اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔
It was narrated that Asma said: "We slaughtered (naharna) a horse during the time of the Messenger of Allah ﷺ while we were in Al-Madinah, and we ate it." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4421
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نحرنا کی جگہ ذبحنا ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت نحرنا ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں ذبحنا ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
عامر بن واثلہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے علی ؓ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے؟ اس پر علی ؓ غصہ ہوگئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ لال پیلا ہوگیا اور کہا: آپ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے کوئی بات راز کی نہیں بتاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ نے مجھے چار باتیں بتائیں، میں اور آپ ایک گھر میں تھے، آپ نے فرمایا: اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والد (ماں یا باپ) پر لعنت کی، اللہ اس پر بھی لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی ١ ؎، اور اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے زمین کی حد کے نشانات بدل ڈالے ٢ ؎۔
It was narrated that Amir bin Wathilah said: "A man asked Ali" Did the Messenger of Allah ﷺ used to tell you anything in secret that he did not tell the people? Ali got so angry that his face turned red, and he said: He used not to tell me anything in secret that he died not tell the people except that he told me four things when he and I were alone in the house. He said: Allah curses the alone who curses his father, Allah curses the one who offers a sacrifice to anyone other than Allah, Allah curse the one who gives refuge to an offender and Allah curses the one who changes boundary markers."" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4422
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی تائید و حمایت کی اور بدعت سے خوش ہوا۔ ٢ ؎: مثلاً دو آدمیوں کی زمین کو الگ کرنے والے نشانات بدلے، اور اس سے مقصد دوسری کی زمین میں سے کچھ ہتھیا لینا ہو۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the meat of sacrificial animals after three days" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4423
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ٤٤٣٤ ) ۔
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے) ۔
It ws narrated that Abu Ubaid - the freed slave of Ibn Awf - said: "I saw Ali bin Abi Talib - may Allah honor his face on the day of Id. He started with the prayer before the Khutbah, and then he prayed with no Adhan and no Iqamah. Then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ forbidding anyone form keeping anything of his sacrificial animal for more than three days." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4424
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔
Ali bin Abi Talib Said: "The Messenger of Allah ﷺ has forbidden you from eating the meat of your sacrificaial animals for more than three day." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4425
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: the Messenger of Allah ﷺ forbade eating the meat of the sacrificial animals after three days then he said: "Eat, take some with you (if traveling). And store some." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4426
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧٢)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٢٤ (١٧١٩)، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٦)، مسند احمد (٣/٣٢٥، ٣٤٤) (صحیح )
عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری ؓ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا، انہوں نے کہا: میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کرلوں، چناچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے (وہ بدری صحابی تھے) اور ان سے اس بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی۔
It was narrated from Ibn Khabbab - who is Abdullah bin Khabbab - that: Abu Sa eed Al- Kahudri arrived from a jouney and his family offered him some meat from the sacrificial animal. He said: "I am not going to eat it until I ask about it," So he went to his half-brother through his mother, Qatadah bin An- Nu man who had been presently at Badr, and asked him about that. He said: "The opposite of what you were forbidden occurred after that, and (Permission was granted) to eat the sacrificial meat after three days" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4427
Notes · وضاحت
١ ؎: اخیافی بھائی وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر قتادہ ؓ ابو سعید خدری ؓ کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری ؓ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، ابوسعید نے قتادہ کو (گوشت) پیش کیا، تو وہ بولے: کیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے روکا نہیں ہے؟ ابوسعید ؓ نے کہا: اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: the Messenger of Alllah forbade (Eating) the meat of sacrificial animals after three days. Then Qatadh bin An-Nu man, who was brother of Abu Saeed through his mo0ther, and had been present at Badr, came and they offered him (some of the meat) .He said: "Didnt the Messenger of Allah ﷺ forbid it?" Abu Sa eed said: "Something happened later. The Messenger of Allah ﷺ forbade us to eat it for more than three days, then he allowed us to eat it and store it." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4428
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں امسکوا روک کر رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: " The Messenger of Allah ﷺ said: I used to forbid you from doing three things: to visit graves, but now visit three, for you may benefit from that. And I used to forbid you (from eating) the meat of sacrificial animals after three days but now eat it, and keep whatever you want. A and I forbade you to drink form (certain kinds of) vessels, but now drink form whatever kind of vessel you want but do not drink any kind of intoxicant." (Sahih ) Muhammad (one of the narrators) did not mention: "kept (whatever you want).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4429
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his fhater said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "I used to forbid you (from eating) the meat of sacrificial animals after three days, and to (make) Nadidh except in a water skin, and to visit graves. But now eat whatever you want of the meat, or take some with you (when traveling) or store it: and whoever wants to visit graves, it will remind him of the Hereafter; and drink, but beware of any kind of intoxicant." (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4430
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٧٦)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٦٥٤) (صحیح) (اس کے راوی ” ابواسحاق “ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو ، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: " "Some Bedouins came to Al-Madinah at the time of (Eid) Al-Adha and the Messenger of Allah ﷺ said: Eat, and store (the meat) for three days. After that they said: O Messenger of Allah, the people used to benefit form their sacrifices by melting down the fat, and (also) making water skins from them. He said: Why are you asking? He said: Because you forbade us form keeping the meat of the sacrificial animals. He said: I only forbade that because of the Bedouins who came. (Now) eat it, store it and give it in charity," (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4431
عابس کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ کے پاس جا کر عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرماتے تھے؟ بولیں: ہاں، لوگ سخت محتاج اور ضروت مند تھے، رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ مالدار لوگ غریبوں کو کھلائیں، پھر بولیں: میں نے آل محمد (گھر والوں) کو دیکھا کہ وہ لوگ پائے پندرہ دن بعد کھاتے تھے، میں نے کہا: یہ کس وجہ سے؟ وہ ہنسیں اور بولیں: محمد ﷺ کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک سالن روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ ﷺ اللہ عزوجل کے پاس تشریف لے گئے۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abis that his father said: "I came in to Aishah (RA) and said: Did the Messenger of Allah ﷺ forbid (eating) the meat of sacrificial animals after three day? She said: Yes Hardship had befallen the people, and the Messenger of Allah ﷺ wanted the rich to feed the poor. Then she said: I remember the family of Muhammad eating the trotters after fifteen days. I said: Why is that" She laughed and said: The family of Muhammad never ate their fill of bread and something to go with it, for three days in row, until he met Allah, the Mighty and Sublime," (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4432
عابس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے قربانی کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک ایک مہینے تک قربانی کے پائے رکھ چھوڑتے، پھر آپ اسے کھاتے۔
It was narrated from AbdurRahman bin Abis that his father said: "I asked Aishah (RA) about the meat of the sacrificial animals and she said: We used to keep the trotters for the Messenger of Allah ﷺ for a month, then he would eat them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4433
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا: کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ۔
It was narrated that AbuSaeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade keeping the meat of the sacrificial animals for more than three days, then he said: Eat and feed other," (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4434
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا: اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ مسکرا رہے ہیں ١ ؎۔
Abdullah bin Mughaffal said: "A bag of fat was thrown on the day of Khaibar, and I caught it and said: "I will not give anything of this to anyone. I turned around and saw the Messenger of Allah ﷺ there, smiling." (Sahih
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4435
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ ﷺ نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت: ٥ ، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ اعرابی (دیہاتی) ہمارے پاس گوشت لاتے تھے، ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ آیا انہوں نے اس پر اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that: some Bedouin people used to bring us meat, and we did not know whether they had mentioned the Name of Allah (when slaughtering it) or not. The Messenger of Allah ﷺ said: "Messenger of Allah said: "Mention the Name of Allah and eat." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4436
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اس بابت خواہ مخواہ کا شک و شبہہ صحیح اور درست نہیں ہے، إلا یہ کہ پختہ طریقے سے ثابت ہوجائے کہ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ آیت کریمہ: ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم اللہ عليه جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ (الأنعام: ١٢١) کے بارے میں کہتے ہیں: (یہ اس وقت اتری جب) کفار و مشرکین نے مسلمانوں سے بحث کی تو کہا: جسے اللہ ذبح کرتا ہے (یعنی مرجائے) تو اسے تم نہیں کھاتے ہو اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو؟۔
Harun bin Abi Walki-who is Harun bin Antarah -narrated from his father, form Ibn Abbas, concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "Eat not of that on which Allahs name has not been pronounced" - that he said: "The idolaters argued with them and said: Whatever Allah kills you do not eat, and whatever you kill you eat!
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4437
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس ؓ کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔
It was narrated that Hisham bin Zaid said; "Ans and I entered upon Al-Hakam - that it, Ibn Ayyb - and there were some people shooting at a chicken in the house of the governor. He said: The Messenger of Allah ﷺ forbade using animals as targets;
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4439
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا: جانوروں کا مثلہ نہ کرو ۔
It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by some people who were shooting arrows at a ram. He denounced that and said: Do not disfigure animals (by using them as targets)." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4440