Sunan An Nasai 4488

خرید و فروخت کے مسائل و احکام

4488Sunan An Nasai

جس وقت تک فروخت کرنے والا اور خریدار دونوں علیحدہ نہ ہوں اس وقت تک ان کو اختیار حاصل ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار ہو، اور (کسی فریق کے لیے) یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے صاحب معاملہ سے اس اندیشے سے جدا ہو کہ کہیں وہ بیع فسخ کر دے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father , form his grandfather, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The two parties to a transaction have the choicer so long as they have not separated, unless they reach an agreement before parting, and it is not permissible to hasten to leave for fear that the other party may change his mind.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4483
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جدائی سے مراد جسمانی جدائی ہے، یعنی دونوں کی مجلس بدل جائے، نہ کہ مجلس ایک ہی ہو اور بات چیت کا موضوع بدل جائے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥٣ (٣٤٥٦)، سنن الترمذی/البیوع ٢٦(١٢٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٧)، مسند احمد (٢/١٨٣) (حسن )