ایسے پیالے سے غسل کرنا جس میں آٹا کا اثر باقی ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَوَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَصَلَّى الضُّحَى، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ.
ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ ؓ ١ ؎ ) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کرچکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔
Umm Hani’ narrated that she entered upon the Prophet ﷺ on the day of the Conquest of Makkah, when he was performing Ghusl — while a garment was screening him — from a vessel in which were traces of dough. She said: He prayed Ad-Duha — but I do not know how many Rak’ahs he prayed — after he finished Ghusl.” (Hasan)