انس بن مالک، مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں تھا کہ اسی دوران میرے پاس تین (فرشتے) آئے، ان تینوں میں سے ایک جو دو کے بیچ میں تھا میری طرف آیا، اور میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا، تو اس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، اور دل کو آب زمزم سے دھویا، پھر وہ حکمت و ایمان سے بھر دیا گیا، پھر میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا، میں جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ چلا، تو ہم آسمان دنیا پر آئے، تو پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، پوچھا گیا: کیا بلائے گئے ہیں؟ مرحبا مبارک ہو ان کی تشریف آوری، پھر میں آدم (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا: کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے ان دونوں کو سلام کیا، ان دونوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے، پوچھا گیا کون ہو؟ انہوں نے کہا: جبرائیل ہوں، پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد ﷺ ہیں، یہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اسی طرح ہوا، یہاں میں ادریس (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، میں ہارون (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی، اور نبی! پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بھائی اور نبی! تو جب میں ان سے آگے بڑھا، تو وہ رونے لگے ١ ؎، ان سے پوچھا گیا آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے اس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ اور افضل ہوں گے، پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا، تو میں ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے کہا: خوش آمدید تمہیں اے بیٹے اور نبی! پھر بیت معمور ٢ ؎ میرے قریب کردیا گیا، میں نے (اس کے متعلق) جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ بیت معمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں، جب وہ اس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اس میں واپس نہیں ہوتے، یہی ان کا آخری داخلہ ہوتا ہے، پھر سدرۃ المنتھی میرے قریب کردیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے، اور اس کے پتے ہاتھی کے کان جیسے تھے، اور اس کی جڑ سے چار نہریں نکلی ہوئی تھی، دو نہریں باطنی ہیں، اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، اور ظاہری نہریں فرات اور نیل ہیں، پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں، میں لوٹ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئیں ہیں، انہوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اس کی طاقت بالکل نہیں رکھتی، اپنے رب کے پاس واپس جایئے، اور اس سے گزارش کیجئیے کہ اس میں تخفیف کر دے، چناچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، انہوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس کردی ہیں، پھر انہوں نے مجھ سے وہی بات کہی جو پہلی بار کہی تھی، تو میں پھر اپنے رب عزوجل کے پاس واپس آیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تیس کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے انہیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پھر وہی بات کہی جو پہلے کہی تھی، تو میں نے کہا: (اب مجھے) اپنے رب عزوجل کے پاس (باربار) جانے سے شرم آرہی ہے، تو آواز آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کردیا ہے، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی ہے، اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA), from Malik bin Sa’ that the Prophet ﷺ said: “While I was at the Ka’bah, in a state between sleep and wakefulness, three men came, and one of them who was in the middle came toward me. I was brought a basin of gold, filled with wisdom and faith, and he slit open from the throat to the lower abdomen, and washed the heart with Zamzam water, then — “it was filled with wisdom and faith. Then I was brought a riding-beast, smaller than a mule and bigger than a donkey. I set off with Jibril, peace be upon him, and we came to the lowest heaven. It was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibril.’ It was said: “Who is with you?’ He said: ‘Muhammad.’ It was said: ‘Has (revelation) been sent to him? Welcome to him, what an excellent visit his is.’ I came to Adam, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent son and Prophet.’ Then we came to the second heaven and it was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibra’il.’ It was said: ‘Who is with you?’ he said: ‘Muhammad.’ And the same exchange took place. I came to Yahya and ‘Eisa, peace be upon them both, and greeted them, and they said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the third heaven and it was said: ‘Who is this?’ He said: ‘Jibra’il.’ It was said: ‘Who is with you?’ He said: ‘Muhammad.’ And the same exchange took place. I came to Yasuf, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the fourth heaven and the same exchange took place. I came to Idris, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the fifth heaven and the same exchange took place. I came to Harun, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ Then we came to the sixth heaven and the same exchange took place. I came to Musa, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent brother and Prophet.’ When I passed him, he wept, and it was said: ‘Why are you weeping?’ He said: ‘Lord, this young man whom You have sent after me, more of his Ummah will enter Paradise than from my nation, and they will be more virtuous than them.’ Then we came to the seventh heaven and a similar exchange took place. I came to Ibrahim, peace be upon him, and greeted him, and he said: ‘Welcome to you! What an excellent son and Prophet.’ Then I was taken up to the Oft-Frequented House (Ad-Bait al Ma’mur) and I asked Jibra’il about it, and he said: ‘This is Al-Bait a! Ma’mur in which seventy thousand angels pray every day, and when they leave it they never come back.’ Then I was taken up to Sidrah Al Muntaha (the Lote-Tree of the Utmost Boundary). Its fruits were like the Qilal of Hajar and its leaves were like the ears of elephants. At its base were four rivers: Two hidden rivers and two manifest rivers. I asked Jibril (about them) and he said: ‘The two hidden ones are in Paradise, and the two manifest ones are the Euphrates and the Nile.’ Then fifty prayers were enjoined upon me. I came to Musaand he said: ‘What happened?’ I said: ‘Fifty prayers have been enjoined upon me.’ He said: ‘I know more about the people than you. I tried hard with the Children of Israel. Your Ummah will never be able to bear that. Go back to your Lord and ask Him to reduce it for you.’ So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, and He made it forty. Then I went back to Musa, peace be upon him, and he said: ‘What happened?’ I said: ‘He made it forty.’ He said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and He made it thirty. I came to Musa, peace be upon him, and told him, and he said to me something similar to what he said the first time, so I went back to my Lord and he made it twenty, then ten, then five. I came to Musa, peace be upon him, and he said to me something like he had said the first time, but I said: ‘I feel too shy before my Lord to go back to Him.’ Then it was called out: ‘I have decreed (the reward for) My obligation, and I have reduced the burden for My slaves, and I will give a ten-fold reward for each good deed.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 448
Notes · وضاحت
١ ؎: موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ رونا حسد کے طور پر نہیں تھا، بلکہ یہ بطور تاسف و رنج تھا کہ میری امت نے میری ایسی پیروی نہیں کی جیسی محمد ﷺ کی ان کی امت نے کی۔ ٢ ؎: بیت معمور خانہ کعبہ کے عین اور ساتویں آسمان پر ایک عبادت خانہ ہے جہاں فرشتے بہت بڑی تعداد میں عبادت کرتے ہیں۔ ٣ ؎: سدرۃ المنتھی بیری کا وہ درخت جو ساتویں آسمان پر ہے، اور جس سے آگے کوئی نہیں جاسکتا۔ ٤ ؎: ان دونوں سے مراد جنت کی دونوں نہریں کوثر اور سلسبیل ہیں۔
انس بن مالک اور ابن حزم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا، تو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گزر ہوا، تو انہوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: اس نے ان پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا: جا کر اپنے رب سے پھر سے بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، تو میں نے اپنے رب عزوجل سے بات کی، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں سے آدھا ١ ؎ معاف کردیا، تو میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، اور میں نے انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے پھر بات کیجئے، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، چناچہ میں نے اپنے رب سے پھر سے بات کی، تو اس نے کہا: یہ پانچ نمازیں ہیں جو (اجر میں) پچاس (کے برابر) ہیں، میرے نزدیک فرمان بدلا نہیں جاتا، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب سے جا کر پھر بات کیجئے، میں نے کہا: مجھے اپنے رب کے پاس (باربار) جانے سے شرم آرہی ہے ۔
Anas bin Malik (RA) and Ibn Hazm said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, enjoined fifty prayers upon my Ummah, and I came back with that until I passed by Musa, peace be upon him, who said: ‘What has your Lord enjoined upon your Ummah?’ I said: ‘He has enjoined fifty prayers on them.’ Musasaid to me: ‘Go back to your Lord,, the Mighty and Sublime, for your Ummah will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He reduced a portion of it. Then I came back to Musaand told him, and he said: ‘Go back to your Lord, for your Ummah will not be able to do that.’ So I went back to my Lord, the Mighty and Sublime, and He said: ‘They are five (prayers) but they are fifty (in reward), and the Word that comes from Me cannot be changed.’ I came back to Musaand he said: ‘Go back to your Lord.’ I said: ‘I feel too shy before my Lord, the Mighty and Sublime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 449
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پانچ پانچ کر کے پانچ بار میں آدھا معاف کیا، یا شطر سے مراد آدھا نہیں بلکہ کچھ حصہ ہے۔
