ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دنیا میں) ہم پیچھے آنے والے ہیں اور (قیامت میں) آگے ہوں گے، صرف اتنی بات ہے کہ انہیں (یعنی یہود و نصاریٰ کو) کتاب ہم سے پہلے دی گئی ہے، اور ہمیں ان کے بعد دی گئی ہے، یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جس دن اللہ نے ان پر عبادت فرض کی تھی مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا ١ ؎، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے (یعنی جمعہ کے دن سے) ہمیں نواز دیا، تو لوگ اس میں ہمارے تابع ہیں ٢ ؎، یہود کل کی یعنی ہفتہ (سنیچر) کی تعظیم کرتے ہیں، اور نصاریٰ پرسوں کی (یعنی اتوار کی) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: We are the last (to come) but will be the foremost on the Day of Resurrection, but they were given the Book before us and we were given it after them. They differed concerning this day which Allah (SWT), the Mighty and Sublime, had prescribed for them and Allah (SWT), the Mighty and Sublime, guided us to"--meaning Friday--"so the people follow us, the Jews the next day and the Christians the day after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1367
Notes · وضاحت
١ ؎: یہود نے اپنے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن تجویز کرلیا اور نصایٰ نے اتوار کا۔ ٢ ؎: کیونکہ جمعہ ہی کے دن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا۔
ابوہریرہ اور حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا، یہود کے لیے ہفتہ (سنیچر) کا دن مقرر ہوا، اور نصرانیوں کے لیے اتوار کا، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن سے نوازا، تو اب (پہلے) جمعہ ہے، پھر ہفتہ (سنیچر) پھر اتوار، اس طرح یہ لوگ قیامت تک ہمارے تابع ہوں گے، ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن پہلے ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated that Hudhaifah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Allah (SWT) sent astray from Friday those who came before us, so the Jews had Saturday and the Christians had Sunday. Then Allah (SWT), the Mighty and Sublime, brought us and guided us to Friday, so there is Friday, Saturday and Sunday, and thus they will follow us on the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world but the first on the Day of Resurrection for whom judgment will be passed before all other creatures."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1368
ابوجعد ضمری ؓ (جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے تین جمعہ سستی سے چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Jad Ad-Damri-who was a Companion of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)- that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever missed three jumuahs out of negligence, Allah (SWT) will place a seal over his heart".
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1369
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کے قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٠ (١٠٥٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٢، الجمعة ٧ (٥٠٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٣ (١١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٣)، مسند احمد ٣/٤٢٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١٢) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے منبر کے زینے سے فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ١ ؎ اور وہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے ٢ ؎۔
It was narrated from Al-Hakam bin Mina that: He heard Ibn Abbas and Ibn Umar narrated that while he was on the minbar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People should stop negleting jumuah or Allah (SWT) will place a seal on their hearts and they will be deemed as being among the negligent."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1370
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا مسلسل جمعہ کا چھوڑنا ایسا خطرناک فعل ہے جس سے دلوں پر مہر لگ سکتی ہے جس کے بعد انسان کے لیے اخروی فلاح و نجات کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ ٢ ؎: غافلوں میں سے ہوجائیں کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کے احکام سے بالکل بےپرواہ ہوجائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٢ (٨٦٥) (وفیہ ” أبو ھریرة “ بدل ” ابن عباس “ )، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٧ (٧٩٤) (تحفة الأشراف: ٥٤١٣، ٦٦٩٦)، (وفیہ ” الجماعات “ بدل ” الجمعات “ )، مسند احمد ١/٢٣٩، ٢٥٤، ٣٣٥ و ٢/٨٤، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١١) (صحیح )
ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے لیے (مسجد) جانا ہر بالغ مرد پر فرض ہے ۔
It was narrated from Hafsah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Going to jumuah is obligatory for everyone who has reached the age of puberty."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1371
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٢٩ (٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٦)، (و عندہ زیادة ” وعلی کل من راح إلی الجمعة الغسل “ ) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بنا کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو تو آدھا دینار ہی کرے ۔
It was narrated that Samurah bin Jundub said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever misses jumuah with no excuse, let him give a dinar in charity, and if he cannot afford that, then half a dinar."
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1372
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١١ (١٠٥٣، ١٠٥٤)، (تحفة الأشراف: ٤٦٣١)، مسند احمد ٥/٨، ١٤ (ضعیف) (اس کے راوی ” قدامہ “ مجہول ہیں، نیز ” سمرہ ؓ “ سے ان کا سماع نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین دن جس میں سورج نکلا جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا ١ ؎۔
Abdur-Rahman Al-Araj narrated that: He heard Abu Hurairah say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The best day on which the sun rises is Friday. On this day, Adam, peace be upon him, was created, on this day he was admitted to Paradise, and on this day he was taken out of it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1373
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے جمعہ کے دن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے امور سر انجام پائے۔
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل (بہترین) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا ہوئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہوگی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ (درود و رحمت) بھیجو کیونکہ تمہاری صلاۃ (درود و رحمت) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ١ ؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ (درود و رحمت) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہوچکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے جسم کو کھائے ۔
It was narrated from Aws bin Aws that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "One of the best of your days is Friday. On this day, Adam was created and on this day he died, on this day the Trumpet will be blown, and on this day all creatures will swoon. So send a great deal of salah upon me on this day, for your salah will be presented to me." They said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), how will our salah be presented to you when you have decomposed (after death)?" He said: "Allah (SWT), the Mighty and Sublime, has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)s, peace be upon them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1374
Notes · وضاحت
١ ؎: تمہارے درود مجھ پر پیش کیے جائیں گے، سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ براہ راست کسی کا درود نہیں سنتے نہ قریب سے نہ بعید سے، قریب سے سننے کی ایک روایت مشہور ہے لیکن وہ صحیح نہیں، صحیح یہی ہے کہ آپ خود کسی کا درود نہیں سنتے فرشتے ہی آپ کا درود پہنچاتے ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن ہر بالغ شخص پر غسل کرنا واجب ہے، مسواک کرنا بھی، اور خوشبو جس پر وہ قادر ہو لگانا بھی ١ ؎۔
It was narrated (through two chains) from Abdur-Rahman bin Abi Saeed, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl and using siwak on Fridays are obligatory for everyone who has reached the age of puberty, and he should put on whatever he can find of perfume." Except that Bukair (one of the narrators in one chain) did not mention Abdur-Rahman, and about the perfume he said: "Even if it is womens perfume."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1375
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When any one of you wants to come to Jumuah prayer, let him perform ghusl."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1376
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ شخص پر واجب ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl on Friday is obligatory for everyone who has reached the age of puberty."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1377
Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کی نماز کے لیے غسل شروع میں واجب تھا، جو بعد میں منسوخ ہوگیا، دیکھئیے حدیث رقم: ١٣٨٠ ، ١٣٨١ ۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان شخص پر ہر سات دن میں ایک دن کا غسل ہے، اور وہ جمعہ کا دن ہے ۔
t was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Every Muslim man has to perform Ghusl one day in every seven, and that is on Friday."
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1378
قاسم بن محمد ابن ابی بکر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس جمعہ کے دن کے غسل کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: لوگ عالیہ میں رہتے تھے، تو وہ وہاں سے جمعہ میں آتے تھے، اور ان کا حال یہ ہوتا کہ وہ میلے کچیلے ہوتے، جب ہوا ان پر سے ہوتے ہوئے گزرتی تو ان کی بو پھیلتی، تو لوگوں کو تکلیف ہوتی، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ لوگ غسل کر کے نہیں آسکتے ۔
Abdullah bin Al-Ala narrated that: He heard Al-Qasim bin Muhammad bin Abi Bakr (say) that they mentioned Ghusl on Fridays in the presence of Aishah and she said: "Some people used to live in Al-Aliyah and they would come to Jumuah with dirt on them (because of their work). When a breeze came it would carry their smell to the people which annoyed them. Mention of that was made to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Why dont you perform ghusl?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1379
Notes · وضاحت
١ ؎: عالیہ شہر مدینہ سے جنوب مشرق میں جو آباد یاں تھیں انہیں عالیہ (یا عوالی) کہا جاتا تھا، آج بھی انہیں عوالی کہا جاتا ہے۔
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ١ ؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ ؓ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ واللہ اعلم۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever performs wudu on Friday, that is all well and good, but whoever performs ghusl, the ghusl is better."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1380
Notes · وضاحت
١ ؎: فبہا کا مطلب ہے فبالرخص ۃ أخذ یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور نِعْمَتْ کا مطلب نعمت ہی الرخص ۃ ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ٢ ؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ ؓ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ ؓ سے سنا ہے۔
اوس بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو غسل کرائے ١ ؎ غسل کرے، سویرے سویرے (مسجد) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا ۔
It was narrated from Aws bin Aws that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever washes (ghassala) and performs ghusl, comes early to the masjid and sits near the imam, and does not engage in idle talk, he will have for every step he takes (the reward of) a years worth of good deeds, fasting it and praying Qiyam during it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1381
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جمعہ کے لیے اپنے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہوجائے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے (ریشم کا) ایک جوڑا (بکتے) دیکھا، تو عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ اسے خرید لیتے، اور جمعہ کے دن، اور باہر کے وفود کے لیے جب وہ آپ سے ملنے آئیں پہنتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے تو وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس اس طرح کے کچھ جوڑے آئے، آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر ؓ کو دیا، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اسے پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں آپ نے ایسا ایسا کہا تھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ جوڑا تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم خود پہنو ، تو عمر ؓ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that : Umar bin al-Khattab saw a Hullah and said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), why dont you buy this and wear it on Fridays and when meeting the delegations when they come to you?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "This is worn by one who has no share in the Hereafter." Then something similar was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he gave a Hullah to Umar from it. Umar said: "O Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), have you given me this when you said what you said about the Hullah of Utarid?" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I have not given it to you to wear it." So Umar gave it to an idolator brother of his in Makkah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1382
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، اور خوشبو لگانا جس پر وہ قادر ہو، ہر بالغ شخص پر واجب ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Saeed, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Ghusl should be performed on Friday by everyone who has reached the age of puberty, and using the siwak, and he should put on whatever he is able of using perfume."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1383
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی بیوی کو غسل کرائے، صبح سویرے ہی جمعہ کے لیے نکلے، شروع خطبہ ہی سے موجود رہے، پیدل چل کر مسجد جائے، سواری نہ کرے، امام سے قریب بیٹھے، اور خاموش رہے کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کے ہر قدم پر ایک سال کے عمل کا ثواب ملے گا ۔
Abu Al-Ashath narrated that: He heard Aws bin Aws, the Companion of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever performs Ghusl on Friday and washes (ghassala), and comes early to the masjid, walking not riding, and sits close to the imam and listens attentively and does not engage in idle speech, for every step he takes he will have (the reward of) a years worth of good deeds."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1384
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے (اس دن) مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو جمعہ کے لیے آتا ہے اسے لکھتے ہیں، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر لپیٹ دیتے ہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک بطخ کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک مرغی کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر اس کے بعد والا ایک انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When Friday comes, the angels sit at the doors of the masjid and record who comes to jumuah prayers. Then, when the imam comes out, the angels roll up their scrolls." The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The one who comes early to jumuah prayers is like one who sacrifices a camel, then like one who sacrifices a cow, then like one who sacrifices a sheep, then like one who sacrifices a duck, then like one who sacrifices a chicken, then like one who sacrifices an egg."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1385
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنی جلدی پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا، اور جتنی تاخیر کرے گا اتنا ہی ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا (بھی) ذکر کیا۔
It was narrated from Abu Hurairah, who was attributing it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "When Friday comes, at every gate of the masjid there are angels who write down the peoples names in the order in which they come, then when the imam comes out, they roll up the scrolls and listen to the khutbah. The one who comes early to the prayer is like the one who sacrifices a camel, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a cow, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a ram" until he mentioned a chicken and an egg.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1386
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٧ (٨٥٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٢ (١٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٨)، مسند احمد ٢/٢٣٩ (صحیح )