نافع کی روایت میں الفاظ حدیث میں راویوں کا اختلاف
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ.
عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خریدو فروخت کرنے والے دونوں اپنی بیع کے سلسلے میں اس وقت تک اختیار کے ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ جدا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ وہ بیع خیار (اختیاری خریدو فروخت) ہو ۔ نافع کہتے ہیں: چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ جب کوئی ایسی چیز خریدتے جو دل کو بھا گئی ہو تو صاحب معاملہ سے (فوراً ) جدا ہوجاتے۔
It was narrated from Yahya bin Sa eed who said: "I heard Nafi narrating from Ibn Umar, form the Messenger of Allah ﷺ the two parties to a transaction both have the choice so long as they have not separated unless they have chosen to conclude the transaction. " Nafi said: When Abdullah bought something he like, he would leave straightaway.