خرید و فروخت کے مسائل و احکام

Sunan An Nasai · Chapter 44 · 257 hadiths · Page 1 of 13

4454Sunan An Nasai

خود کما کر کھانے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی (محنت کی) کمائی سے کھائے، اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "The best (most Pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and a mans child (and his childs wealth) is part of his earnings" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4449
Notes · وضاحت
١ ؎: سب سے پاکیزہ کمائی کی بابت علماء کے تین اقوال ہیں: ١- تجارت ٢- ہاتھ کی کمائی اور ایسا پیشہ جو کمتر درجے کا نہ ہو ٣- زراعت (کھیتی باڑی)، ان میں سب سے بہتر کون ہے اس کا دارومدار حالات و ظروف پر ہے۔ راجح یہ ہے کہ سب سے بہتر اور پاکیزہ رزق وہ ہے جو حدیث رسول جعل رزقی تحت ظل رمحی کے مطابق بطور غنیمت حاصل ہو۔ اس لیے کہ یہ دین کے غلبہ کے لیے حاصل ہونے والی جدوجہد اور قتال میں حاصل مال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٩ (٣٥٢٨، ٣٥٢٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٢ (١٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٤ (٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٢)، مسند احمد (٦/٣١، ٤١، ١٢٧، ١٦٢، ١٩٣، ٢٠١، ٢٠٢، ٢٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٦ (٢٥٧٩) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کی راویہ ” عمة عمارة “ مجہولہ ہیں )
4455Sunan An Nasai

خود کما کر کھانے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ، فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری اولاد سب سے پاکیزہ کمائی ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Your children are part of the best of your earnings, so eat from what your children earn.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4450
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ (صحیح )
4456Sunan An Nasai

خود کما کر کھانے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best (most pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and his child (and his childs wealth) is part of his earning.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4451
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١ (٢١٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٦١)، مسند احمد (٦/٤٢، ٢٢٠) (صحیح )
4457Sunan An Nasai

خود کما کر کھانے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی کمائی سے کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best (most pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and his child (and his childs wealth) is part of his earning.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4452
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4458Sunan An Nasai

آمدنی میں شبہات سے بچنے سے متعلق احادیث شریفہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ، وَرُبَّمَا قَالَ: وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً، قَالَ: وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ، مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى، وَرُبَّمَا قَالَ: إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُرْتِعَ فِيهِ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ.

نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (اللہ کی قسم، میں آپ سے سن لینے کے بعد کسی سے نہیں سنوں گا) آپ فرما رہے تھے: حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، ان دونوں کے بیچ کچھ شبہ والی چیزیں ہیں (یا آپ نے مشتبہات کے بجائے مشتبھ ۃ ً کہا ١ ؎ ) - اور فرمایا: میں تم سے اس سلسلے میں ایک مثال بیان کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ بنائی تو اللہ کی چراگاہ یہ محرمات ہیں، جو جانور بھی اس چراگاہ کے پاس چرے گا قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے یا یوں فرمایا: جو بھی اس چراگاہ کے جانور پاس چرائے گا قریب ہے کہ وہ جانور اس میں سے میں چر لے۔ اور جو مشکوک کام کرے تو قریب ہے کہ وہ (حرام کام کرنے کی) جرات کر بیٹھے ۔

An-Numan bin Bashir said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "That which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters which are not as clear. I will strike a parable for you about that: indeed Allah, the Mighty and Sublime, has established a sanctuary, and the sanctuary of Allah is that which He has forbidden. Whoever approaches the sanctuary is bound to transgress upon it, Or he said: Whoever grazes around the sanctuary will soon transgress upon it, and whoever indulges in matters that are not clear, he will soon transgress beyond the limits.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4453
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں: حلال، حرام اور مشتبہ (شک و شبہہ والی چیزیں) پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب و سنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب و سنت میں واضح ہیں جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے، یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو جیسے رسول اللہ ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی تو فرمایا کہ اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کی ہوسکتی ہے تو میں اسے کھا لیتا۔ اس لیے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے، کیونکہ اسے اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے آدمی حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جرات و جسارت کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٩ (٥٢)، البیوع ٢ (٢٠٥١)، صحیح مسلم/البیوع ٤٠ المساقاة ٢٠ (١٥٩٩)، سنن ابی داود/المساقاة ٣ (٣٣٢٩، ٣٣٣٠)، سنن الترمذی/المساقاة ١ (١٢٠٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٢٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٢٤)، مسند احمد (٤/٢٦٧، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧١، ٢٧٤، ٢٧٥)، سنن الدارمی/البیوع ١ (٢٥٧٣)، ویأتی عند المؤلف فی الأشربة ٥٠ (برقم ٥٧١٣) (صحیح )
4459Sunan An Nasai

