مجثمہ (جانور کو نشانہ بنا کر) مارنے کا ممنوع ہونا
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ.
ابوثعلبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجثمة حلال نہیں ہے ۔
It was narrated that Abu Thalabah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: An animal that has been taken as a target is not lawful.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4438
Notes · وضاحت
١ ؎: مجثمة یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٣١ (صحیح )