عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع کرنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ اختیار کی شرط کرلو ۔
It was a narrated from Ayyub, from Nafi from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Messenger of Allah said: "The two parties to a transaction both have the choice who long as they have not separated or one of them says to the other: Decide!" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4469
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع کرنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر وہ اختیاری خریدو فروخت ہو ۔ نافع کی بعض روایتوں میں یوں ہے أو يقول أحدهما للآخر اختر یا ان میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے: بیع میں اختیار کی شرط کرو ۔
It was narrated from Ayyub, from Nafi from Ibn Umar, who said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated or chosen to conclude the transaction." Or perhaps Nafi said: "Or one of them has said to the other: Decide! "(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4470
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع کرنے والے دونوں اختیار کے ساتھ رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ الگ تھلگ ہوجائیں، یا بیع خیار (اختیاری بیع) کے ساتھ ہو ۔ کبھی کبھی نافع نے یوں کہا: أو يقول أحدهما للآخر اختر یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہے: بیع بالخیار کرو ۔
It was narrated from Al-Laith from Nafi from Ibn Umar who said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated or they have chosen to conclude the transaction. Or perhaps Nafi said: "Or one of them has said to the other: Decide! (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4471
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو آدمی آپس میں خریدیں اور بیچیں تو ان میں سے ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، اور ایک دوسری بار نافع نے (حتى يفترقا کے بجائے) ما لم يتفرقا کہا، حالانکہ وہ دونوں ایک جگہ تھے، یا یہ کہ ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے، لہٰذا اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دیدے اور وہ دونوں اس (شرط خیار) پر بیع کرلیں تو بیع ہوجائے گی، اب اگر وہ دونوں بیع کرنے کے بعد جدا ہوجائیں اور ان میں سے کسی ایک نے بیع ترک نہ کی تو بیع ہوجائے گی۔
It was narrated from Al-Laith, from Nafi, from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When two men enter into a transaction, each of them has the choice until they separate." On one occasion he said: "So long as they have not separated and one has not told the other to decide. If one tells the other to decide and they agree upon something, then the transaction is binding. If they separate after entering into a transaction and neither of them has canceled the transaction, then the transaction is binding.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4472
عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار (اختیاری خریدو فروخت) ہو ۔ نافع کہتے ہیں: چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے (فوراً ) جدا ہوجاتے۔
It was narrated from Yahya bin Sa eed who said: "I heard Nafi narrating from Ibn Umar, form the Messenger of Allah ﷺ the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated unless they have chosen to conclude the transaction. " Nafi said: When Abdullah bought something he like, he would leave straightaway.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4473
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Yahya bin Sa eed , who said: "Nafi narrated to us from Ibn Umar, who said: The Messenger of Allah ﷺ said: There is no transaction between the two parties until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction."" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4474
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Ismail from Abdullah bin Dinar, from Ibn Umar, who said: "The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4475
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Ibn Al-Had, from Abdullah bin Dinar, from Abdullah bin Umar, that he heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4476
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Sufyan, from Amr bin Dinar, from Ibn Umar, who said: the Messenger of Allah ﷺ said: "When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to concluded the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4477
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک دونوں جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Yazid bin Abdullah, from Abdullah bin dinar, from ibn Umar that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "When two people meet to engage in trade the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4478
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کے درمیان اس وقت تک بیع پوری نہیں ہوتی جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں، سوائے بیع خیار کے ۔
It was narrated from Shuban who said: "Abdullah bin Dinr narrated to us, from IbnUmar, who said; The Messenger of Allah ﷺ said; "When two people meet to engage in trade, the transaction between them is not binding until they separate, unless they have chosen to conclude the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4479
عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوجائیں، إلا یہ کہ وہ بیع خیار ہو ۔
It was narrated from Sufyan, from Abdullah bin Dinar, from Ibn Umar, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who said: "Two traders have the choice as long as they have not separated, or, they have chosen to conclude the transaction.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4480
