عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said; "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: May Allah curse the one who disfigures and animal. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4442
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی گوریا، یا اس سے چھوٹی کسی چڑیا کو بلا وجہ مارا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کرے گا ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے ذبح کر کے کھائے اور اس کا سر کاٹ کر یوں ہی نہ پھینک دے ۔
It was narrated from Abdullah bin Amr, who attributed it to the Messenger of Allah ﷺ: "There is no person who kills a small bird or anything larger, for no just reason, but Allah will ask him about it." It was said: "O Messenger of Allah, what does just reason mean?" He said: "That you slaughters it and eat it, and o not cut off its head and throw it aside.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4445
شرید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے بلا وجہ کوئی گوریا ماری تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے چلائے گی اور کہے گی: اے میرے رب! فلاں نے مجھے بلا وجہ مارا مجھے کسی فائدے کے لیے نہیں مارا ۔
It was narrated that Amr bin Sharid said: "I heard Sharid say: I herd the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever kills a small bird for no reason, it will beseech Allah on the Day of Resurrection saying: O Lord, so and so killed me for no reason. And he did not kill me for any beneficial purpose.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4446
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٨٤٣)، مسند احمد (٤/٣٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی صالح بن دینار لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے اور جلالہ پر سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his father Muhammad bin Abdullah bin Amr - or on one occasion he said: from his father, form his grandfather - the on the Day of Kahaibar, the Messenger of Allah ﷺ forbade the flesh of domesticated donkeys and of al-Jallalah (animals that eat dung), and (he forbade) riding them and eating their mat.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4447
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمرو یعنی اگر راوی نے محمد کے بعد عن أبیہ کہا تھا تو عبد الله بن عمرو کی روایت ہوگی، اور اگر عن جدہ کہا تھا تو عمرو بن العاص کی روایت ہوگی، ابوداؤد میں بغیر شک کے عمرو بن شعیب عن أبیہ، عن جدہ ہے، یعنی عبداللہ بن عمرو ؓ، مزی نے اس کو عبداللہ بن عمرو ؓ ہی کی مسند ذکر کیا ہے۔ جلالہ: وہ جانور جو صرف نجاست یا اکثر نجاست کھاتا ہو۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجثمہ (جو جانور باندھ کر نشانہ لگا کر مار ڈلا گیا ہو) سے، جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کے دودھ سے، اور مشک کے منہ سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade (eating) animals that had been taken as targets, the milk of Al-Jallalah (animals that eat dung), and drinking directly from water skins.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4448