آمدنی میں شبہات سے بچنے سے متعلق احادیث شریفہ

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ مَا يُبَالِي الرَّجُلُ مِنْ أَيْنَ أَصَابَ الْمَالَ مِنْ حَلَالٍ، أَوْ حَرَامٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی فکر و پروا نہ ہوگی کہ اسے مال کہاں سے ملا، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There will come a time when a man will not care where his wealth comes from, whether (the source is) Halal or Haram.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4454
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٢٣ (٢٠٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٠١٦)، مسند احمد (٢/٤٣٥، ٤٥٢، ٥٠٥)، سنن الدارمی/البیوع ٥ (٢٥٧٨) (صحیح )
4460Sunan An Nasai

آمدنی میں شبہات سے بچنے سے متعلق احادیث شریفہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَأْكُلُونَ الرِّبَا، فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ سود کھائیں گے اور جس نے اسے نہیں کھایا، اس پر بھی اس کا غبار پڑ کر رہے گا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "There will come a time when there will be no one left who does not consume Riba, and whoever does not consume it will nevertheless be affected by residue." (Sahih)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4455
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣ (٣٣٣١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٨ (٢٢٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤١)، مسند احمد ٢/٤٩٤ (ضعیف) (حسن بصری کا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، نیز ” سعید “ لین الحدیث ہیں )
4461Sunan An Nasai

تجارت سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يَفْشُوَ الْمَالُ، وَيَكْثُرَ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ، وَيَظْهَرَ الْعِلْمُ، وَيَبِيعَ الرَّجُلُ الْبَيْعَ، فَيَقُولَ: لَا حَتَّى أَسْتَأْمِرَ تَاجِرَ بَنِي فُلَانٍ، وَيُلْتَمَسَ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبُ فَلَا يُوجَدُ.

عمرو بن تغلب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ مال و دولت کا پھیلاؤ ہوجائے گا اور بہت زیادہ ہوجائے گا، تجارت کو ترقی ہوگی، علم اٹھ جائے گا ١ ؎، ایک شخص مال بیچے گا، پھر کہے گا: نہیں، جب تک میں فلاں گھرانے کے سوداگر سے مشورہ نہ کرلوں، اور ایک بڑی آبادی میں کاتبوں کی تلاش ہوگی لیکن وہ نہیں ملیں گے ٢ ؎۔

It was narrated that Amr bin Taghilb said: "The Messenger of Allah ﷺ said: One of the portents of the Hour will be that wealth becomes widespread and abundant, and trade will become widespread, but knowledge will disappear. A man will try to sell something and will say: "No, not until I consult the merchant of banu so and so: and People will look throughout a vast area for a scribe and will not find one." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4456
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر نسخوں میں يظهر العلم ہے، اور بعض نسخوں میں يظهر الجهل ہے، یعنی لوگوں کے دنیاوی امور و معاملات میں مشغول ہونے کے سبب جہالت پھیل جائے گی، اور دوسری احادیث کے سیاق کو دیکھتے ہوئے يظهر العلم کا معنی یہاں علم کے اٹھ جانے یا ختم ہوجانے کے ہوں گے، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: یعنی ایسے کاتبوں کی تلاش جو عدل و انصاف سے کام لیں اور ناحق کسی کا مال لینے کی ان کے اندر حرص و لالچ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٧١٢) (صحیح )
4462Sunan An Nasai

تاجروں کو خرید و فروخت میں کس ضابطہ پر عمل کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا، وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو جدا ہونے تک (مال کے بیچنے اور نہ بیچنے کے بارے میں) اختیار حاصل ہے، اگر سچ بولیں گے اور (عیب و ہنر کو) صاف صاف بیان کردیں گے تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوگی، اور اگر جھوٹ بولیں گے اور عیب کو چھپائیں گے تو ان کی خریدو فروخت کی برکت جاتی رہے گی ١ ؎۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The two parties to a transaction have the choice so long as they have not separated. If they are honest and open, their transaction will be blessed, but if they tell lies and conceal anything, the blessing of their transaction will be lost.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4457
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: تجار کو اپنی خریدو فروخت کے معاملے میں جھوٹ سے بچنا چاہیئے، تبھی تجارت میں برکت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٩ (٢٠٧٩)، ٢٢ (٢٠٨٢)، ٤٢ (٢١٠٨)، ٤٤ (٢١١٠)، ٤٦ (٢١١٤)، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥٣٢)، سنن ابی داود/البیوع ٥٣ (٣٤٥٩)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦ (١٢٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٧)، مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٠٣، ٤٣٤)، سنن الدارمی/البیوع ١٥ (٢٥٨٩)، ویأتي عند المؤلف برقم ٤٤٦٩ (صحیح )
4463Sunan An Nasai

جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنا۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْخَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا، وَخَسِرُوا، قَالَ: الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ، وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ.

ابوذر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات چیت کرے گا، اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت پڑھی ١ ؎ تو ابوذر ؓ نے کہا: وہ لوگ ناکام ہوگئے اور خسارے میں پڑگئے، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا ٢ ؎، جھوٹی قسم کھا کر اپنے سامان کو بیچنے والا، دے کر باربار احسان جتانے والا ۔

It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or will He look at them, or sanctify them, and theirs will be a painful torment: Abu Dharr said:" May they be lost and doomed: He said: "The one who drags his Izar (below the ankles) the one who sells his product by means of false oaths, and the one who reminds others (Al-Mannan) of what he has given to them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4458
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آیت سے مراد سورة آل عمران کی آیت نمبر ٧٧ ہے جو اس طرح ہے ولا يكلمهم الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم (سورة آل عمران: 77) ۔ ٢ ؎: کسی کسی روایت میں خیلاء کا لفظ آیا ہے یعنی تکبر اور گھمنڈ سے ٹخنے سے نیچے ازار (تہبند) لٹکانے والا لیکن یہ وعید ہر حالت پر ہے چاہے ازار (تہبند) تکبر سے لٹکائے یا بغیر تکبر کے اور تکبر سے کا لفظ کوئی احترازی لفظ نہیں ہے، ٹخنے سے نیچے لٹکانے میں بہرحال تکبر و غرور کی کیفیت پیدا ہو ہی جاتی ہے اس لیے کسی روایت میں خیلاء کا لفظ آیا ہے۔ تکبر کے ساتھ مزید گناہ ہوگا اور عام حالت میں یہ کبیرہ گناہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٦٤ (صحیح )
4464Sunan An Nasai

جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنا۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ، وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْكَذِبِ.

ابوذر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہیں دیکھے گا، اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: وہ شخص جو کوئی بھی چیز دیتا ہے تو احسان جتاتا ہے، جو غرور اور گھمنڈ سے تہبند لٹکاتا ہے اور جو جھوٹ بول کر اپنا سامان بیچتا ہے ۔

It was narrated from Abu Dharr that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three at whom Allah will not look on the Day of Resurrection, nor will He sanctify them, and theirs will be a painful torment: the one who does not give anything but he reminds (the recipient of his gift), the one who drags his Izar (below the ankles), and the one who sells his product by means of false oaths." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4459
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٥٦٤ (صحیح )
4465Sunan An Nasai

جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنا۔

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ.

ابوقتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ خریدو فروخت میں کثرت سے قسم کھانے سے بچو، اس لیے کہ (قسم کھانے سے) سامان تو بک جاتا ہے، لیکن برکت ختم جاتی رہتی ہے ۔

It was narrated from Abu Qatadah Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Beware of taking oaths a great deal when selling, for it may help you to make a sale but it destroys the blessing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4460
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٧ (البیوع) ٤٨ (١٦٠٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٩)، مسند احمد (٥/٢٩٧، ٢٩٨، ٣٠١) (صحیح )
4466Sunan An Nasai

جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنا۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم کھانے سے سامان بک تو جاتا ہے، لیکن کمائی (کی برکت) ختم ہوجاتی ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Taking oaths may help you to make a sale but it takes (blessing) away from the earnings "(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4461
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٢٦ (٢٠٨٧)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٧ (البیوع ٤٨) (١٦٠٦)، سنن ابی داود/البیوع ٦ (٣٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١)، مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٤٢، ٤١٣) (صحیح )
4467Sunan An Nasai

دھوکہ دور کرنے کے واسطے قسم کھانے سے متعلق۔

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک شخص وہ ہے جو راستے میں فاضل پانی کا مالک ہو اور مسافر کو دینے سے منع کرے، ایک وہ شخص جو دنیا کی خاطر کسی امام (خلیفہ) کے ہاتھ پر بیعت کرے، اگر وہ اس کا مطالبہ پورا کر دے تو عہد بیعت کو پورا کرے اور مطالبہ پورا نہ کرے تو عہد بیعت کو پورا نہ کرے، ایک وہ شخص جو عصر بعد کسی شخص سے کسی سامان پر مول تول کرے اور اس کے لیے اللہ کی قسم کھائے کہ یہ اتنے اتنے میں لیا گیا تھا تو دوسرا (یعنی خریدنے والا) اسے سچا جانے (حالانکہ اس نے اس سے کم قیمت میں خریدی تھی) ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, or will He look at them, or sanctify them and theirs will be a painful torment: A man who has surplus water when traveling but he withholds it form a wayfarer; a man who swears allegiance to an imam for worldly gains, and if he gives him what he wants he is loyal to him but if he does not give him anything he is not loyal to him: and a man who sells a man his product after Asr, swerving by Allah that he bought it for such and such a price, and the other believes him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4462
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے عصر کے بعد کے وقت خریدو فروخت میں جھوٹی قسم کھانے پر وعید ہے، اس سے جہاں یہ حکم ثابت ہوا وہیں پر عصر کے بعد کی فضیلت ثابت ہوئی، اس وقت رب کی مرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدیس کا سہارا لے کر آدمی دنیاوی ترقی کا خواہش معیوب ہے، جب کہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ مقاصد حاصل کرنا ہر وقت معیوب اور غلط ہے، عصر بعد مزید شناعت و برائی ہے، شاید یہ وقت بازار کی بھیڑ اور اس میں لوگوں کے ریل پیل کا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٢٢ (٢٦٧٢)، الأحکام ٤٨ (٧٢١٢)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٦(١٠٨)، سنن ابی داود/البیوع ٦٢ (٣٤٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٣٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر ٣٥ (١٥٩٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٧)، الجہاد ٤٢ (٢٨٧٠)، مسند احمد (٢/٢٥٣، ٤٨٠) (صحیح )
4468Sunan An Nasai

جو شخص فروخت کرنے میں سچی قسم کھائے تو اس کو صدقہ دینا۔

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا، وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، وَيُسَمِّينَا النَّاسُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ لَنَا مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ، وَاللَّغْوُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.

