ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into standing water and then perform Ghusl or Wudu’ with it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 397
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade urinating into standing water and then performing Ghusl from Janabah in it. (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 398
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “None of you should urinate into standing water which does not flow and then perform Ghusl with it.” (One of the narrators) Sufyan said: “They said to Hisham — meaning Ibn Hassan — ‘Ayyub only attributed this Hadith to Abu Hurairah (RA) h?’ So he said: ‘If Ayyulb is not able to raise up a narration then he does not raise it.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 400
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو ۔
It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ said: “Whoever believes in Allah and the Last Day, let him not enter a bath house except wearing an Izar (waist wrap).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 401
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔
‘Abdullah bin Abi Awfa narrated that the Prophet ﷺ would supplicate:(Allah, purify me of sin and error, Allah cleanse me of it as a white garment is cleansed of dirt, Allah purify me with snow and hail and cold water).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 402
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٠ (٤٧٦)، (تحفة الأشراف ٥١٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ١٠٢(٣٥٤٧)، مسند احمد ٤/٣٥٤، ٣٨١ (صحیح )
ابن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
It was narrated that Ibn Abi Awfa said: “The Prophet ﷺ used to say: (Allah, purify me with snow and hail and cold water, Allah, purify me of sin as a white garment is cleansed of dirt).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 403
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ ﷺ کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی (صرف) وضو کر کے سو جاتے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Abi Qais said: “I asked Aishah (RA) : ‘How did the Messenger of Allah ﷺ sleep while he was Junub? Did he perform Ghusl before sleeping or sleep before performing Ghusl?’ She said: ‘He did both.Sometimes he would perform Ghusl then sleep, and sometimes he would perfrom Wudu’ then sleep.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 404
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے (کرتے تھے) ، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔
It was narrated that Ghudaif bin Al-Harith said: “I entered upon Aishah (RA) and asked her: ‘Did the Messenger of Allah ﷺ perform Ghusl at the beginning of the night or at the end?’ She said: ‘Both. Sometimes he performed Ghusl at the beginning and sometimes at the end.’ I said: ‘Praise be to Allah Who has made the matter flexible.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 405
یعلیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حلیم بردبار ، حیی باحیاء اور ستر پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کرلے ۔
It was narrated from Ya’la that the Messenger of Allah ﷺ saw a man performing Ghusl in an open place, so he ascended the Minbar and praised and glorified Allah, then he said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, is forbearing, modest and concealing, and He loves modesty and concealment. When any one of you performs Ghusl, let him conceal himself.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 406
یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل ستر پردہ پوشی کرنے والا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کرلے ۔
It was narrated from Safwan bin Ya’lathat his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Allah loves concealment, so when any one of you performs Ghusl let him conceal himself with something.” (Sahih)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 407
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔
It was narrated that Maimunah said: “I put some water out for the Messenger of Allah ﷺ then I concealed him” — and she mentioned how he performed Ghusl, then she said: “Then I brought him a cloth (a towel) but he did not want it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 408
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایوب (علیہ السلام) ننگے غسل کر رہے تھے ١ ؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بےنیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بےنیاز نہیں ہوسکتا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘While Ayyub, peace be upon him, was bathing naked, locusts of gold landed on him and he started to collect them in his garment. Then his Lord called him (saying): “Ayyub, did I not make you rich?” he said: “Yes, Lord, but I cannot do without Your blessing.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 409
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہوگا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے جس کا نام فرق تھا غسل کرتے تھے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl from a vessel which was the size of a Faraq and he and I used to perform Ghusl from a single vessel.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 410
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ (بھربھر کر) لیتے تھے۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to perform Ghusl, he and I from a single vessel, both of us scooping water from it. (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 411
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
Abdur-Rahman bin Al Qasim said: “I heard Al-Qasim narrating that Aishah (RA) said: ‘I used to perform Ghusl — the Messenger of Allah ﷺ and I — from a single vessel for Janabah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 412
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember competing over the vessel with the Messenger of Allah ﷺ , when he and I were performing Ghusl from it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 413
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ ﷺ فرماتے: تم میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to perform Ghusl —the Messenger of Allah ﷺ and I — from one vessel. He would compete with me and I would with him (to take the water) until he would say: ‘Leave me some,’ and I would say, ‘Leave me some.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 414
ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ ؓ ١ ؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کرچکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔
Umm Hani’ narrated that she entered upon the Prophet ﷺ on the day of the Conquest of Makkah, when he was performing Ghusl — while a garment was screening him — from a vessel in which were traces of dough. She said: He prayed Ad-Duha — but I do not know how many Rak’ahs he prayed — after he finished Ghusl.” (Hasan)
صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملک فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان رکعات بعضها في الصحيحينصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 415
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف ١٨٠٠٩)، مسند احمد ٦/٣٤١ (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ” فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم ٢٢٦ )