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار رہتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں یا ان میں سے ہر ایک بیع کو اپنی مرضی کے مطابق لے اور وہ تین بار اختیار لیں ۔
It was narrated from Al_Hasan, from Samurah, that the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: "Two trades have the choice as long as until they reach a deal that suits both of them and they confirm it three times.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4481
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٠)، مسند احمد (٥/١٢، ١٧، ٢١، ٢٢، ٢٣) (ضعیف) (اس کے رواة ” قتادہ “ اور ” حسن بصری “ دونوں مدلس ہیں اور ” عنعنہ “ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن کے سماع میں بھی اختلاف ہے، مگر اس حدیث کا پہلا ٹکڑا پہلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ جدا نہ ہوں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے راضی نہ ہوجائے، یا خواہش پوری نہ کرلے (یعنی بیع خیار تک) ۔
It was narrated from Al- Hasan from Samurah, who said: "The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said;" Two traders have the choice as long as they have not separated, or until they reach a deal that suits both of them or that is satisfactory (to both)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4482
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور (کسی فریق کے لیے) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father , form his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The two parties to a transaction have the choicer so long as they have not separated, unless they reach an agreement before parting, and it is not permissible to hasten to leave for fear that the other party may change his mind.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4483
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جدائی سے مراد جسمانی جدائی ہے، یعنی دونوں کی مجلس بدل جائے، نہ کہ مجلس ایک ہی ہو اور بات چیت کا موضوع بدل جائے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ وہ بیع میں دھوکہ کھا جاتا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا: جب تم بیچو تو کہہ دیا کرو: فریب اور دھوکہ دھڑی نہ ہو، چناچہ وہ شخص جب کوئی چیز بیچتا تو کہتا: دھوکہ دھڑی نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: a man told the Messenger of Allah ﷺ that he was always being cheated. The Messenger of Allah ﷺ said to him: "When you make a deal, say: There is no intention of cheating" So, whenever the man engages in a deal he says, There is no intention of cheating." "(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4484
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کہہ دینے سے اسے اختیار حاصل ہوجاتا اگر بعد میں اسے پتہ چل جائے کہ اس کے ساتھ چالبازی کی گئی ہے تو وہ اسے فسخ کرسکتا ہے۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کم عقلی کا شکار تھا اور تجارت کرتا تھا، اس کے گھر والوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! آپ اسے تجارت کرنے سے روک دیجئیے، تو آپ نے اسے بلایا اور اسے اس سے روکا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں تجارت سے باز نہیں آسکتا، تو آپ نے فرمایا: جب بیچو تو کہو: فریب و دھوکہ نہیں ۔
It was narrated from Anas that: there was a man whose mental faculties were lacking, and he used to buy and sell. His family came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Prophet of Allah stop him." So the Prophet (صلی اللہ علیProphet of told him not to do that. He said: "O Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) of Allah, I cProphet of ess," He said "If you engaged in a deal then say: There is no intention to deceive. " (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4485
مصراة بیچنے کی ممانعت یعنی کسی دودھ والے جانور کو بیچنے سے کچھ روز قبل اس کا دودھ نہ نکالنا تاکہ زیادہ دودھ دینے والا جانور سمجھ کر اس کی زیادہ بولی (قیمت) لگے
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ١ ؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ٢ ؎، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور (لوٹاتے وقت) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے ٣ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not go out to meet the riders, and do not bind the udders of camels and seep. Whoever has boughty anything in that manner has two choices: If he whishes he may keep it, or if he wants to return it he may return it, along with a Sa of dates." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4487
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہوسکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہوگا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ٢ ؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو تصریہ کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ٣ ؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جاسکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
مصراة بیچنے کی ممانعت یعنی کسی دودھ والے جانور کو بیچنے سے کچھ روز قبل اس کا دودھ نہ نکالنا تاکہ زیادہ دودھ دینے والا جانور سمجھ کر اس کی زیادہ بولی (قیمت) لگے
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ اس کے تھن میں روک رکھا گیا ہو تو جب اسے دو ہے اور اس پر راضی ہوجائے تو چاہیئے کہ اسے روک لے اور اگر اسے وہ ناپسند ہو تو اسے لوٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دیدے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "whoever buys a Musarraha, if he is please with it when he milks it, he may keep it, and if he is not please with it, he may return it, along with a Sa of daters" (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4488