani is sufficient.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4383
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تو بقول ابن المدینی عاصم بن کلیب جب روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت سے استدلال جائز نہیں، دوسرے: ممکن ہے کہ الجذع سے مراد الجذع من الضان بھیڑ کا ایک سالہ بچہ ہو، بکری کا نہیں، تاکہ حدیث نمبر ٤٣٨٣ سے مطابقت ہو سکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٦٦٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضاحی ٥ (٢٧٩٩)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٧ (٣١٤٠)، مسند احمد (٥/٣٦٨) (صحیح )
4389Sunan An Nasai

قربانی میں مسنہ اور جذعہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ.

کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، ہم دو جذعے دے کر ثنیہ یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے ثنیہ یعنی مسنہ کافی ہے ۔

It was narrated that Asim bin Kulaib said: "I heard my father narrating from a man who said: We were with the Messenger of Allah ﷺ two days before Al-Adha and we started to offer two Jadh ahs for one Thaniiyah, Then the Messenger of Allah ﷺ said: A Jadhah is sufficient for that for which a Thaniyah is sufficient.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4384
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4390Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، قَالَ أَنَسٌ: وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ١ ؎۔

It was narrated form Anas that: the Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice two rams. And Anas said: "And I sacrifice two rams.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4385
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بطور استحباب ہے (ورنہ ایک جانور ایک گھر کی طرف سے کافی ہے) آپ ﷺ تو کبھی سو سو اونٹ ذبح کردیا کرتے تھے، تو اس سے وجوب پر کسی نے استدلال نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٠٩) (صحیح )
4391Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔

It was narrated that Ans said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed two Amlah rams.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4386
Notes · وضاحت
١ ؎: چتکبرے یعنی سفید اور کالا یا کالا اور لال رنگ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٩٨) (صحیح )
4392Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھوں کی جن کے سینگ برابر تھے قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور بسم اللہ واللہ اکبر کہا اور اپنا (دایاں) پاؤں ان کی گردن کے پہلو پر رکھا ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sacrificed two horned, Amlah rams, slaughtering them with his own hand, pronouncing the name of Allah, and saying: Allahu Akbar, and placing his foot on their sides.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4387
Notes · وضاحت
١ ؎: جانور کو قبلہ رخ لٹا کر اس کی گردن کے دائیں پہلو پر ذبح کرنے والا اپنا دایاں پاؤں رکھے گا اس سے جانور پر مکمل قابو حاصل ہوجاتا ہے، اور جانور زیادہ حرکت نہیں کر پاتا جو اسی کے لیے بہتر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأضاحي ١٤ (٥٥٦٥)، صحیح مسلم/الأضاحی ٣ (١٩٦٦)، سنن الترمذی/الأضاحي ٢ (١٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٧)، مسند احمد (٣/٩٩، ١١٥، ١٧٠، ١٧٨، ١٨٩، ٢١١، ٢١٤، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٥٨، ٢٦٧، ٢٧٢، ٢٧٩، ٢٨١)، سنن الدارمی/الأضاحی ١ (١٩٨٨) (صحیح )
4393Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، وَانْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، مُخْتَصَرٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کے دن خطبہ دیا اور دو چتکبرے مینڈھوں کے پاس آئے پھر انہیں ذبح کیا (مختصر) ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenge of Allah addressed us on the Day of Sacrifice, and he went toward two Amlah rams and sacrificed them." An abridgment. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4388
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٨٩ (صحیح )
4394Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَإِلَى جُذَيْعَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ پھر آپ (گویا کہ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ ہیں) قربانی کے دن (نماز عید کے بعد) دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف مڑے، انہیں ذبح کیا، اور بکری کے ایک ریوڑ کی طرف گئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کیا۔

It was narrated from Adbur-Rahman bin Abi Bakrah that his father said: "Then he" meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Sacrifice - "Went toward two Amlah rams and sacrificed them, then (he went toward) a small flock of sheep and distributed them among us." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4389
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٩ (١٦٧٩)، سنن الترمذی/الأضاحی ٢١(١٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٦٨٣) (صحیح )
4395Sunan An Nasai