یزید بن ابی مالک کہتے ہیں کہ انس بن مالک ؓ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی، تو میں سوار ہوگیا، اور میرے ہمراہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، میں چلا، پھر جبرائیل نے کہا: اتر کر نماز پڑھ لیجئیے، چناچہ میں نے ایسا ہی کیا، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی ہے، اور اسی کی طرف ہجرت ہوگی، پھر انہوں نے کہا: اتر کر نماز پڑھئے، تو میں نے نماز پڑھی، انہوں نے کہا: کیا جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا پر نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ عزوجل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا، پھر کہا: اتر کر نماز پڑھئے، میں نے اتر کر نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی ہے، جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی تھی، پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا، تو وہاں میرے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو اکٹھا کیا گیا، جبرائیل نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے ان کی امامت کی، پھر مجھے لے کر جبرائیل آسمان دنیا پر چڑھے، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں آدم (علیہ السلام) موجود ہیں، پھر وہ مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں دونوں خالہ زاد بھائی عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) موجود ہیں، پھر تیسرے آسمان پر چڑھے، تو دیکھتا ہوں کہ وہاں یوسف (علیہ السلام) موجود ہیں، پھر چوتھے آسمان پر چڑھے تو وہاں ہارون (علیہ السلام) ملے، پھر پانچویں آسمان پر چڑھے تو وہاں ادریس (علیہ السلام) موجود تھے، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں موسیٰ (علیہ السلام) ملے، پھر ساتویں آسمان پر چڑھے وہاں ابراہیم (علیہ السلام) ملے، پھر ساتویں آسمان کے اوپر چڑھے اور ہم سدرۃ المنتہیٰ تک آئے، وہاں مجھے بدلی نے ڈھانپ لیا، اور میں سجدے میں گرپڑا، تو مجھ سے کہا گیا: جس دن میں نے زمین و آسمان کی تخلیق کی تم پر اور تمہاری امت پر میں نے پچاس نمازیں فرض کیں، تو تم اور تمہاری امت انہیں ادا کرو، پھر میں لوٹ کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا، میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا: تم پر اور تمہاری امت پر کتنی (نمازیں) فرض کی گئیں؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں، تو انہوں نے کہا: نہ آپ اسے انجام دے سکیں گے اور نہ ہی آپ کی امت، تو اپنے رب کے پاس واپس جایئے اور اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، چناچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے دس نمازیں تخفیف کردیں، پھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا، تو انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چناچہ میں پھر واپس گیا تو اس نے (پھر) دس نمازیں تخفیف کردیں، میں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا انہوں نے مجھے پھر واپس جانے کا حکم دیا، چناچہ میں واپس گیا، تو اس نے مجھ سے دس نمازیں تخفیف کردیں، پھر (باربار درخواست کرنے سے) پانچ نمازیں کردی گئیں، (اس پر بھی) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: اپنے رب کے حضور واپس جایئے اور تخفیف کی گزارش کیجئے، اس لیے کہ بنی اسرائیل پر دو نمازیں فرض کی گئیں تھیں، تو وہ اسے ادا نہیں کرسکے، چناچہ میں اپنے رب کے حضور واپس آیا، اور میں نے اس سے تخفیف کی گزارش کی، تو اس نے فرمایا: جس دن میں نے زمین و آسمان پیدا کیا، اسی دن میں نے تم پر اور تمہاری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، تو اب یہ پانچ پچاس کے برابر ہیں، انہیں تم ادا کرو، اور تمہاری امت (بھی) ، تو میں نے جان لیا کہ یہ اللہ عزوجل کا قطعی حکم ہے، چناچہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس واپس آیا، تو انہوں نے کہا: پھر جایئے، لیکن میں نے جان لیا تھا کہ یہ اللہ کا قطعی یعنی حتمی فیصلہ ہے، چناچہ میں پھر واپس نہیں گیا ۔
Anas bin Malik (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “I was brought an animal that was larger than a donkey and smaller than mule, whose stride could reach as far as it could see. I mounted it, and Jibril was with me, and I set off. Then he said: ‘Dismount and pray,’ so I did that. He said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Taibah, which will be the place of the emigration.’ Then he said: ‘Dismount and pray,’ so I prayed. He said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Mount Sinai, where Allah, the Mighty and Sublime, spoke to Musa, peace be upon him.’ Then he said: ‘Dismount and pray.’ So I dismounted and prayed, and he said: ‘Do you know where you have prayed? You have prayed in Bethlehem, where ‘Eisa, peace be upon him, was born.’ Then I entered Bait Al-Maqdis (Jerusalem) where the Prophets, peace be upon them, were assembled for me, and Jiba’iI brought me forward to lead them in prayer. Then I was taken up to the first heaven, where I saw Adam, peace be upon him. Then I was taken up to the second heaven where I saw the maternal cousins ‘Eisa and Yahya, peace be upon them. Then I was taken up to the third heaven where I saw Yusuf, peace be upon him. Then I was taken up to the fourth heaven where I saw Harun, peace be upon him. Then I was taken up to the fifth heaven where I saw Idris, peace be upon him. Then I was taken up to the sixth heaven where I saw Musa, peace be upon him. Then I was taken up to the seventh heaven where I saw Ibrahim, peace be upon him. Then I was taken up above seven heavens and we came to Sidrah Al-Muntaha and I was covered with fog. I fell down prostrate and it was said to me: ‘(Indeed) The day I created the heavens and the Earth, I enjoined upon you and your Ummah fifty prayers, so establish them, you and your Ummah.’ I came back to Ibrahim and he did not ask me about anything, then I came to Musaand he said: ‘How much did your Lord enjoin upon you and your Ummah?’ I said: ‘Fifty prayers.’ He said: ‘You will not be able to establish them, neither you nor your Ummah. Go back to your Lord and ask Him to reduce it.’ So I went back to my Lord and He reduced it by ten. Then I came to Musaand he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then I came to Musaand he told me to go back, so I went back and He reduced it by ten. Then it was reduced to five prayers. He (Musa) said: ‘Go back to your Lord and ask Him to reduce it, for two prayers were enjoined upon the Children of Israel but they did not establish them.’ So I went back to my Lord and asked Him to reduce it, but He said: ‘The day I created the heavens and the Earth, I enjoined fifty prayers upon you and your Ummah. Five is for fifty, so establish them, you and your Ummah.’ I knew that this was what Allah, the Mighty and Sublime, had determined so I went back to Musa, peace be upon him, and he said: ‘Go back.’ But I knew that it was what Allah had determined, so I did not go back.” (Hasan)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 450
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٧٠١) (منکر) (فریضئہ صلاة پانچ وقت ہوجانے کے بعد پھر اللہ سے رجوع، اور اس کے جواب سے متعلق ٹکڑا صحیح نہیں ہے، صحیح یہی ہے کہ پانچ ہوجانے کے بعد آپ نے شرم سے رجوع ہی نہیں کیا )
شراب کی حرمت سے متعلق خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا اے اہل ایمان! شراب اور جوا اور بت اور پانسے (کے تیر) یہ تمام کے تمام ناپاک ہیں شیطان کے کام ہیں اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان میں دشمنی اور لڑائی پیدا کرا دے شراب پلا اور جوا کھلا کر اور روک دے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو تم لوگ چھوڑتے ہو یا نہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ (معراج کی شب) جب رسول اللہ ﷺ کو لے جایا گیا تو جبرائیل (علیہ السلام) آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ١ ؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ٢ ؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ٣ ؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ٤ ؎ عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت کریمہ إذ يغشى السدرة ما يغشى ٥ ؎ (جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں) پڑھی اور (اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو (وہاں) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورة البقرہ کی آخری آیتیں ٦ ؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “When the Messenger of Allah ﷺ was taken on the Night Journey, he came to Sidrah Al Muntaha, which is in the sixth heaven. That is where everything that comes up from below ends, and where everything that comes down from above, until it is taken from it. Allah says: When what covered the lote-tree did cover it!. He said: “It was moths of gold. And I was given three things: The five daily prayers, the last verses of Sarah Al-Ba qarah, and whoever of my Ummah dies without associating anything with Allah will be forgiven for Al Muqhimat.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 451
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے انس ؓ والی روایت میں ہے کہ ساتویں آسمان پر ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے اور شاخیں ساتویں آسمان پر ہیں۔ ٢ ؎: یعنی نیک اعمال یا روحیں وغیرہ۔ ٣ ؎: یعنی اوامر اور فرامین الٰہی وغیرہ۔ ٤ ؎: مطلب یہ ہے کہ فرشتے یہیں سے اسے وصول کرتے ہیں اور جہاں حکم ہوتا ہے اسے پہنچاتے ہیں۔ ٥ ؎: النجم: ١٦ ۔ ٦ ؎: یعنی یہ طے ہوا کہ آپ کو عنقریب یہ آیتیں دی جائیں گی، یہ تاویل اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ یہ آیتیں مدنی ہیں اور معراج کا واقعہ مکی دور میں پیش آیا تھا، یا یہ کہا جائے کہ یہ آیتیں مکی ہیں اور باقی پوری سورت مدنی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٣)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النجم (٣٢٧٦)، (تحفة الأشراف ٩٥٤٨)، مسند احمد ١/٣٨٧، ٤٢٢) (صحیح )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں، دو فرشتے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، اور آپ کا پیٹ چاک کیا، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں، اور انہیں آب زمزم سے دھویا، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کردیا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the prayers were enjoined in Makkah, and that two angels came to the Messenger of Allah ﷺ , and took him to Zamzam, where they split open his stomach and took out his innards in a basin of gold, and washed them with Zamzam water, then they filled his heart with wisdom and knowledge. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 452
