روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 1 of 18

2092Sunan An Nasai

روزوں کی فرضیت کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا، قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ، قَالَ: صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا، قَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ صَدَقَ.

طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس پراگندہ بال آیا، (اور) اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا: پانچ (وقت کی) نمازیں، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفل پڑھنا چاہو ، پھر اس نے کہا: مجھے بتلائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ماہ رمضان کے روزے، اِلاَّ یہ کہ تم کچھ نفلی (روزے) رکھنا چاہو ، (پھر) اس نے پوچھا: مجھے بتلائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اسلام کے احکام بتائے، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی تکریم کی ہے، میں کوئی نفل نہیں کروں اور نہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے اس میں کوئی کمی کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہوگیا ، یا کہا: اگر اس نے سچ کہا تو جنت میں داخل ہوگیا ۔

It was narrated from Talhah bin Ubaidullah that: a Bedouin came to the Messenger of Allah with unkempt hair and said: "O Allah has enjoined upon me of Salah." He said: "The five daily prayers, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of fasting." He said: "Fasting the month of Ramadan, unless you do any more voluntarily." He said: "Tell me what Allah has enjoined upon me of Zakah." The Messenger of Allah told him of the laws of Islam, He said: "By the One Who has honored you, I will not do anything voluntarily, and I will not do anything voluntarily, and I will not do less than that which Allah has enjoined upon, me: The Messenger of Allah said: "He will succeed if he is sincere," or "He will enter Paradise if he is sincere."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2090
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٥٩ (صحیح )
2093Sunan An Nasai

روزوں کی فرضیت کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ الْعَاقِلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ، فَأَخْبَرَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ قَالَاللَّهُ، قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ ؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ ؟ قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ، وَنَصَبَ فِيهَا الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةَ أَمْوَالِنَا، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا الْحَجَّ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: صَدَقَ، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدَنَّ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہمیں قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ سے لایعنی بات پوچھنے سے منع کیا گیا تھا، تو ہمیں یہ بات اچھی لگتی کہ دیہاتیوں میں سے کوئی عقلمند شخص آئے، اور آپ سے نئی نئی باتیں پوچھے، چناچہ ایک دیہاتی آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! ہمارے پاس آپ کا قاصد آیا، اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، اس نے پوچھا: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ نے کہا: اللہ نے (پھر) اس نے پوچھا: اس میں پہاڑ کو کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے پوچھا: اس میں نفع بخش (چیزیں) کس نے بنائیں؟ آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، اور اس میں پہاڑ نصب کیے، اور اس میں نفع بخش (چیزیں) بنائیں کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، پھر اس نے کہا: اور آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہمارے اوپر ہر روز دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (نمازوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے کہ ہم پر اپنے مالوں کی زکاۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، (پھر) اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم پر ہر سال ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، آپ نے کہا: اس نے سچ کہا (پھر) اس نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان (دنوں کے روزوں) کا حکم دیا ہے؟ آپ نے کہا: ہاں ، (پھر) اس نے کہا: آپ کے قاصد نے کہا ہے: ہم میں سے جو کعبہ تک جانے کی طاقت رکھتے ہوں، ان پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ، اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا فرمایا: میں ہرگز نہ اس میں کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا، جب وہ لوٹا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔

It was narrated that Anas said: "We were forbidden in the Quran to ask the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about anything not imperative, so we liked it when a wise man from among the people of the desert came and asked him. A man from among the desert people came and said: O Muhammad, your messenger came to us and told us that you say that Allah, the Mighty and Sublime, has sent you. He said: He spoke the truth. He said: Who created the heavens? He said: Allah. He said: Who created the Earth? He said: Allah. He said: Who set up the mountains in it? He said: Allah. He said: Who created beneficial things in them? He said: Allah. He said: By the One Who created the heavens and the Earth, and set up the mountains therein, and created beneficial things in them, has Allah sent you? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to offer five prayers each day and night. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to pay Zakah on our wealth. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to fast the month of Ramadan each year. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent You, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: Your messenger said that we have to perform Hajj, those who can afford it. He said: He spoke the truth. He said: By the One Who sent you, has Allah commanded you to do this? He said: Yes. He said: By the One Who sent you with the truth, I will not do more than this or less. When he left, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: If he is sincere, he will certainly enter paradise."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2091
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٦ (٦٣) تعلیقاً، صحیح مسلم/الإیمان ٣ (١٢)، سنن الترمذی/الزکاة ٢ (٦١٩)، (تحفة الأشراف: ٤٠٤)، مسند احمد ٣/١٤٣، ١٩٣، سنن الدارمی/الطھارة ١ (٦٧٦) (صحیح )
2094Sunan An Nasai

روزوں کی فرضیت کا بیان

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي سَائِلُكَ يَا مُحَمَّدُ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ، قَالَ: سَلْ مَا بَدَا لَكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر آیا، اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ تو ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں، جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، آپ کو پکار کر اس شخص نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) اس نے کہا: محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں، (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا تو آپ دل میں کچھ محسوس نہ کریں، آپ نے فرمایا: پوچھو جو چاہتے ہو ، تو اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) ان کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (میری بات پر گواہ رہنا) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالداروں سے زکاۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پر ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہیں قاصد ہوں، اور میں قبیلہ بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ یعقوب بن ابراہیم نے حماد بن عیسیٰ کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "While we were sitting in the Masjid, a man came on a camel and made it keneel in the Masjid, then he hobbled it and said to them: Which of you is Muhammad? The Messenger of Allah was reclining amid his Companions, and we said to him: This white man who is reclining. The man said to him: O son of Abdul-Muttalib. The Messenger of Allah said: I have answered you. The man said; O Muhammad, I am going to ask you questions, and I will be harsh in asking; do not get upset.; The man said: I adjure you by your Lord and the Lord of those who cam before you, has Allah sent you to all the people? The Messenger of Allah said: By Allah, yes. He said; I adjure you by Allah, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night? The Messenger of Allah said: By Allah, yes.; He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: By Allah, Yes. He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and distribute it among our poor? The Messenger of Allah said. By Allah, yes. The man said: I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr." Yaqub bin Ibrahim contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2092
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے لیث اور سعید کے درمیان ابن عجلان کا واسطہ بڑھایا ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٦ (٦٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣ (٤٨٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٤ (١٤٠٢)، (تحفة الأشراف: ٩٠٧)، مسند احمد ٣/١٦٧، ١٦٨ (صحیح )
2095Sunan An Nasai

روزوں کی فرضیت کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَوَغَيْرُهُ مِنْ إِخْوَانِنَا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ ؟ وَهُوَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، قَالَ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ، قَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، خَالَفَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ.

انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھا کر باندھا (اور) لوگوں سے پوچھا: تم میں محمد کون ہیں؟ اور آپ ﷺ لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے اس سے کہا: یہ گورے چٹے آدمی ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، تو (اس) شخص نے (پکار کر) آپ سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: میں نے تمہاری بات سن لی ، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے کچھ پوچھنے والا ہوں (اور ذرا) سختی سے پوچھوں گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پوچھو جو تم پوچھنا چاہتے ہو ، تو اس آدمی نے کہا: میں آپ کو آپ کے، اور آپ سے پہلے (جو گزر چکے ہیں) کے رب کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس ماہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا! ) ہاں ، (پھر) اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے یہ صدقہ لو اور اسے ہمارے غریبوں میں تقسیم کرو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں ، تب (اس) شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی (شریعت) پہ ایمان لایا، میں اپنی قوم کا جو میرے پیچھے ہے قاصد ہوں، اور میں بنی سعد بن بکر کا فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔ عبیداللہ بن عمر نے ابن عجلان کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

