Sunan An Nasai 4436

قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ

4436Sunan An Nasai

قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ بنانا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ: إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو ، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تو اب کیا ہوا؟ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: " "Some Bedouins came to Al-Madinah at the time of (Eid) Al-Adha and the Messenger of Allah ﷺ said: Eat, and store (the meat) for three days. After that they said: O Messenger of Allah, the people used to benefit form their sacrifices by melting down the fat, and (also) making water skins from them. He said: Why are you asking? He said: Because you forbade us form keeping the meat of the sacrificial animals. He said: I only forbade that because of the Bedouins who came. (Now) eat it, store it and give it in charity," (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4431
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأضاحی ٥ (١٩٧١)، سنن ابی داود/الضحایا ١٠ (٢٨١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٠١)، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧)، مسند احمد (٦/٥١)، سنن الدارمی/الأضاحی ٦ (٢٠٠٢) (صحیح )