Sunan An Nasai 4469

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4469Sunan An Nasai

جس وقت تک خریدنے اور فروخت کرنے والا شخص علیحدہ نہ ہوجائیں تو ان کو اختیار حاصل ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ، مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، فَإِنْ بَيَّنَا وَصَدَقَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.

حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے جب تک جدا نہ ہوجائیں دونوں کو اختیار رہتا ہے ١ ؎، اگر وہ عیب بیان کردیں اور سچ بولیں تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوگی، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت ختم ہوجاتی ہے ۔

It was narrated that Hakim bin Hizam said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The two parties to a transaction have the choice so long as they have not separated. If they are honest and open, their transaction will be blessed, but if they tell lies and conceal anything the blessing of their transaction will be lost.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4464
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بیع کو فسخ (کالعدم) کردینے کا اختیار دونوں فریق کو صرف اسی مجلس تک ہوتا ہے جس مجلس میں بیع کا معاملہ طے ہوا ہو، مجلس ختم ہوجانے کے بعد دونوں کا اختیار ختم ہوجاتا ہے اب معاملہ فریق ثانی کی رضا مندی پر ہوگا اگر وہ راضی نہ ہوا تو بیع نافذ رہے گی۔ الا یہ کہ معاملہ کے اندر کسی اور وقت تک کی شرط رکھی گئی ہو۔ تو اس وقت تک اختیار باقی رہے گا (دیکھئیے اگلی حدیث) ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٦٢ (صحیح )