Anas bin Malik (RA) said: "while we were with the Messenger of Allah, sitting in the Masjid, a man entered on a camel. He made it kneel in the Masjid, then he hobbled it. Then he said; Which of you is Muhammad? He was reclining among them, and we said to him: This white man who is reclining. The man said to him: O son of Abdul-Muttalib. The Messenger of Allah said to him: I have answered you. The man said: O Muhammad, I am going to ask you questions and I will be harsh in asking. He said; Ask whatever you like. The man said; I adjure you by your Lord, and the Lord of those who came begfore you, has Allah sent you to all the people? The Messenger of Allah said: by Allah, yes, He said: Iadjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month each year? The Messenger of Allah said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to take this charity from our rich and divide it among our poor? The Messenger of Allah said: By Allah, Yes. The ma said; I believe in that which you have brought, and I am the envoy of my people who are coming after me. I am Dimam bin Thalabah, the brother of Banu sad bin Bakr." (Sahih) Ubaidullah bin Umar contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2093
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مخالفت اس طرح ہے کہ انہوں نے اسے عن سعید بن ابی سعید المقبری عن ابی ہریرہ ۃ کے طریق سے روایت کیا ہے، اور ابن عجلان نے اسے عن سعید عن شریک عن انس کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ مخالفت ضرر رساں نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ سعید نے دونوں سے سنا ہو تو انہوں نے کبھی اس طرح طریق سے روایت کیا ہو، اور کبھی اس طریق سے (عبیداللہ کی روایت آگے آرہی ہے)۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2096Sunan An Nasai

روزوں کی فرضیت کا بیان

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَارَةَ حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِييَذْكُرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، قَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ قَالُوا: هَذَا الْأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ، قَالَ حَمْزَةُ: الْأَمْغَرُ الْأَبْيَضُ مُشْرَبٌ حُمْرَةً، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشْتَدٌّ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، قَالَ: سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ، قَالَ: أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ، وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، وَرَبِّ مَنْ بَعْدَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ، قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا، فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ يَحُجَّ هَذَا الْبَيْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي آمَنْتُ وَصَدَّقْتُ، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی دوران دیہاتیوں میں ایک شخص آیا، اور اس نے پوچھا: تم میں عبدالمطلب کے بیٹے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ گورے رنگ والے جو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں (حمزہ کہتے ہیں: الأمغر سرخی مائل کو کہتے ہیں) تو اس شخص نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے ولا ہوں، اور پوچھنے میں آپ سے سختی کروں گا، تو آپ ﷺ نے کہا: پوچھو جو چاہو ، اس نے کہا: میں آپ سے آپ کے رب کا اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کا اور آپ کے بعد کے لوگوں کے رب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں ، اس نے کہا: تو میں اسی کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھیں؟ آپ نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہ، ہاں ، اس نے کہا: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں کے مالوں میں سے (زکاۃ) لیں، پھر اسے ہمارے فقیروں کو لوٹا دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں ، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے اس مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے کہا: اے اللہ تو گواہ رہنا، ہاں ، اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ حکم دیا ہے کہ جو اس خانہ کعبہ تک پہنچنے کی طاقت رکھے وہ اس کا حج کرے؟ آپ ﷺ نے کہا: اے اللہ گواہ رہنا ہاں ، تب اس شخص نے کہا: میں ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی، میں ضمام بن ثعلبہ ہوں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "While the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was with his Companions a man from among the desert people came and said: Which of you is the son of Abdul-Muttalib? They said: This Anghar man who is reclining on a pillow. (One of the narrators) Hamzah said: "Amghar means white with a reddish complexion.- The man said: I am going to ask you questions and I will be harsh in asking. He said: ask whatever you like. He said: I ask you by your Lord and the Lord of those who came before you, and the Lord of those who will come after you; has Allah sent you? He said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to offer five prayers each day and night? He said: By Allah, yes.; He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to take from the wealth of our rich and give it to our poor? he said: By Allah, yes He said: I adjure you by Allah, has Allah commanded you to fast this month out of the twelve months? He said: By Allah, yes. He said: I adjure you by Him, has Allah commanded you to go on pilgrimage to this House, where can afford it? He said: By Allah yes. He said: I belive, and I am Dimam bin Thalabah."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2094
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٩٩٣) (صحیح الإسناد )
2097Sunan An Nasai

