حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ہے: بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں ۔
It was narrated that Hafsah said: “Umm ‘Atiyah would never mention the Messenger of Allah ﷺ without saying: ‘May my father be ransomed for him.’ I said: ‘Did you hear the Messenger of Allah ﷺ say such and such?’ And she said: ‘Yes, may my father be ransomed for him.’ He said: ‘Let the mature girls, virgins staying in seclusion, and menstruating women go out and witness the good occasions and the supplications of the Muslims, but let the menstruating women keep away from the prayer place.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 390
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کو حیض آگیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف (افاضہ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور کیا تھا) ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that she said to the Messenger of Allah ﷺ : “Safiyyah bint Huyai began menstruating.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you?” She said: “Yes.” He said: “Then you can leave.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 391
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہوچکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہوگا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کرلے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
جابر بن عبداللہ ؓ اسماء بنت عمیس ؓ کے واقعہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: انہیں حکم دو کہ غسل کرلیں، اور احرام باندھ لیں ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah concerning Asma’ bint Umais that when she gave birth at Dhul-Hulaifah, the Messenger of Allah ﷺ said to Aba Bakr: “Tell her to perform Ghusl and (begin the Talbiyah).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 392
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ حیض یا نفاس کا آجانا احرام کے لیے مانع نہیں ہے، جس عورت کو اس قسم کا عارضہ پیش آجائے وہ غسل کر کے احرام باندھ لے، اور طواف کے علاوہ باقی سارے ارکان ادا کرے۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام کعب ؓ کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی نفاس میں وفات پا گئی تھیں، تو رسول اللہ ﷺ صلاۃ میں ان کے بیچ میں (کمر کے پاس) کھڑے ہوئے۔
It was narrated that Samurah said: “I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah ﷺ for Umm Ka’b who had died during childbirth, and during the prayer, the Messenger of Allah ﷺ stood at her middle.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 393
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت کرتی ہیں (جو ان کے زیر پرورش تھیں) کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے مسئلہ پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے رگڑ دو، اور ناخن سے مل لو، اور پانی سے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھو ۔
It was narrated from Asma’ bint AbI Bakr that a woman asked the Messenger of Allah ﷺ , about menstrual blood that gets on clothes. He said: “Scratch it, then rub it with water, then sprinkle water over it, and pray in it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 394
ام قیس بنت محصن ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو ڈالو ۔
It was narrated that ‘Adi bin Dinar said: “I heard Umm Qais bint Mihsan say that she asked the Messenger of Allah ﷺ about menstrual blood that gets on one’s clothes. He said: ‘Scratch it with a stick and wash it with water and lotus leaves.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 395