عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت سے کہا: جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کرلو، کیونکہ (ماہ رمضان میں) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے ۔
Ibn Abbas told us: "The Messenger of Allah said to a woman from among the Ansar: When it is Ramadan, perform Umrah then, for Umrah during it is equivalent to Hajj."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2110
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل ؓ نے انہیں معاویہ ؓ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آگیا، عبداللہ بن عباس ؓ نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے (تاکیداً ) پوچھا: تم نے (بھی) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں (میں نے بھی دیکھا تھا) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے (بھی) روزے رکھے، اور معاویہ ؓ نے بھی، (تو) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے (سنیچر) کی رات کو دیکھا تھا، (لہٰذا) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم (گنتی کے) تیس دن پورے کرلیں، یا ہم (اپنا چاند) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! (کیونکہ) رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
Kuraib narrated that Umm Al-Fadl sent him to Muawiyah in Ash-Sham. He said: "I came to Ash-Sham. He said: "I came to Ash-Sham and complete her errand. Then the new crescent of Ramadan was sighted while I was in Ash-Sham. I saw the new crescent on the night of Friday, then I came to Al-Madinah at the end of the month. Abdullah bin Abbas asked me about the sighting of the moon and said: When did you see it? I said: We saw it on the night of Friday. He said; You saw it on the ninth of Friday? I said: Yes, and the people saw it and started fasting, and so did Muawiyah. He said: But we saw it on the night of Saturday, so we will continue fasting until we have completed thirty days or we see it. I said: Will you not be content with the sighting of Muawiyah and his companions? He said; No; this is what the Messenger of Allah enjoined upon us."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2111
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا (اور) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کردیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said; "A Bedouin came to the Prophet and said: I have sighted the crescent. He said: Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Muhammad is His slave and Messenger? He said: Yes. So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) gave the call saying: Fast."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2112
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصیام ١٤ (٢٣٤٠، ٢٣٤١) مرسلاً، سنن الترمذی/الصیام ٧ (٦٩١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٦ (١٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٤)، سنن الدارمی/الصوم ٦ (١٧٣٤) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم ٢١١٦: میں آ رہا ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A Bedouin come to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said; I have sighted the crescent tonight. He said: Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Messenger? He said: Yes. He said: O Bilal, announce to the people that they should fast tomorrow. "
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2113
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا (کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (کی گنتی) پوری کرو، (اور) اگر دو گواہ (چاند دیکھنے کی) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار (یعنی عید) کرو ۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Zaid bin Al-Khattab (RA) addressed the people on the day concerning which there was doubt (as to whether the month had begun) and said: “I sat with the Companions of the Messenger of Allah ﷺ and asked them, and they narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and perform the rites on that basis. If it is obscured, then complete thirty days, and if two witnesses testify then fast and stop fasting.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2116
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (دن) پورے کرو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2117
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٢٩ شعبان کو آسمان میں بادل ہوں اور اس کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزوں کی شروعات کرو، اسی طرح ٢٩ رمضان کو اگر عید الفطر کا چاند نظر نہ آسکے تو تیس روزے پورے کر کے عید الفطر مناؤ۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، (اور) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2118
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو (پورے) تیس دن روزہ رکھو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When you see the Crescent then fast, and when you See it, stop fasting. If it is obscured from you (too cloudy), then fast thirty days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2119
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الصوم ٢ (١٠٨١)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٣١٠٢)، مسند احمد ٢/٢٦٣، ٢٨١ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ۔
‘Abdullah bin ‘Umar said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out (from the beginning of the month, to complete thirty days).” (Sahih).
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2120
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥ (١٩٠٠) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصوم ٢ (١٠٨٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٤ (٢٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٧ (١٦٥٤)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٣)، مسند احمد ٢/١٥٢ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو، (اور) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ mentioned Ramadan and said: “Do not fast until you see the crescent, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2121
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم (رمضان کے) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس (مہینے) کا حساب لگا لو ۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Prophet ﷺ said: “Do not fast until you see it, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.” (sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2122
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: جب تم اسے (یعنی رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (یعنی عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned the crescent and said: ‘When you see it, fast, and when you see it, stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then count thirty days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2123
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے (رمضان کا چاند) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty (days).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2124
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbás said: “I am surprised at those who anticipate the month, when the Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you see the new crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty days.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2125
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ١ ؎ یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کرلو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کرلو ۔
It was narrated from Ribi’i bin Hirash, from Hudhajfah bin Al Yaman, that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do not anticipate the month until you see the crescent before it, or you complete the number of days. Then fast until you see the new moon, or you complete the number of days.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2126
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کرلو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کرلو ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated from Rib’i that one of the Companions of the Prophet ﷺ h. said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do not anticipate the month until you complete the number, or you see the crescent. Then fast, and do not stop fasting until you see the crescent, or your complete thirty days.” Al Hajjaj bin Artah reported it in a Mursal from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2127
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو ۔
It was narrated that Rib’i said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting. If it is too cloudy then complete Sha’ban as thirty days, unless you see the crescent before that, then fast Ramadan as thirty days, unless you see the new crescent before that.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2128
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٢٨ (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہوجائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو ۔
Ibn ‘Abbas narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “Fast When you see it, and stop fasting when you see it, and if clouds Prevent you from seeing it, then Complete the number, and do not fast ahead of Ramadàn.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2129
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٧ (٢٣٢٧)، سنن الترمذی/الصوم ٥ (٦٨٨)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٥)، مسند احمد ١/٢٢٦، ٢٥٨، سنن الدارمی/الصوم ١ (١٧٢٥)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢١٣٢، ٢١٩١ (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم: ٢١٢٦ سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے )