حیض کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 3 · 47 hadiths · Page 2 of 3

369Sunan An Nasai

جس عورت کو حیض آرہا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا اور ارشاد باری کی تشریح کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَا يُشَارِبُوهُنَّ وَلَا يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ؟ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ، فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ لَبَنٍ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا، فَعُرِفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوجاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے (اس کے متعلق) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: ويسألونک عن المحيض قل هو أذى آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے (البقرہ: ٢٢٢ ) نازل فرمائی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ؓ دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہ سخت متغیر ہوگیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہوگئے ہیں، (اسی دوران) آپ ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے (آدمی) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔

It was narrated that Anas said: “When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, or mix with them in their houses. They (the Companions) asked the Prophet of Allah ﷺ about that, and Allah, the Mighty and Sublime, revealed the Ayah: They ask you concerning menstruation. Say: “That is an Adha (a harmful thing). So the Messenger of Allah ﷺ commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: ‘The Messenger of Allah ﷺ does not leave anything of our affairs except he goes against it.’ Usaid bin Hudair and ‘Abbad bin Bishr went and told the Messenger of Allah ﷺ and they said: ‘Should we have intercourse with them when they are menstruating?’ The expression of the Messenger of Allah ﷺ changed greatly until we thought that he was angry with them, and they left. Then the Messenger of Allah ﷺ received a gift of milk, so he sent someone to bring them back and he gave them some to drink, so we knew that he was not angry with them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 369
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٩ وھو مختصر (صحیح )
370Sunan An Nasai

بیوی کو حالت حیض میں مبتلا ہونے کے علم کے باوجود ہمبستری کرنے کا گناہ اور اس کا کفارہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيالرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے ١ ؎ اور وہ حائضہ ہو تو وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے ٢ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas from the Prophet ﷺ , concerning a man who has had intercourse with his wife while she was menstruating: “Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 370
Notes · وضاحت
١ ؎: آنے سے کنایہ جماع کرنے کی طرف ہے۔ ٢ ؎: یہ حکم استحبابی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٠ (صحیح )
371Sunan An Nasai

حائضہ کو اس کے حیض کے کپڑوں میں اپنے ساتھ لٹانا درست ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهَا، قالت: بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَفِسْتِ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ. وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آگیا، تو میں چپکے سے کھسک آئی، اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم حائضہ ہوگئی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ نے مجھے بلایا، تو میں جا کر آپ ﷺ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی، یہ الفاظ عبیداللہ بن سعید کے ہیں۔

Umm Salamah narrated: “While I was lying down with the Messenger of Allah ﷺ , under a blanket, my period came, so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Are you menstruating?’ I said: ‘Yes.’ Then he called me to lie down with him under the blanket.” This is the wording of ‘Ubaidullah bin Saeed.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 371
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤ (صحیح )
372Sunan An Nasai

کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی لحاف میں آرام کرے اور اس کی بیوی کو حیض آرہا ہو

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قال: سَمِعْتُ خِلَاسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ لَمْ يَعْدُهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ يَعُودُ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ غَسَلَ مَكَانَهُ لَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ and I would sleep under a single blanket when I was menstruating. If anything got on him from me, he would wash that spot and no more, and pray in it, then come back. If anything got on it again from me, he would do likewise and no more, and he would pray in it.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 372
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں شعار کا لفظ آیا ہے شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے لگا ہوتا ہے اور دثار اس کپڑے کو جو شعار کے اوپر ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٥ (صحیح )
373Sunan An Nasai

حائضہ عورت کے ساتھ آرام کرنا اور اس کا بوسہ لینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَشُدَّ إِزَارَهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم بیویوں میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ اپنا ازار باندھ لے، پھر آپ اس سے چمٹتے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would tell one of us, if she was menstruating, to tie her Izar (waist wrap) tightly then he would fondle her.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 373
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تہبند باندھنے کی جگہ سے اوپر کے حصے سے لذت حاصل کرتے یعنی جماع کے علاوہ سب کچھ کرتے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٦ (صحیح )
374Sunan An Nasai

