Sunan An Nasai 4454

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4454Sunan An Nasai

خود کما کر کھانے کی ترغیب

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ، وَإِنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی (محنت کی) کمائی سے کھائے، اور آدمی کی اولاد اس کی کمائی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "The best (most Pure) food that a man eats is that which he has earned himself, and a mans child (and his childs wealth) is part of his earnings" (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4449
Notes · وضاحت
١ ؎: سب سے پاکیزہ کمائی کی بابت علماء کے تین اقوال ہیں: ١- تجارت ٢- ہاتھ کی کمائی اور ایسا پیشہ جو کمتر درجے کا نہ ہو ٣- زراعت (کھیتی باڑی)، ان میں سب سے بہتر کون ہے اس کا دارومدار حالات و ظروف پر ہے۔ راجح یہ ہے کہ سب سے بہتر اور پاکیزہ رزق وہ ہے جو حدیث رسول جعل رزقی تحت ظل رمحی کے مطابق بطور غنیمت حاصل ہو۔ اس لیے کہ یہ دین کے غلبہ کے لیے حاصل ہونے والی جدوجہد اور قتال میں حاصل مال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٩ (٣٥٢٨، ٣٥٢٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٢ (١٢٥٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٤ (٢٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٢)، مسند احمد (٦/٣١، ٤١، ١٢٧، ١٦٢، ١٩٣، ٢٠١، ٢٠٢، ٢٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٦ (٢٥٧٩) (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کی راویہ ” عمة عمارة “ مجہولہ ہیں )