Sunan An Nasai 4465

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4465Sunan An Nasai

جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنا۔

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ.

ابوقتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ خریدو فروخت میں کثرت سے قسم کھانے سے بچو، اس لیے کہ (قسم کھانے سے) سامان تو بک جاتا ہے، لیکن برکت ختم جاتی رہتی ہے ۔

It was narrated from Abu Qatadah Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "Beware of taking oaths a great deal when selling, for it may help you to make a sale but it destroys the blessing.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4460
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٧ (البیوع) ٤٨ (١٦٠٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٩)، مسند احمد (٥/٢٩٧، ٢٩٨، ٣٠١) (صحیح )