حائضہ عورت کے ساتھ آرام کرنا اور اس کا بوسہ لینا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا حَاضَتْ، أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم سے کوئی جب حائضہ ہوتی تو رسول اللہ ﷺ اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس سے چمٹتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “If one of us was menstruating, the Messenger of Allah ﷺ , would tell her to put on an Izar (waist wrap) then he would fondle her.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 374
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٧ (صحیح )
375Sunan An Nasai

جس وقت حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی زوجہ مطہرہ کو حیض آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت کیا کرتے؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي، فَسَأَلَتَاهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا حَاضَتْ إِحْدَاكُنَّ ؟ قَالَتْ: كَانَيَأْمُرُنَا إِذَا حَاضَتْ إِحْدَانَا، أَنْ تَتَّزِرَ بِإِزَارٍ وَاسِعٍ ثُمَّ يَلْتَزِمُ صَدْرَهَا وَثَدْيَيْهَا.

جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آیا، تو ان دونوں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: جب آپ میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ کہا: جب ہم میں سے کوئی حائضہ ہوجاتی تو آپ ہمیں کشادہ تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر آپ اس کے سینہ اور چھاتی سے چمٹتے۔

Jumai’ bin ‘Umair said: “I entered upon Aishah (RA) with my mother and maternal aunt, and we asked her what the Prophet ﷺ , used to do when one of (his wives) was menstruating. She said: He would tell us, when one of us menstruated, to wrap a wide Izar around herself then he would embrace her chest and breasts. (Da‘if)

منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 375
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي و انظرماقبلہ، (تحفة الأشراف ١٦٠٥٥)، مسند احمد ٦/١٢٣ (منکر) (اس کے راوی ” صدقہ “ لین الحدیث ہیں، اور ” جمیع “ سے روایت میں غلطی ہوجایا کرتی تھی، لیکن پچھلی حدیث سے اس کا معنی ثابت ہے )
376Sunan An Nasai

جس وقت حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی زوجہ مطہرہ کو حیض آتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت کیا کرتے؟

أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَاللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْحَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ بُدَيَّةَ، وَكَانَ اللَّيْثُ، يَقُولُ: نَدَبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ يَبْلُغُ أَنْصَافَ الْفَخِذَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ. فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ تَحْتَجِزُ بِهِ.

ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی حائضہ بیوی سے چمٹتے جب وہ تہبند باندھے ہوتی جو کبھی اس کے دونوں رانوں کے نصف تک پہنچتا، اور کبھی گھٹنوں تک۔ لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی۔

It was narrated that Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ would fondle one of his wives when she was menstruating, if she wore an Izar (waist wrap) that reached halfway down her thighs or to her knees.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 376
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٨ (صحیح )
377Sunan An Nasai

حائضہ عورت کو اپنے ساتھ کھلانا اور اس کا جھوٹا پانی پینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، كَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ.

شریح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے جب کہ وہ حائضہ ہو؟، تو انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ ﷺ مجھے بلاتے، تو میں آپ کے ساتھ کھاتی، اور میں حائضہ ہوتی، آپ ہڈی لیتے تو مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اس سے اپنے دانتوں سے نوچتی پھر رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے، اور اس سے اپنے دانتوں سے نوچتے، آپ ہڈی پر اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی، اور آپ پانی مانگتے تو پینے سے پہلے مجھے اس کے سلسلہ میں قسم دلاتے، تو میں اسے اٹھا لیتی اور اس میں سے پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، تو آپ اسے اٹھا لیتے اور اس میں سے پیتے، آپ پیالہ میں اسی جگہ اپنا منہ رکھتے جہاں میں اپنا منہ رکھے ہوتی۔

