جس وقت امام منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ممنوع ہے
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ.
ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر ؓ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Az-Zahiriyah about Abdullah bin Busr, he said: "I was sitting beside him on Friday and he said: A man came, stepping over peoples necks, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Sit down, you are disturbing people."