ماہ رمضان المبارک میں خوب سخاوت کرنے کے فضائل

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی آدمی تھے، اور رمضان میں جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) آپ سے ملتے تھے آپ اور زیادہ سخی ہوجاتے تھے، جبرائیل (علیہ السلام) آپ سے ماہ رمضان میں ہر رات ملاقات کرتے (اور) قرآن کا دور کراتے تھے۔ (راوی) کہتے ہیں: جس وقت جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔

It was narrated from Ubaidullah bin Abdullah bin Utabah that Abdullah bin Abbas used to say: "The Messenger of Allah was the most generous of people, and he was most generous in Ramadan when Jibril met him. Jibril use to meet him every night during the month of Ramadan and study Quran with him." And he said: "When Jibril met him, the Messenger of Allah was more generous in doing good than the blowing wind."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2095
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحي ٥ (٦)، والصوم ٧ (١٩٠٢)، وبدء الخلق ٦ (٣٢٢٠)، والمناقب ٢٣ (٣٥٥٤)، و فضائل القرآن ٧ (٤٩٩٧)، صحیح مسلم/الفضائل ١٢ (٢٣٠٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٧ (٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٠)، مسند احمد ١/٢٣٠، ٢٣١، ٢٨٨، ٣٢٦، ٣٦٣، ٣٦٦، ٣٦٧، ٣٧٣ (صحیح )
2098Sunan An Nasai

ماہ رمضان المبارک میں خوب سخاوت کرنے کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَامَعْمَرٌ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَعْنَةٍ تُذْكَرُ، كَانَ إِذَا كَانَ قَرِيبَ عَهْدٍ بِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يُدَارِسُهُ، كَانَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَأَدْخَلَ هَذَا حَدِيثًا فِي حَدِيثٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے کوئی لعنت ایسی نہیں کی جسے ذکر کیا جائے، (اور) جب جبرائیل (علیہ السلام) کے آپ کو قرآن دور کرانے کا زمانہ آتا تو آپ تیز چلتی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (روایت) غلط ہے، اور صحیح یونس بن یزید والی حدیث ہے (جو اوپر گزری) راوی نے اس حدیث میں ایک (دوسری) حدیث داخل کردی ہے۔

It was narrated that Aishah said: "Hardly anyone every remembered the Messenger of Allah cursing anyone, and if he had recently met with Jibril and studied the Quran with him, he was more generous in doing good than the blowing with. "(Sahih) Abu Abdur-Rehman (An-Nasai) said; This is a mistake, and what is correct is the (previous) narration of Yunus bin Yazid, he put this narration in the Hadith.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2096
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٣)، مسند احمد ٦/١٣٠ (صحیح الإسناد )
2099Sunan An Nasai

رمضان کی فضیلت

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are shut, and the devils are fettered.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2097
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٨٩٨، ١٨٩٩)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٧٧)، صحیح مسلم/الصوم ١ (١٠٧٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم ١ (٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢ (١٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٢)، موطا امام مالک/الصوم ٢٢ (٥٩) (موقوفاً )، مسند احمد ٢/٢٨١، ٢٩٢، ٣٥٧، ٣٧٨، ٤٠١، سنن الدارمی/الصوم ٥٣ (١٨١٦) (صحیح )
2100Sunan An Nasai

رمضان کی فضیلت

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are fettered.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2098
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2101Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت زہری پر راویوں نے جو اختلاف نقل کیا ہے اس کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِينَافِعُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیر میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔

Abu Hurairah said; The Messenger of Allah said: When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2099
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٩٩ (صحیح )
2102Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت زہری پر راویوں نے جو اختلاف نقل کیا ہے اس کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ مَوْلَى التَّيْمِيِّينَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: When Ramadan comes, the gates of mercy are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained up."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2100
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٩٩ (صحیح )
2103Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت زہری پر راویوں نے جو اختلاف نقل کیا ہے اس کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّأَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ، رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ اسے ابن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When it is Ramadan, the gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are Chained up.” It was narrated by Ibn Ishaq from Az-Zuhri. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2101
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٩٩ (صحیح )
2104Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت زہری پر راویوں نے جو اختلاف نقل کیا ہے اس کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ إِسْحَاقَ خَطَأٌ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ ابْنُ إِسْحَاقَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَالصَّوَابُ مَا تَقَدَّمَ ذِكْرُنَا لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق (والی) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح (روایت) وہ ہے جس کا ذکر ہم (اوپر) کرچکے ہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: When the month of Ramadan begins, the gates of Paradise are opened. The gates of the Fire are closed and the devils are chained up.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This — meaning, the narration of Ibn Ishaq — is a mistake. Ibn Ishaq did not hear from Az-Zuhri. What is correct is what we mentioned it previously.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2102
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٩٩ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
2105Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت زہری پر راویوں نے جو اختلاف نقل کیا ہے اس کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ، عَنْأُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَدِيدِ بَنِي تَيْمٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَكُمْ، تُفَتَّحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ خَطَأٌ.

انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ رمضان ہے جو تمہارے پاس آپ پہنچا ہے اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث غلط ہے۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “There has come to you Ramadan in which the gates of Paradise are opened, the gates of the Fire are closed and the devils are chained up.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: This narration is a mistake.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2103
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٤٠)، مسند احمد ٣/٢٣٦ (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
2106Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت معمر پر راویوں نے جو اختلاف کیا ہے اس کے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عَزِيمَةٍ وَقَالَ: إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَسُلْسِلَتْ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، أَرْسَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عزیمت و تاکید بغیر واجب کئے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے، اور فرماتے تھے: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس میں شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔ ابن مبارک نے اسے مرسلاً (من قطعاً ) روایت کیا ہے۔

It was narrated from Az Zuhri, from Abu Salamah, from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ used to encourage praying Qiyam Al-Lail in Ramadan, but not forecibly. And he said: “When Ramadan begins, the gates of Paradise are opened and the gates of Hell are closed, and the devils are chained up.” Ibn Al-Mubarak narrated it in Mursal form: (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2104
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، سنن الترمذی/الصوم ٨٣ (٨٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٧٠)، مسند احمد ٢/٢٨١، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٢٠٠، لکن عندھم الجزء الأخیر ” من قام رمضان إیمانا الخ بدل ” إذا دخل رمضان الخ “ (صحیح )
2107Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت معمر پر راویوں نے جو اختلاف کیا ہے اس کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى خُرَاسَانِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں ۔

It was narrated Az-Zuhri, from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “When Ramadan begins, the gates of mercy are opened and the gates of Hell are closed, and the devils are chained up.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2105
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٦٠٤) (صحیح) (سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
2108Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت معمر پر راویوں نے جو اختلاف کیا ہے اس کے متعلق

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آچکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کردیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There has come to you Ramadan, a blessed month, which Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined you to fast. In it the gates of heavens are opened and the gates of Hell are closed, and every devil is chained up. In it Allah has a night which is better than a thousand months; Whoever is deprived of its goodness is indeed deprived.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2106
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٥٦٤)، مسند احمد ٢/٢٣٠، ٣٨٥، ٤٢٥ (صحیح )
2109Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت معمر پر راویوں نے جو اختلاف کیا ہے اس کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: عُدْنَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍفَتَذَاكَرْنَا شَهْرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: مَا تَذْكُرُونَ، قُلْنَا: شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.