It was narrated from Shuraih that he asked Aishah (RA) : “Can a woman eat with her husband while she is menstruating?’ She said: ‘Yes. The Messenger of Allah ﷺ would call me to eat with him while I was menstruating. He would take a piece of bone on which some bits of meat were left and insist that I take it first, so I would nibble a little from it, then put it down. Then he would take it and nibble from it, and he would put his mouth where mine had been on the bone. Then he would call for a drink and insist that I take it first before he drank from it. So I would take it and drink from it, then put it down, then he would take it and drink from it, putting his mouth where mine had been on the cup.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 377
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح الإسناد )
378Sunan An Nasai

حائضہ عورت کو اپنے ساتھ کھلانا اور اس کا جھوٹا پانی پینا

أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ فَاهُ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي أَشْرَبُ مِنْهُ، وَيَشْرَبُ مِنْ فَضْلِ شَرَابِي وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں سے میں پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا پانی پیتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated from Al Miqdam bin Shuraih from his father, that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ would put his mouth on the place from which I had drunk, and he would drink from my leftovers when I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 378
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
379Sunan An Nasai

حائضہ عورت کا جوٹھا استعمال کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُنَاوِلُنِي الْإِنَاءَ فَأَشْرَبُ مِنْهُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُعْطِيهِ فَيَتَحَرَّى مَوْضِعَ فَمِي فَيَضَعُهُ عَلَى فِيهِ.

شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مجھے برتن دیتے، تو میں اس سے پیتی جب کہ میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں اسے آپ کو دے دیتی تھی تو آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاشتے اور اسی (جگہ) کو اپنے منہ پر رکھتے۔

It was narrated from Al-Miqdam bin Shuraih that his father said: “I heard Aishah (RA) say: ‘The Messenger of Allah ﷺ , would give me the vessel and I would drink from it, when I was menstruating, then I would give it to him and he would look for the place where I had put my mouth and put that to his mouth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 379
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
380Sunan An Nasai

حائضہ عورت کا جوٹھا استعمال کرنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْقَدَحِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ مِنْهُ، وَأَتَعَرَّقُ مِنَ الْعَرْقِ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں پیالہ سے پانی پیتی اور میں حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ رکھتے اور اس سے پیتے، اور میں ہڈی سے اپنے دانت سے گوشت نوچتی اور حائضہ ہوتی، پھر اسے نبی اکرم ﷺ کو دے دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “I would drink when I was menstruating, then I would hand it to the Prophet ﷺ , and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at a bone on which some bits of meat were left when I was menstruating, then I would give it to the Prophet ﷺ and he would put his mouth where my mouth had been.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 380
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٧٠ (صحیح )
381Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص اپنی حائضہ بیوی کی گود میں سر رکھ کر تلاوت قرآن کرے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سر ہم (بیویوں) میں سے کسی کی گود میں ہوتا، اور وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن پڑھتے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The head of the Messenger of Allah ﷺ would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur’an.” (Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 381
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٥ (حسن )
382Sunan An Nasai

حالت حیض میں عورت سے نماز معاف ہوجاتی ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌعَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْكُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ.

معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ١ ؎ (خارجیہ) ہے؟ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس حائضہ ہوتی تھیں، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔

It was narrated that Muadhah Al-’Adawiyyah said: “A woman asked Aishah (RA) : ‘Should a menstruating Woman make up the Salah she misses?’ She said: ‘Are you a Haruri? We used to menstruate during the time of Allah’s Messenger ﷺ but we did not make up the missed Salah nor were we commanded to do so.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 382
Notes · وضاحت
١ ؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ ؓ نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٠ (٣٢١)، صحیح مسلم/فیہ ١٥ (٣٣٥)، سنن ابی داود/الطھارة ١٠٥ (٢٦٢)، سنن الترمذی/فیہ ٩٧ (١٣٠)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١١٩ (٦٣١)، (تحفة الأشراف ١٧٩٦٤)، مسند احمد ٦/٣٢، ٩٤، ٩٧، ١٢٠، ١٤٣، ١٨٥، ٢٣١، /الطھارة ١٠٢، ١٠٢٠، ١٠٢١، ١٠٢٨ ویأتي عند المؤلف في الصوم ٣٦ (برقم ٢٣٢٠) (صحیح )
383Sunan An Nasai

حائضہ خاتون سے خدمت لینا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ قَالَ: يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أُصَلِّي، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ، فَنَاوَلَتْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تھے کہ اسی دوران آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا اٹھا دو ، تو انہوں نے کہا: میں (آج کل) نماز نہیں پڑھ رہی ہوں ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ (حیض) تمہارے ہاتھ میں نہیں ، تو انہوں نے کپڑا اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کو دے دیا۔

Abu Hurairah (RA) said: “While the Messenger of Allah ﷺ was in the Masjid, he said: ‘Aishah (RA) , hand me the garment.’ She said: ‘I am not praying.’ He said: ‘It is not in your hand.’ So she gave it to him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 383
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حائضہ ہوں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١ (صحیح )
384Sunan An Nasai

حائضہ خاتون سے خدمت لینا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: قالت عَائِشَةُ، قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ. قَالَ إِسْحَاقُ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Give me the mat from the Masjid.’ She said: ‘I am menstruating.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Your menstruation is not in your hand.” (Sahih) (Another chain) with similarity.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 384
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢ (صحیح )
385Sunan An Nasai

اگر حائضہ عورت مسجد میں بوریہ بچھائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ.

المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ١ ؎ وہ حائضہ ہوتی۔

Maimunah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to lay his head in the lap of one of us and recite Qur’an while she was menstruating, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out when she was menstruating.”(Sahih)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 385
Notes · وضاحت
١ ؎: بغیر مسجد میں داخل ہوئے اور یہ ممکن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٤ (حسن )
386Sunan An Nasai

اگر کوئی خاتون بحالت حیض شوہر کے سر میں کنگھا کرے اور شوہر مسجد میں معتکف ہو

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْتُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيُنَاوِلُهَا رَأْسَهُ وَهِيَ فِي حُجْرَتِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کرتیں وہ حائضہ ہوتیں، اور آپ معتکف ہوتے، (اس طرح کہ) آپ اپنا سر (مسجد سے نکال کر) ان کے پاس کردیتے، اور وہ اپنے حجرے میں ہوتیں۔

It was narrated from Aishah (RA) that she used to comb the hair of the Messenger of Allah ﷺ when she was menstruating and he was performing I’tikaf. He would put his head out to her while she was in her room. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 386
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإعتکاف ١٩ (٢٠٤٦)، (تحفة الأشراف ١٦٦٤١)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن ابی داود/الصوم ٧٩ (٢٤٦٧)، سنن الترمذی/فیہ ٨٠ (٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٠ (٦٣٣)، موطا امام مالک/الطھارة ٢٨ (١٠٢)، مسند احمد ٦/١٠٤، ٢٠٤، ٢٣١، ٢٣٤، ٢٤٧، ٢٦٢، ٢٧٢، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٨، ١٠٩٨ (صحیح )
387Sunan An Nasai

حائضہ کا اپنے خاوند کے سر کو دھونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْعَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر میرے قریب کردیتے اور آپ معتکف ہوتے، تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ would put his head out while he was performing ﷺ and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 387
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٦ (صحیح )
388Sunan An Nasai

حائضہ کا اپنے خاوند کے سر کو دھونا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر مسجد سے نکالتے اور آپ معتکف ہوتے تو میں اسے دھوتی، اور میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated from Aishah (RA) : “The Messenger of Allah ﷺ used to put his head out of the Masjid while he was performing I’tikaf, and I would wash it, while I was menstruating.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 388
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ١٦٣٣٤)، مسند احمد ٦/٣٢، ٢٣٠، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٨ (١١٠٦، ١١٠٩) (صحیح )