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز (بڑھا کر) پوری کردی گئی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The first time the Salah was enjoined it was two Rak and it remained as such when traveling, but the Salah while resident was made complete.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 453
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کردی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔
Abu ‘Amr — meaning, Al Awza’i — said that he asked Az uhri about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ in Makkah before the Hijrah to Al-Madinah. He said: “Urwah told me that Aishah (RA) said: ‘Allah enjoined the salah upon the Messenger of Allah ﷺ , and the first thing that He enjoined was two Rak’ahs at a time, then it was made complete four Rak’ahs while in the state of residence resident but the prayer when traveling remained two Rak’ahs, as it was first enjoined.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 454
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Salah was enjoined two Rak’ahs at a time, then the aah when traveling remained like that, but the Salah while resident was increased.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 455
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن خزیمہ ( ١ /١٥٧) اور ابن حبان ( ٣ /١٨٠) کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے، تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کردیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١ (٣٥٠)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١ (٦٨٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٠ (١١٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٤٨)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢ (٨)، مسند احمد ٦/٢٧٢ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم ﷺ حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Salah was enjoined on the lips of the Prophet ﷺ , four Rak’ahs while resident, and two while traveling, and one Rak’ah during times of fear.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 456
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ ؓ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں (النساء: ١٠١ ) تو ابن عمر ؓ نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔
It was narrated that Umayyah bin ‘Abdullah bin Khalid bin Asid said to Ibn ‘Umar (RA) : “How can the Salah be shortened as Allah says: There is no sin on you if you shorten As-salah (the prayer) if you are in fear.?” Ibn ‘Umar said: “son of my brother! The Messenger of Allah ﷺ came to us when we had gone astray and he taught us. One of the things that he taught us was that Allah, the Mighty and Sublime, has commanded us to pray two Rak’ahs when traveling.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 457
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٣ (١٠٦٦)، مسند احمد ٢/٩٤، ١٤٨، ویأتي عند المؤلف (برقم: ١٤٣٥) (صحیح )
ابو سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طلحہ بن عبیداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ اہل نجد کا ایک آدمی پراگندہ سر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سن رہے تھے، لیکن جو کہہ رہا تھا اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے، یہاں تک کہ وہ قریب آگیا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: (اسلام) دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا ہے ، اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر ان کے علاوہ بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو ، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: ماہ رمضان کا روزہ ہے ، اس نے پوچھا: اس کے علاوہ بھی کوئی روزہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل رکھو ، رسول اللہ ﷺ نے اس سے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا، تو اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل صدقہ دو ، پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا، اور وہ کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی! میں اس سے نہ زیادہ کروں گا نہ کم، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ کہا ۔
It was narrated from Abu Suhail, from his father, that he heard Talhah bin ‘Ubaidullah say: “A man from the people of Najd came to the Messenger of Allah ﷺ with unkempt hair. We could hear him talking loudly but we could not understand what he was saying until he came closer. He was asking about Islam. The Messenger of Allah ﷺ said to him: ‘Five prayers each day and night.’ He said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ He said: ‘And fasting the month of Ramadan.’ He said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ And the Messenger of Allah ﷺ mentioned Zakah to him, and he said: ‘Do I have to do anything else?’ He said: ‘No, unless you do it voluntarily.’ The man left saying: ‘By Allah, I will not do any more than this or any less.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘He will achieve salvation, if he is speaking the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 458
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اس نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا ان سے پہلے یا بعد میں بھی کوئی چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں ہی فرض کی ہیں ، تو اس آدمی نے قسم کھائی کہ وہ نہ اس پر کوئی اضافہ کرے گا، اور نہ کوئی کمی کرے گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔
It was narrated that Anas said: “A man asked the Messenger of Allah ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , how many prayers has Allah enjoined upon His slaves?’ He said: ‘Allah has enjoined upon His slaves (five) prayers.’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ , is there anything before them or after them?’ He said: ‘Allah has enjoined upon His slaves (five) prayers.’ The man swore that he would not do anything more or less than that. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If he is speaking the truth he will most certainly enter Paradise.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 459
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١١٦٦)، وقد أخرجہ: حم ٣/٢٦٧، صحیح مسلم/في الإیمان ٣ (١٢)، سنن الترمذی/في الزکاة ٢ (٦١٩) والمؤلف في الصوم ١ (برقم: ٢٠٩٣) من طریق ثابت عن أنس مطولاً (صحیح )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرو گے؟ آپ نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا، تو ہم سب نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور آپ سے بیعت کی، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ سے بیعت تو کرلی، لیکن یہ بیعت کس چیز پر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بیعت اس بات پر ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے ، اور آپ نے ایک اور بات آہستہ سے کہی کہ لوگوں سے کچھ مانگو گے نہیں ۔
‘Awf bin Malik Al-Ashja`i said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ , and he said: ‘Will you not pledge to the Messenger of Allah ﷺ ?‘ And he repeated it three times. So we stretched forth our hands to give our pledge. We said: ‘Messenger of Allah ﷺ , we are willing to give you our pledge, but on what?’ He said: ‘That you will worship Allah and not associate anything with him, and (offer) the five daily prayers.’ And he said, very quietly: ‘And you will not ask the people for anything.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 460
ابن محریز سے روایت ہے کہ بنی کنانہ کے ایک آدمی نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا شام میں ایک آدمی کو جس کی کنیت ابو محمد تھی کہتے سنا کہ وتر واجب ہے، مخدجی کہتے ہیں: تو میں عبادہ بن صامت ؓ کے پاس گیا، اور میں نے مسجد جاتے ہوئے انہیں راستے ہی میں روک لیا، اور انہیں ابو محمد کی بات بتائی، تو عبادہ ؓ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ کہا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں ادا کرے گا، اور ان میں سے کس کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا، تو اللہ کا اس سے پختہ وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے انہیں ادا نہیں کیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۔
It was narrated from Ibn Muhairiz that a man from Banu Kinanah who was called Al-Mukhdaji heard a man in Ash-Sham, who was known as Abu Muhammad, saying that Witr was obligatory. Al-Mukhdaji said: “In the morning I went to ‘Ubadahh bin As-Samit, and I met him while he was on his way to the Masjid. I told him what Abu Muhammad said, and ‘Ubadahh said: ‘Abu Muhammad is wrong. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Five prayers are those that Allah has decreed for (His) slaves, whoever does them, and does not neglect any of them out of disregard toward them, will have a promise from Allah that He will admit him to Paradise. And whoever does not do them will have no such promise from Allah; if He wills he will punish him and if He wills He will admit him to Paradise.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 461
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٧ (١٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة ١٩٤ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٢)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٣/١٤ (١٤)، مسند احمد ٥/٣١٥، ٣١٩، ٣٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی رہے گا ، لوگوں نے کہا: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اسی طرح پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Do you think that if there was a river by the door of any one of you, and he bathed in it five times each day, would there be any trace of dirt left on him?” They said: “No trace of dirt would be left on him.” He said: “That is the likeness of the five daily prayers. By means of them Allah erases sins.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 462
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن شرط یہ ہے کہ ان نمازوں کو سنت کے مطابق خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جائے۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو (فرق کرنے والا) عہد ہے، وہ نماز ہے، تو جو اسے چھوڑ دے گا، کافر ہوجائے گا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Buraidah that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The covenant that stands between us and them is the Salah; whoever abandons it, he was committed disbelief.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 463
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے نزدیک یہ حکم ایسے شخص کے لیے ہے جو نماز کے ترک کو حلال سمجھے، اور جو شخص محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے تو وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن صحابہ کرام سے لے کر آج تک کے بہت سے محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئیے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة مؤلفہ امام محمد بن نصر مروزی (تحقیق دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)، اور تارک صلاۃ کا حکم تصنیف شیخ ابن عثیمین (ترجمہ: دکتور عبدالرحمٰن الفریوائی)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢١)، سنن ابن ماجہ/إقامة ٧٧ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٦٠)، مسند احمد ٥/٣٤٦، ٣٥٥ (صحیح )
حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: میں نے دعا کی، اے اللہ! مجھے کوئی نیک ہم نشیں عنایت فرما، تو مجھے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی ملی، وہ کہتے ہیں: تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی تھی کہ مجھے ایک نیک ہم نشیں عنایت فرما تو (مجھے آپ ملے ہیں) آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کیجئیے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، ہوسکتا ہے اللہ اس کے ذریعہ مجھے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: (قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی، اگر یہ درست ہوئی تو یقیناً وہ کامیاب و کامراں رہے گا، اور اگر خراب رہی تو بلاشبہ ناکام و نامراد رہے گا ، راوی ہمام کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم یہ قتادہ کی بات ہے یا روایت کا حصہ ہے، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی رہی تو اللہ فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ (اگر ہو تو) ١ ؎ فرض میں جو کمی ہے اس کے ذریعہ پوری کردی جائے، پھر اس کا باقی عمل بھی اسی طرح ہوگا ۔
It was narrated that Huraith bin Qabisah said: “I arrived in Al Madinah and said: ‘Allah, make it easy for me to find a righteous companion.’ Then I sat with Abu Hurairah (RA) h, may Allah be pleased with him, and said: ‘I prayed to Allah to help me find a righteous companion.’ So tell me a Hadith that you heard from the Messenger of Allah ﷺ , so that Allah might benefit me from it. He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is sound then he will have succeeded, be salvaged, but if it is not then he will have lost and be doomed.” — (One of the narrators) Hammam said: “I do not know whether this was the words of Qatadah or part of the report.” — “If anything is lacking from his obligatory prayers, He will say: ‘Look and see whether My slave has any voluntary prayers to make up for what is deficient from his obligatory prayers.’ Then all of his deeds will be dealt with in like manner.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 465
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٨٩ (٤١٣)، مسند احمد ٢/٤٢٥، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٩) وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٢ (١٤٢٥) (صحیح) راوی ابوالعوام نے (جو اگلی سند میں ہیں) ہمام کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔ وضاحت ١ ؎: مخالفت اس طرح ہے کہ ہمام نے اسے بطریق قتادہ عن الحسن عن حریث عن ابی ہریرہ، اور ابوالعوام نے بطریق قتادہ عن الحسن عن ابی رافع عن ابی ہریرہ روایت کیا ہے ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے بندہ سے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی، اگر وہ پوری ملی تو پوری لکھ دی جائے گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو تم اس کے پاس کوئی نفل پا رہے ہو کہ جس کے ذریعہ جو فرائض اس نے ضائع کئے ہیں اسے پورا کیا جاسکے، پھر باقی تمام اعمال بھی اسی کے مطابق جاری ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “The first thing for which a person will be brought to account on the Day of Resurrection will be his Salah. If it is found to be complete then it will be recorded as complete, and if anything is lacking He will say: ‘Look and see if you can find any voluntary prayers with which to complete what he neglected of his obligatory prayers.’ Then the rest of his deeds will be reckoned in like manner.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے بندہ سے نماز کی بازپرس ہوگی، اگر اس نے اسے پورا کیا ہے (تو ٹھیک ہے) ورنہ اللہ عزوجل فرمائے گا: دیکھو میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے؟ اگر اس کے پاس کوئی نفل ملا تو فرمائے گا: اس کے ذریعہ فرض پورا کر دو ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The first thing for which a person will be brought to account will be his Salah. If it is complete (all well and good), otherwise Allah will say: ‘Look and see if My slave did any voluntary prayer.’ If he is found to have done voluntary prayers, his obligatory prayers will be completed therewith.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 467