مینڈھے سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ، فَحِيلٍ يَمْشِي فِي سَوَادٍ، وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ والے موٹے دنبہ کی قربانی کی جو چلتا تھا سیاہی میں کھاتا تھا سیاہی میں اور دیکھتا تھا سیاہی میں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed a horned, intact ram, with black feet some black at the stomach and black around its eyes." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا پاؤں، اس منہ اور اس کی آنکھیں سب سیاہ (کالے) تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ٤(٢٧٩٦)، سنن الترمذی/الضحایا ٤(١٤٩٦)، سنن ابن ماجہ/الضحایا ٤(٣١٢٨) (تحفة الأشراف: ٤٢٩٧) (صحیح )
4396Sunan An Nasai

اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے غالب یقین یہی ہے کہ میں نے اسے سعید بن مسروق (سفیان ثوری کے والد) سے سنا ہے اور اسے مجھ سے سفیان نے ان سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا، واللہ اعلم۔

It was narrated that Rafi bin Khadij Said: "When distributing the spoils of war, the Messenger of Allah ﷺ used to make ten sheep equivalent to one camel." Shubah said: "I know most if it from what I heard form Saeed bin Masruq, and Sufyan narrated it to me." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4391
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٠٢ (صحیح )
4397Sunan An Nasai

اونٹ میں کتنے افراد کی جانب سے قربانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ، وَالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ قربانی کا دن آگیا، ہم ایک اونٹ میں دس دس لوگ اور ایک گائے میں سات سات لوگ شریک ہوئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "We were with the Mesenger of Allah on a journey, when the Day of Sacrifice came, so we shared a camel among ten men, and a cow among seven.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4392
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کچھ علماء قربانی میں اونٹ میں دس آدمیوں کی شرکت کو جائز قرار دیتے ہیں، جب کہ جمہور علماء صحیح مسلم میں مروی جابر ؓ کی حدیث (حج ٦١ ، ٦٢ ) کی بنیاد پر اونٹ میں بھی صرف سات آدمیوں کی شرکت کے قائل ہیں، حالانکہ دونوں (جابر و ابن عباس ؓ کی) حدیثوں کا محمل اور مصداق الگ الگ ہے، ابن عباس ؓ کی حدیث قربانی میں شرکت کے سلسلے میں ہے جب کہ جابر ؓ کی حدیث ہدی (حج کی قربانی) سے متعلق ہے، دونوں (قربانی و ہدی) کو ایک دوسرے پر قیاس کرنے کی وجہ سے علماء میں مذکورہ اختلاف واقع ہوا ہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ دونوں کا محل الگ الگ ہے، (یعنی قربانی میں اونٹ دس کی طرف سے کافی ہے اور ہدی میں صرف سات کی طرف سے) علامہ شوکانی نے یہی بات لکھی ہے (کمافی نیل الا ٔوطار) ۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٦٦(٩٠٥)، والأضاحی ٨(١٥٠١)، سنن ابن ماجہ/الأضاحی ٥(٣١٣١)، مسند احمد ١/٢٧٥ (صحیح )
4398Sunan An Nasai

گائے کی قربانی کس قدر افراد کی جانب سے کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَنَشْتَرِكُ فِيهَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کر رہے تھے تو ہم سات لوگوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کرتے اور اس میں شریک ہوتے۔

It was narrated that Jabir said: "We would make Tamattu when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was with us, and we would sacrifice a cow on behalf of seven people, sharing it among ourselves." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4393
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٢(١٣١٨)، سنن ابی داود/الأضاحی ٧(٢٨٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٣٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٦٦ (٩٠٤)، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩)، مسند احمد (٣/٣١٨)، سنن الدارمی/الأضاحی ٥ ١٩٩٨) (صحیح )
4399Sunan An Nasai

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. ح وَأَنْبَأَنَادَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ، فَذَكَرَ أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَضْحَى، فَقَالَ: مَنْ وَجَّهَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا، فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ، فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَجَّلْتُ نُسُكِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي، وَأَهْلَ دَارِي، أَوْ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعِدْ ذِبْحًا آخَرَ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَقْضِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی کے دن کھڑے ہو کر فرمایا: جس نے ہمارے قبلے کی طرف رخ کیا، ہماری جیسی نماز پڑھی اور قربانی کی تو وہ جب تک نماز نہ پڑھ لے ذبح نہ کرے۔ یہ سن کر میرے ماموں کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے قربانی میں جلدی کردی تاکہ میں اپنے بال بچوں اور گھر والوں - یا اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں - کو کھلا سکوں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوبارہ قربانی کرو ، انہوں نے عرض کیا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ٢ ؎ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ عزیز ہے، آپ نے فرمایا: تم اسی کو ذبح کرو، یہ ان دو کی قربانی سے بہتر ہے، لیکن تمہارے بعد جذعے کی قربانی کسی کی طرف سے کافی نہیں ہوگی ۔

It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up on the Day of Sacrifice and Said: Whoever turn toward our Qiblah and prays as we pray and offers the same sacrifice as we do, let him not offer his sacrifice until he has prayed; My maternal uncle stood up and said: O Messenger of Allah, I hastened to slaughter my sacrifice, so that I could feed my family,. And the members of my household,; or my family and my neighbors,; The Messenger of Allah ﷺ said; Offer another sacrifice,; He said: I have a suckling she-goat kid that is dearer to me than two sheep raised for meat, He said: Sacrifice it, for it is the better of your two sacrifices. But no Jadhah will do as a sacrifice for anyone after you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4394
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: امام سے پہلے یعنی عید الاضحی کی نماز سے پہلے قربانی کا کیا حکم ہے؟ ٢ ؎: عناق لبن سے مراد وہ بکری جو ابھی ایک سال کی نہیں ہوئی ہو، اور حدیث نمبر ٤٣٨٤ میں اسی تناظر میں عتود کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی ہیں بکری کا وہ بچہ جو ایک سال ہوچکا ہو مگر دانتا ہوا نہ ہو، اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کی اجازت صرف مذکورہ دونوں صحابہ کے لیے دی گئی، اور عام حالات میں عام مسلمانوں کے لیے صرف دانتا جانور ہی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٦٤ (صحیح )
4400Sunan An Nasai

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ، وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي، وَجِيرَانِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا جَذَعَةً، خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنِّي ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ نے نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری جیسی نماز پڑھی اور ہماری جیسی قربانی کی تو اس نے قربانی کی اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کی تو وہ گوشت کی بکری ہے ١ ؎ یہ سن کر ابوبردہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی قربانی کرچکا ہوں، دراصل میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی اور کھایا اور اپنے بال بچوں نیز پڑوسیوں کو کھلایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہے ۔ وہ بولے: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو گوشت کی ان دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میرے لیے کافی ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد یہ کسی کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah ﷺ addressed us on the Day of Sacrifice and said: whoever prays as we pray nand offers the sacrtifice as we do, has done the rituals properly. Whoever offered the sacrifice before the prayer, that is just a sheep for meat." Abu Burdah said: O Messengers of Allah, by Allah, I offered my sacrifice before I went out to pray. I knew that this day is a day of eating and drinking, so I hastened to eat and to feed my family and my neighbors. The Messenger of Allah ﷺ said: The Messenger of Allah said; That was just a sheep for meat. He said: I have a Jadhah she-goat that is better than two sheep for meat; will it suffice for me (as a sacrifice)? He said: Yes, but it will never suff8ice for anyone after you." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4395
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے لیے قربانی کا ثواب نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٦٤ (صحیح )
4401Sunan An Nasai

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ: مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، فَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ، كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ، أَمْ لَا، ثُمَّ انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہے، اسے چاہیئے کہ پھر سے قربانی کرے ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ جس میں ہر ایک کی گوشت کی خواہش ہوتی ہے، اور پھر انہوں نے پڑوسیوں کا حال بیان کیا، گویا رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی۔ انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک چھوٹا بچہ ہے جو مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ ہے، تو انہیں اس کی رخصت دی گئی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ رخصت دوسروں کے لیے ہے یا نہیں؟ اس کے بعد آپ ﷺ دو مینڈھوں کی طرف گئے اور انہیں ذبح کیا۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ said on the Day of Sacrifice: Whoever slaughtered his sacrifice before the prayer, let him repeat it. A man stood up and said: O Messenger of Allah, this is a day when people want to eat meat. He mentioned that his neighbors were poor and it was as if the Messenger of Allah ﷺ believed him. He said: I have a Jadhah that is dearer to me than tow sheep for meat.; So he granted him a concession (allowing him to sacrifice it) but I do not know whether it applied to anyone else or not. Then he went toward two rams and sacrificed them." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4396
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٨٩ (صحیح )
4402Sunan An Nasai

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ: أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ، قَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ جَذَعَةٍ، هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّتَيْنِ، قَالَ: اذْبَحْهَا. فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً ؟ فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ.

ابوبردہ بن نیار ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے ذبح کیا تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس ایک سالہ بکری کا بچہ ہے جو مجھے دو مسنہ سے زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا: اسی کو ذبح کر دو ۔ عبیداللہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک جذعہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے تو آپ نے انہیں اسی کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔

It was narrated from Abu Burdah bin Niyar that he slaughtered (his sacrifice) before the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him to repeat it. He said: "I have a Jadhah she-goat that is dearer to me than two Muslinnahs." He said: "Sacrifice it," According to the Hadith of: Ubaidullah, he said: "I cannot find anything but a Jadhah," and he told him to slaughter it. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4397
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٧٢٢)، موطا امام مالک/الضحایا ٣ (٤)، مسند احمد (٣/٤٦٦ و ٤/٤٥)، سنن الدارمی/الأضاحی ٧ (٢٠٠٦) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث براء رضی الله عنہ سے متفق علیہ ثابت ہے، خود مؤلف کے یہاں ١٥٦٤ اور ٤٤٠٠ پر گزری ہے )
4403Sunan An Nasai

امام سے قبل قربانی کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ، قَالَ: ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَضْحًى ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا النَّاسُ قَدْ ذَبَحُوا ضَحَايَاهُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

جندب بن سفیان ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن کچھ قربانیاں کیں، تو ہم نے دیکھا کہ لوگ نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور ذبح کرچکے ہیں، جب آپ فارغ ہو کر لوٹے تو انہیں دیکھا کہ وہ نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرچکے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا یہاں تک کہ ہم نے نماز عید پڑھ لی تو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے ۔

It was narrated that Jundab bin Sufyan said: "We slaughtered the sacrifice with the Messenger of Allah ﷺ on day, and the people slaughtered their sacrifices before the prayer. When he finished (the prayer) the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw that they had slaughtered their sacrifices before the prayer. He said: "Whoever slaughtered his sacrifice before the prayer, let him slaughter another in its place, and whoever did not slaughter his sacrifice until we had prayed, let him slaughter it in the name of Allah, The Mighty and Sublime," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4398
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٧٣ (صحیح )
4404Sunan An Nasai

دھار دار پتھر سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ: أَنَّهُ أَصَابَ أَرْنَبَيْنِ، وَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهِ، فَذَكَّاهُمَا بِمَرْوَةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اصْطَدْتُ أَرْنَبَيْنِ، فَلَمْ أَجِدْ حَدِيدَةً أُذَكِّيهِمَا بِهِ فَذَكَّيْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ، أَفَآكُلُ ؟، قَالَ: كُلْ.

محمد بن صفوان ؓ سے روایت ہے کہ انہیں دو خرگوش ملے انہیں کوئی لوہا نہ ملا جس سے وہ انہیں ذبح کرتے تو انہیں پتھر سے ذبح کردیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے دو خرگوش شکار کئے مجھے کوئی لوہا نہ مل سکا جس سے میں انہیں ذبح کرتا تو میں نے ان کو ایک تیز دھار والے پتھر سے ذبح کردیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ نے فرمایا: کھاؤ۔

It was narrated from Muhammad bin Safwan that: he caught two rabbits and he could not find a knife with which to slaughter then, so he slaughtered them with Marwah. Then he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Mesenger of Allah! I caught two rabbits but I could not find a knife with which to slaughter them, so I slaughtered them with Marwah;l can I eat them?" He said: "Eat (them).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4399
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣١٨ (صحیح )
4405Sunan An Nasai

دھار دار پتھر سے ذبح کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاضِرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ، فَذَبَحُوهَا بِالْمَرْوَةِ، فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔

It was narrated from Zaid bin Thabit that: a wolf bit a sheep so he slaughtered it with Marwah, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed him to eat it.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4400
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧١٨)، مسند احمد (٥/١٨٣) ویأتی عند المؤلف برقم ٤٤١٢(صحیح) (اس کے راوی ” حاضر “ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے )