ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں اس برتن سے غسل کرتے تھے، تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک ڈول رکھا ہوا تھا جو ایک صاع کے برابر تھا، یا اس سے کچھ کم، (اور وہ اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں) (وہ کہہ رہی تھیں کہ) ہم دونوں غسل ایک ساتھ شروع کرتے، تو میں اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی بہاتی، اور میں اپنا بال نہیں کھولتی تھی۔
Aisha (RA) said: “I remember performing Ghusl — myself and the Messenger of Allah ﷺ , from this” — a vessel like a Sa’ or smaller. “We both started taking water from it and I poured water over my head with my hand, three times, without undoing any of my hair.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 416
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٢ (٣٣١) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٨(٦٠٤) مطولاً، (تحفة الأشراف ١٦٣٢٤)، مسند احمد ٦/ ٤٣ کلاھمافي سیاق آخر (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں (اپنے جسم پر) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو (محمد بن منتشر کہتے ہیں) میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر ؓ کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین ؓ نے کہا: میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ١ ؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی (اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا) ۔
It was narrated from Ibrahim bin Muhammad bin Al-Muntashir that his father said: “I heard Ibn ‘Umar say: ‘I would rather wake up in the morning covered in tar than wake up and enter Ii with the smell of perfume coming from me.’ I entered upon Aishah (RA) and told her what he had said, and she said: ‘I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he went round to all his wives, then in the morning he entered Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 417
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور (وضو سے پہلے) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی (آپ کے) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔
It was narrated that Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ performed Wudu’ as for prayer, but did not wash his feet, and he washed his private part and whatever had got onto it, then he poured water over himself, then he moved his feet and washed them.” She said: “This is Ghusl from Janabah.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 418
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔
It was narrated that Maimunah bint Al-Harith, the wife of the Prophet ﷺ said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would start by washing his hands, then he would pour water with his right hand onto his left and wash his private part, then he would strike his hand on the ground then wipe it then wash it. Then he would perform Wudu as for prayer, then he would pour water on his head and all of his body. Then he would move and wash his feet.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 419
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کرلی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then perform Wudu’ as for prayer, then he would perform Ghusl, then run his fingers through his hair to be sure that the water had reached his scalp, then he would pour water over his head three times, then wash the rest of his body.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 420
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہوسکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to like to start with the right as much as he could when purifying himself, putting on sandals and combing his hair” — and he (the narrator) said in Wasit (a place in Iraq): “And in all his affairs.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 421
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث (عائشہ ؓ اور ابن عمر ؓ کی) متفق ہوجاتی ہیں کہ آپ (غسل) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کردیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کرلیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ ﷺ کا غسل (جنابت) ہوتا تھا۔
It was narrated from Abu Salamah from Aishah (RA) , and, from ‘Amr bin Sad, from Nafi’, from Ibn ‘Umar (RA) : That ‘Umar asked the Messenger of Allah ﷺ about Ghusl from Janabah — and the narrations agree on this — that one should start by pouring water on the right hand two or three times, then put the right hand into the vessel and pour water with it onto the private parts, with the left hand on the private parts to wash off whatever is there, until it is clean; then put the left hand on the dust if one wants to, then pour water over the left hand until it is clean; then wash the hands three times, (sniff water into the nose) and rinse the mouth, and wash the face and forearms, three times each until when reaching the head, he does not wipe the head, rather he pours water over it. This is how the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl according to what was mentioned. (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 422
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہوجاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would wash his hands, then performe Wudu’ as for prayer, then run his fingers through his hair until he was sure the water had reached the scalp, then he would pour water over his head three times, then wash the rest of his body.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 423
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ١ ؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ performed Ghusl from Janabah, he would call for something like a vessel used for milking a she-camel, then he would take (some water) in his hand and start with the right side of his head, then the left, then take (some water) in his hands and start pouring it on his head.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 424
Notes · وضاحت
١ ؎: حلاب بروزن کتاب ایک برتن ہے جس میں دودھ دوہا جاتا ہے، خطابی نے کہا: حلاب وہ برتن ہے جس میں ایک اونٹنی کا دودھ سما جائے، یہی مشہو رہے، زہری نے کہا: جُلاب جیم معجمہ کے ضمہ اور لام کی تشدید کے ساتھ اس سے مراد گلاب ہے یعنی سر میں خوشبو لانے کے لیے آپ گلاب منگواتے، امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے یہی معنی مطابقت رکھتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ حائے مہملہ کے کسرہ کے ساتھ حلاب ہے جس کے معنی طرف کے ہیں مراد خوشبو کا طرف ہے۔
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے غسل (جنابت) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں ۔
It was narrated from Jubair bin Mut’im that mention of Ghusl was made in the presence of the Prophet ﷺ and he said: “As for me, I pour water on my head three times.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 425
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے (پھر) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیرلیا، عائشہ ؓ اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ ﷺ بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ ﷺ جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
It was narrated from Aishah (RA) : “A woman asked the Prophet ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , how should I perform Ghusl when I become pure?’ He said: ‘Take a piece of cotton wool scented with musk and clean yourself with it.’ She said: ‘How should I clean myself with it?’ He said: ‘Clean yourself with it.’ She said: ‘How should I clean myself with it?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Subhan Allah!’ and turned away from her.” Aishah (RA) understood what the Messenger of Allah ﷺ meant, and said: “So I pulled her toward me and told her what the Messenger of Allah ﷺ meant.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 427
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ١ ؎۔
It was narrated that Maimunah,the wife of the Prophet ﷺ said: “The Prophet ﷺ performed Ghusl from Janabah; he washed his private part then rubbed his hand on the ground or the wall, then he performed Wuduas for prayer, then he poured water over his head and the rest of his body.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 428
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ میمونہ ؓ نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جاسکتا ہے۔
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ پچیس ذی قعدہ کو (مدینہ سے) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کرلو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر (احرام باندھ کر) لبیک پکارو ۔
Ja’far bin Muhammad said: “My father told me: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ . He narrated; “The Messenger of Allah ﷺ set out when there were five (days) remaining in Dhul Qa’dah, and we set out with him. When he came to Dhul-Hulaifah, Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent word to the Messenger of Allah ﷺ asking what she should do. He said: ‘Perform Ghusl, bind yourself with a cloth then begin (the Talbiyah for Ihram.) (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 429
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ١ ؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ٢ ؎۔
Aisha (RA) said: “I used to put perfume on the Messenger of Allah ﷺ and he would go round to all his wives, then enter Ihram in the morning with the smell of perfume coming from him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 431
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے کنایہ جماع کی طرف ہے۔ ٢ ؎: باب پر استدلال اس طرح سے ہے کہ آپ ﷺ ہر بیوی سے جماع کے بعد الگ الگ غسل کرتے تو جسم پر خوشبو کا اثر باقی نہ رہتا۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ١ ؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ٢ ؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پالے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت (عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں، اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have been given five things that were not given to anyone before me: I have been supported with fear being struck into the hearts of my enemy for a distance of one month’s travel; the earth has been made a place of prostration and a means of purification for me, so wherever a man of my Ummah is when the time for prayer comes, let him pray; I have been given the intercession which was not given to any Prophet ﷺ before me; and I have been sent to all of mankind whereas the Prophets before me were sent only to their own people.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 432
Notes · وضاحت
١ ؎: آگے جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں صرف چار کا ذکر ہے، پانچویں خصوصیت کا ذکر نہیں، اور وہ مال غنیمت کا حلال کیا جانا ہے جو سابقہ امتوں کے لیے حلال نہیں تھا، صرف رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: یعنی میرا دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تبھی سے میرا رعب اس کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کرگئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed that two men performed Tayammum and prayed, then they found water when there was still time left for that prayer. One of them performed Wudu’ and repeated the prayer, and the other did not. They asked the Prophet ﷺ about that and he said to the one who did not repeat the prayer: “You followed the Sunnah and your prayer is acceptable.” And he said to the other: “And you will have something like the reward of two prayers.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 433
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٨ (٣٣٨، ٣٣٩) مرسلاً، سنن الدارمی/الطھارة ٦٥ (٧٧١)، (تحفة الأشراف ٤١٧٦) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، کیوں کہ ابن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمی ہے، اور دیگر ثقات نے اس کو مرسل ہی روایت کیا ہے )
ایک شخص تیمم کرکے نماز ادا کرلے پھر اس کو اندرون وقت پانی مل جائے؟
أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقالأصبت. فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعنيأصبت.
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہوگیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔
It was narrated from Tariq bin Shihab that a man became Junub and did not pray. He came to the Prophet ﷺ and told him about that, and he said: “You did the right thing.” Then another man became Junub so he performed Tayammum and prayed. He came (to the Prophet ﷺ ) who said to him what he had said to the other man — meaning, “You did the right thing.” (Sahih)