غسل کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 4 · 53 hadiths · Page 3 of 3

436Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ، وَالْمِقْدَادُ، وَعَمَّارٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرُؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا، فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ الْمَذْيُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار ؓ نے آپس میں بات کی، علی ؓ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ ﷺ سے (اس کے بارے میں) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ ﷺ سے پوچھے (عطاء کہتے ہیں:) ابن عباس ؓ نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے (میں اس کا نام بھول گیا) آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے وضوئه للصلاة کہا یا کوضوء الصلاة کہا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: Ali, Al-Miqdad and ‘Ammar were talking. ‘Ali said: ‘I am a man who emits a lot of Madhi but I am too shy to ask the Messenger of Allah ﷺ about that because if his daughter’s position with me, so let one of you ask him.’ He told me that one of them but I forgot who — asked him, and the Prophet ﷺ said: ‘That is Madhi. If any one of you notices that, let him wash it off himself and perform Wudu’ as for prayer or similar to the Wudu of prayer.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 435
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٤ (٣٠٣)، (تحفة الأشراف ١٠١٩٥)، مسند احمد ١/١١٠، و عبداللہ بن أحمد، ویأتی عندالمؤلف برقم (٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠) (صحیح الإسناد )
437Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔

It was narrated that ‘Ali, may Allah be pleased with him, said: “I was a man who emitted a great deal of Madhi. I told a man to ask the Prophet ﷺ (about that) and he said: ‘Wudu’(is required) for that.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 436
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
438Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ. الِاخْتِلَافُ عَلَى بُكَيْرٍ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے میں فاطمہ ؓ کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔

It was narrated that ‘Ali said: “I felt too shy to ask the Messenger of Allah ﷺ about Mad because of Fatimah, so I told Al-Miqdad to ask him, and he said: ‘Wudu’ (is required) for that.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 437
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا مقصود اس حدیث کی روایت کے سلسلہ میں سلیمان الاعمش کے تلامذہ کے باہمی اختلاف کو واضح کرنا ہے کہ یہی حدیث محمد بن حاتم کی سند میں عبیدہ نے اسے بواسطہ اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن علی اور بعد والی حدیث محمد بن عبدالٔاعلی کی سند میں شعبہ نے بواسطہ اعمش عن منذر عن محمد بن علی عن علی روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٧ (صحیح )
439Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.

علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ (جا کر) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: وضو کرلو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو ۔

‘Ali said: “I sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah ﷺ to ask him about Madhil, and he said: ‘Perform Wudu’ and sprinkle water over your private part.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman said: Makhramah (one of the narrators) did not hear anything from his father.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 438
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٤٣٦ (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ) (مخرمہ کا اپنے باپ ” بکیر “ سے سماع نہیں ہے )
440Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ.

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے مقداد کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کرلے ۔

It was narrated that Sulaiman bin Yasár said: “ Ali Ibn Abi Talib (RA) sent Al-Miqdad to the Messenger of Allah ﷺ to ask him about a man who notices Madhi. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Let him wash his penis then perform Wudu’.” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 439
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٣٦، و بإرسالہ تفرد المؤلف ۔ (” سلیمان بن یسار “ اور ” علی ؓ “ کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ )
441Sunan An Nasai

مذی خارج ہونے پر وضو کا بیان

أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.

مقداد بن اسود ؓ علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ علی ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرلے ۔

It was narrated from Al Miqdad bin Al-Aswad that ‘ Ali Ibn Abi Talib (RA) , peace be upon him, told him to ask the Messenger of Allah ﷺ about a man who gets close to a woman and Madhi comes out of him. (He said:) “For his daughter is (married) to me and I feel too shy to ask him.” So he asked the Messenger of Allah ﷺ about that and he said: “If any one of you notices that let him sprinkle water on his private parts and perform Wudu as for prayer.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 440
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی حدیث میں مخرمہ بن بکیر نے اسے بواسطہ بکیر عن سلیمان بن یسار عن ابن عباس روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں لیث بن سعد نے بکیر عن سلیمان بن یسار مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطہ کے روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر ہے، تیسری روایت کی سند میں بکیر کا ذکر نہیں ہے، غالباً مصنف نے اسے نضح والی روایت کی تائید میں یا دونوں روایتوں کی تقویت کے لیے ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں انقطاع ہے، پہلی میں اس لیے کہ مخرمہ کا سماع اپنے باپ سے نہیں اور دوسری مرسل ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥٦ (صحیح )
442Sunan An Nasai

جس وقت کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اس کو وضو کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ.

سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ۔

Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘When any one of you gets up after (sleeping) at night, let him not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 441
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ١٩(٢٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٠(٣٩٣)، (تحفة الأشراف ١٣١٨٩) (صحیح)
443Sunan An Nasai

جس وقت کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اس کو وضو کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں (جا کر) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنی داہنی طرف کرلیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا (اس نے آپ کو جگایا) تو آپ نے (جا کر) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I prayed with the Prophet ﷺ one night, and I stood on his left, but he made me stand on his right, and he prayed. Then he reclined on his side and took a nap, then the Mu‘adhdhin came to him and he prayed, and did not perform Wudu. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 442
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥ (١٣٨)، ٣٦ (١٨٣)، والأذان ٥٨ (٦٩٨)، ٧٧ (٧٢٦)، ١٦١ (٨٥٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٧(٢٣٢)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٨(٤٢٣)، مسند احمد ١/٢٢٠، ٢٣٤، ٢٤٤، ٢٨٣، ٢٣٠ ویأتي عند المؤلف برقم: ٦٧٨، ویأتی عند المؤلف برقم: ٨٠٧، (تحفة الأشراف ٦٣٥٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣١٦ (١٣٦٤) (صحیح )
444Sunan An Nasai

جس وقت کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اس کو وضو کرنا چاہئے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْأَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور (جا کر) سو جائے ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: “If any one of you feels drowsy during his Salah, let him go and take a nap.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 443
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ نیند کے غلبہ سے اس کا وضو ٹوٹ سکتا ہے، اور نماز باطل ہوسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٣)، مسند احمد ٣/١٠٠، ١٤٢، ١٥٠، ٢٥٠، (تحفة الأشراف ٩٥٣) (صحیح )
445Sunan An Nasai

شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ، قال عَلَى أَثَرِهِ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أُتْقِنْهُ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.

بسرۃ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔

It was narrated that Busrah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever touches his private part, let him perform Wudu’.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 444
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٣ (صحیح )
446Sunan An Nasai

شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ.

بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے ذکر (عضو تناسل) تک لے جائے (چھوئے) تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے ۔

It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet ﷺ said: “If any one of you touches his private part with his hand, let him perform Wudu’.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 445
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٣ (صحیح )
447Sunan An Nasai

شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ قَالَ: الْوُضُوءُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِيهِ بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، فَأَرْسَلَ عُرْوَةُ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَقَالَ: مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ.

عروہ بن زبیر مروان بن حکم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: شرمگاہ چھونے پر وضو ہے، تو مروان نے کہا: مجھ سے اسے بسرہ بنت صفوان نے بیان کیا ہے، تو عروہ نے بسرہ کے پاس (اس کی تصدیق کے لیے آدمی) بھیجا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ذکر چھونے سے بھی وضو ہے ۔

It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said that one should perform Wudu after touching one’s penis. Marwan said: “Busrah bint Safwan told me that.” ‘Urwah sent someone to check that, and she said: “The Messenger of Allah ﷺ mentioned what Wudil’ is done for, and said: ‘Touching the penis.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 446
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٣ (صحیح )
448Sunan An Nasai

شرم گاہ چھونے سے وضو ٹوٹ جانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلَا يُصَلِّي حَتَّى يَتَوَضَّأَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.

بسرہ بنت صفوان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نے اس حدیث ١ ؎ کو اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔

It was narrated from Busrah bint Safwan that the Prophet ﷺ said: “Whoever touches his penis, he should not perform Salah until he performs Wudu. (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasá’i) said: Hisham bin ‘Urwah did not hear this Hadith from his father.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 447
Notes · وضاحت
١ ؎: اور دوسری حدیثوں کا سماع ان سے ثابت ہے، اور یہ حدیث بواسطہ عروہ عن مروان، عن بسر ۃ متصل اور صحیح ہے، دیکھئیے سند رقم ١٦٣ ، ١٦٤ ۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٦٣ (صحیح )