Sunan An Nasai 1401

جمعہ کا بیان

1401Sunan An Nasai

اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی شخص آجائے تو نماز پڑھے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْكَعْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ١ ؎۔

Amr bin Dinar narrated that: He heard Jabir bin Abdullah say: "A man came when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was on the minbar on a Friday. He said to him: Have you prayed two rakahs? He said: No. He said: Pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1400
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥)، سنن الترمذی/فیہ ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٥٧)، مسند احمد ٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩، ٣٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٤٠٦) (صحیح )