عرفجہ کہتے ہیں کہ ہم نے عتبہ بن فرقد کی عیادت کی تو ہم نے ماہ رمضان کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ماہ رمضان کا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور ہر رات منادی آواز لگاتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! خیر کے کام میں لگ جا ١ ؎، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! برائی سے باز آ جا ٢ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ٣ ؎۔

It was narrated that ‘Arfajah Said: “We visited ‘Utbah bin Farqad (when he was ill) and we talked about the month of Ramdan. He said: ‘What are you talking about?’ We said: ‘The month of Ramadan.’ He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In it the gates of Paradise are opened and the gates of the Fire are closed, and the devils are chained up, and a caller calls out every night: doer of good, proceed; doer of evil, desist!” (Hasan) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2107
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہی اس کا وقت ہے کیونکہ اس وقت معمولی عمل پر بہت زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔ ٢ ؎: اور توبہ کرلے کیونکہ یہی توبہ کا وقت ہے۔ ٣ ؎: غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس روایت میں ہے کہ عرفجہ نے اسے عتبہ بن فرقد رضی الله عنہ کی روایت بنادیا ہے، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کسی اور صحابی سے مروی ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٨)، مسند احمد ٤/٣١١، ٣١٢، ٥/٤١١ (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
2110Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت معمر پر راویوں نے جو اختلاف کیا ہے اس کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتٍ فِيهِ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَ بِحَدِيثٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّهُ أَوْلَى بِالْحَدِيثِ مِنِّي، فَحَدَّثَ الرَّجُلُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي رَمَضَانَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ، وَيُنَادِي مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ أَمْسِكْ.

عرفجہ کہتے ہیں: میں ایک گھر میں تھا جس میں عتبہ بن فرقد بھی تھے، میں نے ایک حدیث بیان کرنی چاہی حالانکہ صحابہ کرام ؓ میں سے ایک (صاحب وہاں) موجود تھے گویا وہ حدیث بیان کرنے کا مجھ سے زیادہ مستحق تھے، چناچہ (انہوں) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، اور ہر سرکش شیطان کو بیڑی لگا دی جاتی ہے، اور پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے: اے خیر (بھلائی) کے طلب گار! نیکی میں لگا رہ، اور اے شر (برائی) کے طلب گار! باز آ جا ۔

It was narrated that ‘Arfajah said: “I was in a house with ‘Utbah bin Farqad, and I wanted to narrate a Hadith, but there was a man from among the Companions of the Prophet ﷺ there, and I felt it was more appropriate for him to narrate the Hadith than I. The man narrated that the Prophet ﷺ said, concerning Ramadan: ‘In it the gates of heavens are opened and the gates of the Fire are shut, and every devil is fettered. A caller calls out every night: seeker of good, proceed; seeker of evil, desist!” (Hasan)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2108
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
2111Sunan An Nasai

ماہ رمضان المبارک کو صرف رمضان کہنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُهَلَّبُ بْنُ أَبِي حَبِيبَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ صُمْتُ رَمَضَانَ، وَلَا قُمْتُهُ كُلَّهُ، وَلَا أَدْرِي كَرِهَ التَّزْكِيَةَ، أَوْ قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ وَرَقْدَةٍ اللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ.

ابوبکرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے، اور اس کی پوری راتوں میں قیام کیا (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ آپ نے آپ اپنی تعریف کرنے کو ناپسند کیا، یا آپ نے سمجھا ضرور کوئی نہ کوئی غفلت اور لاپرواہی ہوئی ہوگی (پھر یہ کہنا کہ میں نے پورے رمضان میں عبادت کی کہاں صحیح ہوا) یہ الفاظ عبیداللہ کے ہیں۔

It was narrated from abu Bakrah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said; None of you should say: I fasted Ramadan or I prayed Qiyam throughout the whole month." I do not know whether he dislike self-praise or he said: "Inevitably there will be heedlessness and sleep." (Da if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2109
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٤٧ (٢٤١٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٦٤)، مسند احمد ٥/٣٩، ٣٠، ٤١، ٤٨، ٥٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” حسن بصری “ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )