جمعہ کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 12 · 66 hadiths · Page 2 of 4

1388Sunan An Nasai

جمعہ کے دن مسجد جلدی جانے کے فضائل

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، فَالنَّاسُ فِيهِ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ دَجَاجَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ عُصْفُورًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً.

ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعۃ المبارک کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب کے مطابق لکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی تو اس آدمی کی طرح ہوں گے جس نے اعلیٰ درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کا اونٹ صدقہ کیا، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی گائے صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے اعلیٰ درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی بکری صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین مرغی صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے کم درجے کی مرغی صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے قیمتی چڑیا صدقہ کی اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام چڑیا صدقہ کی، کچھ اس آدمی کی طرح جس نے بہترین انڈہ صدقہ کیا اور کچھ اس آدمی کی طرح جس نے عام انڈہ صدقہ کیا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "On Fridays the angels sit at the gates of the masjid writing down the peoples names in the order in which they come. So the people are like a man who sacrifices a camel and like a man who sacrifices a camel, then like a man who sacrifices a cow and like a man who sacrifices a cow, then like a man who sacrifices a sheep and like a man who sacrifices a sheep, then like a man who sacrifices a chicken and like a man who sacrifices a chicken, then like a man who sacrifices a sparrow and like a man who sacrifices a sparrow, then like a man who sacrifices an egg and like a man who sacrifices an egg."

حسن صحيح لکن قوله عصفور منکر والمحفوظ دجاجةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1387
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨٣) (حسن صحیح) (لیکن عصفور (گوریا) کا لفظ منک رہے، معروف ” دجاجہ “ (مرغی) کا لفظ ہے جیسا کہ پچھلی روایات میں گزرا، اور نکارت کا سبب ” ابن عجلان “ ہیں، ان سے ابوہریرہ کی روایات میں بڑا وہم ہوا ہے )
1389Sunan An Nasai

جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کے مانند (خوب اہتمام سے) غسل کیا، پھر وہ (جمعہ میں شریک ہونے کے لیے) پہلی ساعت (گھڑی) میں مسجد گیا، تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، اور جو شخص اس کے بعد والی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک گائے پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مینڈھا پیش کیا، اور جو چوتھی گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک مرغی پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا، تو گویا اس نے ایک انڈا پیش کیا، اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے مسجد کے اندر آجاتے ہیں، اور خطبہ سننے لگتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever performs ghusl as from janabah on Friday, then comes (to the masjid), it is as if he sacrificed a camel. Then the one who comes in the second hour, it is as if he sacrificed a cow. Then the one who comes in the third hour, it is as if he sacrificed a ram. Then the one who comes in the fourth hour, it is as if he sacrificed a chicken. Then the one who comes in the fifth hour, it is as if he sacrificed an egg. Then when the imam comes out, the angels attend to listen to the khutbah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1388
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نام درج کرنے والا رجسٹر بند کردیتے ہیں، اس میں نماز جمعہ کے لیے جلد سے جلد جانے کی ترغیب و فضیلت کا بیان ہے، جو جتنی جلدی جائے گا اتنا ہی زیادہ ثواب کا مستحق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٤ (٨٨١)، ٣١ (٩٢٩)، صحیح مسلم/الجمعة ٢ (٨٥٠)، سنن ابی داود/الطھارة ١٢٩ (٣٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤١ (الجمعة ٦) (٤٩٩)، موطا امام مالک/الجمعة ١ (١)، مسند احمد ٢/٤٦٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٣ (١٥٨٥) (صحیح )
1390Sunan An Nasai

جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْجُلَاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً، لَا يُوجَدُ فِيهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ سَاعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کا دن بارہ ساعتوں (گھڑیوں) پر مشتمل ہے، اس کی ایک ساعت ایسی ہے کہ اس میں جو بھی مسلمان بندہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگتے ہوئے پایا جاتا ہے، تو اسے وہ دیتا ہے، تو تم اسے آخری گھڑی میں عصر کے بعد تلاش کرو ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Friday is twelve hours in which there is no Muslim slave who asks Allah (SWT) for something but He will give it to him, so seek it in the last hour after Asr."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1389
Notes · وضاحت
١ ؎: اس گھڑی کے بارے میں علماء میں بہت اختلاف ہے، بعض علماء کے نزدیک راجح قول یہی ہے جو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں: یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے تک کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٨ (١٠٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٧) (صحیح )
1391Sunan An Nasai

جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا، قُلْتُ: أَيَّةَ سَاعَةٍ ؟ قَالَ: زَوَالُ الشَّمْسِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے، پھر ہم لوٹتے تو اپنے اونٹوں کو آرام دیتے، میں نے کہا: وہ کون سا وقت ہوتا؟، انہوں نے کہا: سورج ڈھلنے کا۔

It was narrated that Jafar bin Muhammad from his father, from Jabir bin Abdullah who said: "We used to pray jumuah with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) then we would go back and tend to our camels." I said: " At what time?" He said: "When the sun had passed its zenith."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1390
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٨)، مسند احمد ٣/٣٣١، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٢) (صحیح )
1392Sunan An Nasai

جمعہ کے دن کس وقت نماز کیلئے جانا افضل ہے؟

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، قال: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم اس حال میں لوٹتے کہ دیواروں کا سایہ نہ ہوتا جس سے سایہ حاصل کیا جاسکے ١ ؎۔

Iyas bin Al-Akwa narrated that his father said: "We used to pray jumuah with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) then we would go back, and the walls had no shadow in which shade could be sought."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1391
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زوال ہوئے ابھی تھوڑا سا وقت گزرا ہوتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٥ (٤١٦٨)، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٤ (١٠٨٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٤ (١١٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٢)، مسند احمد ٤/٤٦، ٥٠، ٥٤، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤ (١٥٨٧) (صحیح )
1393Sunan An Nasai

اذان جمعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ الْأَذَانَ كَانَ أَوَّلُ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ وَكَثُرَ النَّاسُ، أَمَرَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِالْأَذَانِ الثَّالِثِ، فَأُذِّنَ بِهِ عَلَى الزَّوْرَاءِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جس وقت امام منبر پر بیٹھتا، پھر جب عثمان ؓ عنہ کا دور خلافت آیا، اور لوگ بڑھ گئے تو انہوں نے جمعہ کے دن تیسری اذان کا حکم دیا ١ ؎، وہ اذان مقام زوراء پر دی گئی، پھر اسی پر معاملہ قائم رہا۔

As-Saib bin Yazid narrated that: The first adhan used to be when the imam sat on the minbar on Friday, at the time of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and Abu Bakr and Umar. During the caliphate of Uthman, when the number of people increased, Uthman commanded that a third adhan be given on Friday, so that adhan was given from the top of Az-Zawra, and that is how it remained.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1392
Notes · وضاحت
١ ؎: تکبیر کو شامل کر کے تیسری اذان ہوئی، یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان غنی ؓ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لیے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان تکبیر ہے، اگر کوئی صرف اذان اور تکبیر پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کی سنت کی اتباع کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢)، ٢٢ (٩١٣)، ٢٤ (٩١٥)، ٢٥ (٩١٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧، ١٠٨٨، ١٠٨٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٥ (الجمعة ٢٠) (٥١٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٩٩)، مسند احمد ٣/٤٤٩، ٤٥٠ (صحیح )
1394Sunan An Nasai

اذان جمعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَ بِالتَّأْذِينِ الثَّالِثِ عُثْمَانُ حِينَ كَثُرَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ التَّأْذِينُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ يَجْلِسُ الْإِمَامُ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ تو تیسری اذان کا حکم عثمان ؓ عنہ نے دیا تھا جب اہل مدینہ زیادہ ہوگئے تھے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا صرف ایک ہی مؤذن تھا، اور جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا تھا۔

As-Saib bin Yazid said: "The third adhan was ordered by Uthman when the number of people in Al-Madinah increased. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) only had one adhan, and the adhan on Friday was when the imam sat down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1393
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (صحیح )
1395Sunan An Nasai

اذان جمعہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ، ثُمَّ كَانَ كَذَلِكَ فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ اس وقت اذان دیتے جب رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر بیٹھ جاتے، پھر جب آپ اترتے تو وہ اقامت کہتے، اسی طرح ابوبکر اور عمر ؓ کے زمانے میں بھی ہوتا رہا۔

It was narrated that As-Saib bin Yazid said: "Bilal used to call the adhan when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) sat on the minbar on Friday, and when he came down he would say the Iqamah. It continued like that during the time of Abu Bakr and Umar, may Allah (SWT) be pleased with them."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1394
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٩٣ (صحیح )
1396Sunan An Nasai

امام جب خطبہ کے واسطے نکل چکا ہو تو اس وقت مسجد میں آجائے تو سنت پڑھے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد) آئے اور امام (خطبہ کے لیے) نکل چکا ہو ١ ؎ تو چاہیئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے ۔

It was narrated that Amr bin Dinar said: "I heard Jabir bin Abdullah say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If any one of you comes and the imam has appeared, let him pray two rakahs. Shubah (one of the narrators) said: "On Friday."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1395
Notes · وضاحت
١ ؎: خواہ اس نے خطبہ شروع کردیا ہو یا ابھی نہ کیا ہو، بلکہ ایک روایت میں والإمام یخطب کے الفاظ وارد ہیں، اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں بھی یہ دونوں رکعتیں پڑھی جائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٥ (١١٦٦)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٥٤٩)، مسند احمد ٣/٣٨٩، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢)، وانظر أیضا مایأتی برقم: ١٤٠١ (صحیح )
1397Sunan An Nasai

امام خطبہ کے لئے کس چیز پر کھڑا ہو؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَاسْتَوَى عَلَيْهِ، اضْطَرَبَتْ تِلْكَ السَّارِيَةُ كَحَنِينِ النَّاقَةِ حَتَّى سَمِعَهَا أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى نَزَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَهَا فَسَكَتَتْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ دیتے تو مسجد کے ستونوں میں سے کھجور کے ایک تنا سے آپ ٹیک لگاتے تھے، پھر جب منبر بنایا گیا، اور آپ اس پر کھڑے ہوئے تو وہ ستون (جس سے آپ سہارا لیتے تھے) بیقرار ہو کر رونے لگا جس طرح اونٹنی روتی ہے، یہاں تک کہ اسے مسجد والوں نے بھی سنا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اتر کر اس کے پاس گئے، اور اسے گلے سے لگایا تو وہ چپ ہوا۔

Jabir bin Abdullah said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered the khutbah, he used to lean against a palm tree trunk that formed one of the pillars of the masjid. When the minbar was made and he sat down on it, that pillar made a sound like the groaning of a camel, which the people of the masjid heard, until the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) came down and embraced it, then it fell silent."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1396
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٢٦ (٩١٧)، المناقب ٢٥ (٣٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٩ (١٤١٧)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٨٧٧)، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣٠٠، ٣٠٦، ٣٢٤ (صحیح )
1398Sunan An Nasai

امام خطبہ کے لئے کس چیز پر کھڑا ہو؟

أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما .

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا: اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں (الجمعہ: ١١ ) ۔

It was narrated that Kab bin Ujrah said that: He entered the masjid and Abdur-Rahman bin Umm Al-Hakam was delivering the Khutbah while seated. "He said: Look at this man who is delivering the khutbah while seated when Allah (SWT) says: And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١١ (٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٠) (صحیح )
1399Sunan An Nasai

امام کے قریب بیٹھنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَابْتَكَرَ وَغَدَا وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ ثُمَّ لَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

اوس بن اوس ثقفی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا ۔

It was narrated from Aws bin Aws Ath-Thaqafi that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever washes (ghassala) and performs ghusl, and comes early to the masjid and sits near the imam, is attentive and does not engage in idle talk, for every step he takes he will have (the reward of) a years worth of good deeds, its fasting and Qiyam prayer."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1398
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٨٢ (صحیح )
1400Sunan An Nasai

جس وقت امام منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ.

ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر ؓ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Az-Zahiriyah about Abdullah bin Busr, he said: "I was sitting beside him on Friday and he said: A man came, stepping over peoples necks, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Sit down, you are disturbing people."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1399
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہوگا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٨ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٥١٨٨)، مسند احمد ٤/١٨٨، ١٩٠ (صحیح )
1401Sunan An Nasai

اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی شخص آجائے تو نماز پڑھے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْكَعْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ١ ؎۔

Amr bin Dinar narrated that: He heard Jabir bin Abdullah say: "A man came when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was on the minbar on a Friday. He said to him: Have you prayed two rakahs? He said: No. He said: Pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1400
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥)، سنن الترمذی/فیہ ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٥٧)، مسند احمد ٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩، ٣٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٤٠٦) (صحیح )
1402Sunan An Nasai

جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever says to his companion on Friday, when the imam is delivering the khutbah: Listen attentively, has engaged in idle talk."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1401
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤)، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (الجمعة ١٦) (٥١٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٦ (١١١٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٠٦)، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦)، مسند احمد ٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٩٠) (صحیح )
1403Sunan An Nasai

جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قال: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّأَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا ۔

It was narrated from Abdullah bin Ibrahim bin Qariz and Saeed bin Al-Musayyab that: Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If you say to your companion: Listen attentively on a Friday when the Imam is delivering the khutbah, then you have engaged in idle talk."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1402
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1404Sunan An Nasai

خاموش رہنے کے فضائل سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کرلے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوگا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں ۔

It was narrated that Salman said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: There is no man who purifies himself on Friday as he is commanded, then comes out of his house to the Friday prayer, and listens attentively until he finishes his prayer, but it will be an expiation for what came before it the week before."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1403
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٨)، مسند احمد ٥/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٠ (صحیح )
1405Sunan An Nasai

خطبہ کس طریقہ سے پڑھے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجة ١ ؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا (آل عمران: ١٠٢ ) ۔ يا أيها الناس اتقوا ربکم الذي خلقکم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا کثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ کان عليكم رقيبا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے (الاحزاب: ٧٠ ) يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو (النساء: ١ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، (یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے) ۔

It was narrated from Abdullah: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nastainuhu wa nastagfiruhu, wa naudhu billahi min shururi anfusina wa sayiati amalina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala Hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.) Then he recited the following three verses: O you who believe! Fear Allah as He should be feared, and die not except as Muslims; O Mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him he created his wife, and from them he created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever and All-Watcher over you); O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him,and speak (always) the truth.)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1404
Notes · وضاحت
١ ؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ابو عبیدہ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود ؓ سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٣ (٢١١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٨)، مسند احمد ١/٣٩٢، ٤٣٢، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” ابو عبیدہ “ اور ان کے باپ ” ابن مسعود “ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ )
1406Sunan An Nasai

خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a khutbah and said: When any one of you wants to go to Jumuah, let him perform ghusl."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1405
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٥٠)، مسند احمد ٢/٧٧ (صحیح )
1407Sunan An Nasai

خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: سُنَّةٌ، وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ.

ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر ؓ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔

It was narrated from Ibrahim bin Nashit that: He asked Ibn Shihab about ghusl on Friday. He said: "It is a sunnah; Salim bin Abdullah told me, narrating from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoke about it from the minbar."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1406
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٥)، مسند احمد ٢/٣٥ (صحیح الإسناد )