قیس بن ابی غرزہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم مدینے میں (غلوں سے بھرے) وسق خریدتے اور بیچتے تھے، اور ہم اپنا نام سمسار (دلال) رکھتے تھے، لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے، ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس نکل کر آئے اور ہمارا ایسا نام رکھا جو ہمارے رکھے ہوئے نام سے بہتر تھا، اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خریدو فروخت میں قسم اور لغو باتیں آجاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ کو ملا دیا کرو ١ ؎۔

It was narrated that Qays bin Abi Gharazah said: "We used to trade in the markets of Al-Madinah and we used to call ourselves as-Samasir (brokers) and the people called us that, but the Messenger of Allah ﷺ came out to s and called us by a name that was better than what we called ourselves. He said: "O merchants (Tujjar)! Selling involves (false) oaths and idle talk, so mix some charity with it,"" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4463
Notes · وضاحت
١ ؎: خریدو فروخت کے وقت زبان سے لا واللہ اور بلیٰ واللہ، اللہ کی قسم، قسم اللہ کی ایمان سے وغیرہ وغیرہ جیسے قسمیہ الفاظ جو نکل جاتے ہیں ان کا شمار یمین لغو (بیکار قسم) میں ہوتا ہے، ان کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨٢٨ (صحیح )
4469Sunan An Nasai

جس وقت تک خریدنے اور فروخت کرنے والا شخص علیحدہ نہ ہوجائیں تو ان کو اختیار حاصل ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.

حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہوجائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ١ ؎، اگر وہ عیب بیان کردیں اور سچ بولیں تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوگی، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہوجاتی ہے ۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The two parties to a transaction have the choice so long as they have not separated. If they are honest and open, their transaction will be blessed, but if they tell lies and conceal anything the blessing of their transaction will be lost.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4464
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بیع کو فسخ (کالعدم) کردینے کا اختیار دونوں فریق کو صرف اسی مجلس تک ہوتا ہے جس مجلس میں بیع کا معاملہ طے ہوا ہو، مجلس ختم ہوجانے کے بعد دونوں کا اختیار ختم ہوجاتا ہے اب معاملہ فریق ثانی کی رضا مندی پر ہوگا اگر وہ راضی نہ ہوا تو بیع نافذ رہے گی۔ الا یہ کہ معاملہ کے اندر کسی اور وقت تک کی شرط رکھی گئی ہو۔ تو اس وقت تک اختیار باقی رہے گا (دیکھئیے اگلی حدیث) ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٦٢ (صحیح )
4470Sunan An Nasai

نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والا جب تک الگ الگ نہ ہوجائیں دونوں کو اپنے ساتھی پر اختیار رہتا ہے، سوائے اس بیع کے جس میں اختیار کی شرط ہو ١ ؎۔

It was narrated from Malik, from Nafi fromAbdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The two parties to a transaction both have the choice so long as they both chosen to conclude the transaction." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4465
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: وہ معاملہ جس میں طرفین سے یہ طے ہو کہ فلان تاریخ تک یا اتنے دن تک معاملہ کو ختم کرنے کا اختیار رہے گا، اس معاملہ میں مقررہ مدت تک حق اختیار اور حاصل رہے گا، باقی دیگر معاملات میں صرف معاملہ کی مجلس ختم ہونے تک اختیار رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١)، سنن ابی داود/البیوع ٥٣ (٣٤٥٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤١)، مسند احمد (١/٥٦) (صحیح )
4471Sunan An Nasai

نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ خِيَارًا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں، یا پھر اختیار کی شرط ہو ۔

It was narrated from Yahaya, from Ubaidullah who said: "Nafi narrated to me from Ibn Umar, tht the Messenger of Allah ﷺ said: the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, or they have chosen." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4466
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١ م)، (تحفة الأشراف: ٨١٨٠)، مسند احمد (٢/٥٤) (صحیح )
4472Sunan An Nasai

نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ، فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہوجاتی ہے (البتہ اختیار باقی رہتا ہے) ۔

It was narrated from Ismail, from Nafi, that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, unless they have both chosen to conclude they transaction. If they have both chosen to conclude the transaction, then the transaction is binding." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4467
Takhrij · تخریج
تفرد النسائي (تحفة الأشراف: ٧٥٠٦) (صحیح )
4473Sunan An Nasai

نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہوجاتی ہے (لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے) ۔

It was narrated from Ibn Juraij: "Nafi dictated to me, from Ibn Umar who said: The Messenger of Allah ﷺ said: the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated, unless they have both chosen to conclude the transaction. If they have both chosen to conclude the transaction, then the transactions binding." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4468
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١)، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٩) (صحیح )