عدی بن حاتم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا، اور شکار کو پا لیتا ہوں، میں پھر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس سے میں ذبح کروں تو کیا میں دھاردار پتھر اور لکڑی سے ذبح کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ اور اس پر اللہ کا نام لو ۔
It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, I release my dog and I catch the game, but I cannot find anything to slaughter it with, so I slaughter it with a Marwah or a stick,; He said: Shed the blood with whatever you wish, and say the name of Allah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4401
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کی ایک اونٹنی تھی، جو احد پہاڑ کی طرف چرتی تھی، اسے عارضہ لاحق ہوگیا، تو اس نے اسے کھونٹی سے ذبح کردیا۔ میں نے زید بن اسلم سے کہا: لکڑی کی کھونٹی یا لوہے کی؟ کہا: لوہا نہیں، بلکہ لکڑی کی کھونٹی سے، پھر اس انصاری نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ سے پوچھا تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "A man form among the Ansar had a she-camel which used to graze in front of Uhud. Something happened to it, and he slaughtered it with a stake,"- (Ayyub, one of the narrators, said) I said to Zaid: A stake of wood or of iron?" He said "No of wood."- "Then he went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him, and he told him to eat it." (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4402
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے اس کے جو دانت اور ناخن سے ذبح کیا گیا ہو ۔
It was narrated from Rafi bin Khadij that the Messenger of Allah ﷺ said: "If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unless (it is slaughtered) with teeth or nails.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4403
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو آپ نے فرمایا: جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو) تو اسے کھاؤ، جب تک کہ وہ آلہ دانت یا ناخن نہ ہو، اور جلد ہی تمہیں اس سلسلے میں بتاؤں گا، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I said: O Messenger of Allah we are going to meet the enemy tomorrow and we do not have any knives. The Messenger of Allah ﷺ said: "If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unless (it is slaughtered (with teeth or nails, and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4404
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے ١ ؎۔
It was narrated that Shaddad bin Aws said: "There are two things that I memorized from the Messenger of Allah ﷺ, who said: Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4405
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اسلام میں کسی بھی جاندار کے ساتھ احسان (اچھا برتاؤ کرنے) کا ثبوت ملتا ہے، پس جو مذہب جانوروں کے ساتھ ذبح کی حالت میں بھی احسان کا داعی ہے وہ انسانی جانوں کے ساتھ کیسے سلوک کا حکم دے گا واضح ہے۔ سبق لیں اسلام پر تشدد کا الزام لگانے والے۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا پھر ہم نے اسے کھایا ١ ؎۔
It was narrated that Asma bint Abi Bakr said: "We slaughtered (Naharna) a horse during the time of the Messenger of Allah ﷺ and ate it". (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4406
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑا نحر کیے جانے والے جانوروں میں سے نہیں ہے پھر بھی آپ کے سامنے نحر کیا گیا، اس سے ذبح کیے جانے والے جانورں کو نحر کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، تو اس کے برعکس سے جائز ہوگا یعنی ذبح کئے جانے والے جانورں کو نحر بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ صرف جواز کی صورت ہے، زیادہ اچھا یہی ہے کہ نحر کئے جانے والے جانورں کو پہلے نحر ہی کیا جائے، اور پھر ذبح کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانوروں کو ذبح کرنا ہی افضل ہے، (ذبح کئے جانے والے جانور جیسے: بکری، دنبہ، بھیڑ، مینڈھا، مرغی، اور نحر کئے جانے والے جانور جیسے: گائے، بیل، گھوڑا اور اونٹ) نحر میں پہلے دھاردار ہتھیار سے جانور کے سینے کے اوپری حصہ کے سوراخ میں مارا جاتا ہے، جب سارا خون نکل کر جانور ساکت ہوجاتا ہے تب گرا کر ذبح کیا جاتا ہے، نحر کے ذریعہ بڑے جانور پر آسانی سے قابو پا لیا جاتا ہے اس لیے ان کے حق میں نحر مشروع ہوا۔
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دئیے، لوگوں نے اسے دھاردار پتھر سے ذبح کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
It was narrated from Zaid bin Thabit that: a wolf attacked a sheep so they slaughtered it with a Marwah, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) allowed it to be eaten.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4407
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٠٥ (صحیح) (اس کے راوی ” حاضر بن مہاجر “ لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
ابو العشراء کے والد (مالک دارمی ؓ) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ذبح ذکا ۃ صرف حلق اور سینے میں ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اس کی ران میں بھی کونچ دو تو کافی ہے ۔
It was narrated from Abu Ushara that his father said: "I said: "O Messenger of Allah, is slaughtering only in the throat or upper chest?" He said: If you stab it in the thigh, that will suffice,"(Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4408
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأضاحی ١٦(٢٨٢٥)، سنن الترمذی/الصید ١٣(١٤٨١)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩(٣٨١٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٩٤)، مسند احمد (٤/٣٣٤)، سنن الدارمی/الأضاحی ١٢ (٢٠١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” ابوالعشراء “ مجہول ہیں، لیکن حدیث نمبر ٤٣٠٢ سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے )
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: دانت اور ناخن کے علاوہ جس کسی آلہ سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، پھر رسول اللہ ﷺ کو کچھ اونٹ اور غنیمت کا مال ملا، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے اسے تیر مارا، جس سے وہ رک گیا، آپ نے فرمایا: ان جانوروں میں، یا یوں فرمایا: ان اونٹوں میں، جنگل کے وحشی جانوروں کی طرح بعض بدکنے والے ہوتے ہیں تو جو تم کو ان میں سے کوئی (پکڑنے میں) تھکا دے، تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو ۔
It was narrated that Rafi said: "I said: O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives. He said: If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails." Then the Messenger of Allah ﷺ got some spoils of war and a camel ran away. A man shot and arrow at it and stopped it. He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said; Some of these animals - or these camels- are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4409
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ کل دشمن سے ملیں گے، اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، آپ نے فرمایا: جس آلہ سے خون بہہ جائے اور وہ دانت ناخن نہ ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، اور جلد ہی میں تمہیں اس کا سبب بتاتا ہوں، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے ، پھر مال غنیمت میں ہمیں کچھ بکریاں یا اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ایک شخص نے ایک تیر اسے مارا جس سے وہ رک گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان اونٹوں میں کچھ جنگلی وحشیوں کی طرح بدکنے والے ہیں، لہٰذا جب تم کو ان میں سے کوئی تھکا دے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔
It was narrated that Rafi bin Khadij said: "I said: O Messenger of Allah, we are going to meet the enemy tomorrow, and we do not have any knives. He said: If the blood is shed and the name of Allah is mentioned, then eat, unlike (it is slaughtered) with teeth or nails and I will tell you about that. As for teeth, they are bones, and as for nails, they are the knives of the Ethiopians,; We acquired some spoils of war including sheep or camels, and a camel ran away, so a man shot an arrow at it an stopped it. The Messenger of Allah ﷺ said: some of these animals or these camels- are untamed like wild animals, so if one of them goes out of your control, do the same." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4410
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور جب تم ذبح کرو تو اپنی چھری کو تیز کرلیا کرو اور ذبیحہ کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ۔
It was narrated that Shaddad bin Aws said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4411
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو ہر چیز میں فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح کرو، اور تم اپنی چھریاں تیز کرلیا کرو اور جانور کو (ذبح کرتے وقت) آرام پہنچاؤ۔
It was narrated that Shaddad bin Aws said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4412
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو اور تم اپنی چھریاں تیز کرلو تاکہ تم اپنے جانور کو آرام دے سکو ۔
It was narrated that Shadad bin Aws said: "I heard two things from the Messenger of Allah ﷺ He said Allah, the Mighty and Sublime, ahs decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spear suffering to the animal he slaughter."" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4413
شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کی ہیں: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (اچھے سلوک اور برتاؤ) کو فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح کرو۔ تم اپنی چھریاں تیز کرلو اور جانور کو آرام دو ۔
It was narrated that Shaddad bin Aws said: "Two things that I memorized form the Messenger of Allah ﷺ; Allah, the Mighty and Sublime, has decreed proficiency in all things, so when you kill, kill well, and when you slaughter, slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughter,"" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4414
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگ دار دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ اللہ اکبر اور بسم اللہ پڑھ رہے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں اور اپنا پاؤں ان (کی گردن) کے پہلو پر رکھے ہوئے ہیں۔ (شعبہ کہتے ہیں) میں قتادہ نے عرض کیا: کیا آپ نے اسے انس سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ sacrificed two horned, Amlah rams, saying: Allah Akbar and pronouncing the Name of Allah. I saw him slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides." I said: You heard it from Him? He said: Yes. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4415
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے ذبح کرتے اور آپ بسم اللہ پڑھتے اور تکبیر بلند کرتے ١ ؎، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کر رہے ہیں اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔
Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to sacrifice two pronounce the name of Allah and say: Allah Akabar, and I saw him slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides "(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4416
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بسم اللہ، اللہ اکبر کہتے تھے، بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں کہتے تھے ۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یعنی نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے دو سینگ دار اور چتکبرے مینڈھے ذبح کر رہے ہیں، اور آپ کا پیر ان (کی گردن) کے پہلو پر ہے۔ آپ (ذبح کرتے ہوئے) بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ رہے ہیں۔
It was narrated that Anas said: "I saw him: - meaning the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - "slaughtering them with his own hand, and placing his foot on their sides, pronouncing the name of Allah and saying: Allah Akbar, (sacrificing) two horned, Amlah rams." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4417
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی جو سینگ دار اور چتکبرے تھے۔ آپ ان (کی گردن) کے پہلو پر قدم رکھ کر انہیں ذبح کر رہے تھے اور بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) told them that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) sacrificed two Amlah horned rams, putting his foot on their sides and slaughtering them pronouncing the name of Allah, and saying: Allahu Akbar."" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4418
Notes · وضاحت
١ ؎: زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنی قربانی خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، لیکن جائز یہ بھی ہے کہ دوسرے سے کروائے، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ slaughtered some of his sacrificial animals with his won hand, and someone else slaughtered some of them. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4419
اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔ قتیبہ نے (فاکلناہ کے بجائے) فاکلنا لحمہ پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا کہا۔ عبدہ بن سلیمان نے سفیان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے۔
It was narrated that Asma said: "We slaughtered (Naharna) a horse during the time of Messenger of Allah ﷺ and ate it." In his Hadith Qutaibah (one of the narrators) said: "And we ate its meat." (Sahih ) Abdah bin sulaiman contradicted him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4420