جس جانور کو ذبح کرنا چاہے تو اس کو نحر کرے تو درست ہے
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ فَأَكَلْنَاهُ.
اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، ہم مدینے میں تھے پھر ہم نے اسے کھایا۔
It was narrated that Asma said: "We slaughtered (naharna) a horse during the time of the Messenger of Allah ﷺ while we were in Al-Madinah, and we ate it." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4421
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نحرنا کی جگہ ذبحنا ہے، اور ہشام کے اکثر شاگردوں کی روایت نحرنا ہی کی ہے، صرف عبدہ کی روایت میں ذبحنا ہے اسی اختلاف الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے مؤلف نے یہ باب باندھا ہے بہرحال نحر و ذبح دونوں جائز ہیں، مقصد خون بہانا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤١١ (صحیح )