عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر کے بدلے سالم بن عبداللہ عن أبيه کہتے ہیں۔
It was narrated from Abdullah bin Abdullah (from Abdullah) Ibn Umar that: While he was standing on the minbar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever among you comes (to prayer) on a Friday, let him perform ghusl."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1407
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ ﷺ نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ١ ؎۔
It was narrated that Iyad bin Abdullah said: "I heard Abu Saeed Al-Khudri say: A man who appeared shabbily came on a Friday, while the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the Khutbah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Have you prayed?" He said: No." He said: Pray two rakahs. And he urged the people to give in charity. They gave clothes, and he gave him two garments. The following Friday, he came when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the khutbah, and he urged the people to give charity. (That man) gave one of his two garments and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: This man came last Friday looking shabby, and I commanded the people to give charity and they gave clothes, and I said that he should be given two garments, and now he came and I commanded the people to give charity and he gave one of them. So he chided himself and said: Take your garment."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1408
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے اس کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جو اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣)، مسند احمد ٣/٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٢) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ١ ؎ (اور بیٹھ گیا) تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: تم نے سنت پڑھ لی؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کھڑے ہوجاؤ اور (سنت) پڑھو ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah who said: "While the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the khutbah on Friday, a man came and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Have you prayed? He said: No. He said: Stand up and pray."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1409
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ ابوداؤد کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا، حسن ؓ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ١ ؎۔
Abu Bakrah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, and Al-Hasan was with him. He would turn to the people sometime and turn to him (Al-Hasan) sometimes, and he said: This son of mine is a leader (Sayyid) and Allah (SWT) may make peace between two large groups of Muslims through him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1410
Notes · وضاحت
١ ؎: الحمدللہ نبی اکرم ﷺ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور امت مسلمہ کے دو گروہ باہم متفق ہوگئے ہوا یہ کہ حسن ؓ نے خلافت سے دستبرداری فرمائی اور ساری امت معاویہ ؓ کی امارت پر متفق ہوگئے۔
حارثہ بن نعمان ؓ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے ق والقرآن المجيد کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ ﷺ کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad bin Abdur-Rahman that: The daughter of Harithah bin An-Numan said: "I memorized Qaf. By the Glorious Quran." From the mouth of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was on the minbar on Friday."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1411
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے خطبے میں پوری سورة ق پابندی سے پڑھا کرتے تھے۔
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
It was narrated from Sufyan bin Husain that : Bishr bin Marwan raised his hands on Friday on the minbar, and Umarah bin Ruwaibah condemned him and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did no more than this, and he pointed with his forefinger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1412
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین ؓ لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ ﷺ (منبر سے) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آگئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے إنما أموالکم وأولادکم فتنة تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: His father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was preaching, then Al-Hasan and Al-Husain came, wearing red shirts and stumbling in them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came down, interrupting himself, and picked them up, then he went back to the minbar and said: Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial. I saw these two stumbling in their shirts and I could not continue until I had interrupted myself and picked them up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1413
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩)، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، مسند احمد ٥/٣٥٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٥٨٦ (صحیح )
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
Abdullah bin Abi Awfa said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite a great deal of remembrance, engage little in idle talk, make the prayer long and keep the khutbah short, and he would not refrain from walking with a widow or poor person and tending to their needs."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1414
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I sat with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I did not see him deliver the khutbah except standing, and he sat, then he stood up and delivered the second khutbah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1415
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔
It was narrated from Abdullah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver two khutbahs standing, and he would separate them by sitting.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1416
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٦ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٣)، (تحفة الأشراف: ٧٨١٢)، مسند احمد ٢/٩٨ (صحیح )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھتے پھر کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ دیتے، جو تم سے بیان کرے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو جھوٹا ہے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivering the khutbah on Friday standing, then he sat briefly and did not speak, then he stood up and delivered a second khutbah. So whoever tells you that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the khutbah seated, he has lied."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1417
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور کچھ آیتیں پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ١ ؎ اور آپ کا خطبہ درمیانی ہوتا تھا، اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver the khutbah standing, then he would sit, then he would stand up and recite some Verses and remember Allah (SWT), the Mighty and Sublime. His khutbah was moderate in length and his prayer was moderate in length."
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1418
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ ؓ ہی کی ایک روایت میں یہ صراحت ہے کہ آپ جمعہ میں دو خطبے دیتے تھے، اور دونوں میں تلاوت قرآن اور وعظ و تذکیر کیا کرتے تھے، اس لیے وعظ و تذکیر کے لیے صرف پہلے خطبے کو خاص کرلینا خلاف سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣)، مسند احمد ٥/٨٦، ٨٨، ٩١، ٩٣، ٩٨، ١٠٢، ١٠٦، ١٠٧ ں ویأتی عند المؤلف فی العیدین ٢٦ (برقم: ١٥٨٥) (حسن )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر سے اترتے پھر کوئی آدمی آپ کے سامنے آجاتا تو آپ اس سے گفتگو کرتے، اور نبی اکرم ﷺ اس کے ساتھ کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اپنی ضرورت پوری نہ کرلیتا یعنی اپنی بات ختم نہ کرلیتا، پھر آپ اپنی جائے نماز کی طرف بڑھتے، اور نماز پڑھاتے۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would come down from the minbar and a man would come to him and speak to him, then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would listen to him until he gave him an answer, then he would go to his place of prayer and pray."
شاذ والمحفوظ أن ذلک کان في صلاة العشاءصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1419
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (الجمعة ٢١) (٥١٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٩ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠)، مسند احمد ٣/١١٩، ١٢٧، ٢١٣ (شاذ) (صحیح بات یہ ہے کہ واقعہ عشاء کی صلاة میں پیش آیا تھا، بقول امام بخاری اس میں جریر بن حازم سے وہم ہوگیا ہے، کما نقل عنہ الترمذی )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا کہ جمعہ کی نماز، عید الفطر کی نماز، اور عید الاضحی کی نماز، اور سفر کی نماز، دو دو رکعتیں ہیں، اور یہ بزبان محمد ﷺ پوری ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عمر ؓ سے نہیں سنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abi Laila that Umar said: "Jumuah prayer is two rakahs, the prayer of Al-Fitr is two rakahs, the prayer of Al-Adha is two rakahs, the prayer when traveling is two rakahs, complete and not shortened, on the tongue of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1420
Notes · وضاحت
١ ؎: محقق بات یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا سماع عمر ؓ سے ثابت ہے، دیکھئیے مسند احمد، ونصب الرایہ ( ٢ /١٨٩) نیز ابن ماجہ کی دوسری سند ( ١٠٦٤ ) میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ اور عمر ؓ کے درمیان کعب بن عجرہ ؓ کا واسطہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٦)، مسند احمد ١/٣٧، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٤٤١ و ١٥٦٧ (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز نماز فجر میں الم * تنزيل اور هل أتى على الإنسان پڑھتے، اور جمعہ کی صلاۃ میں سورة جمعہ اور سورة منافقون پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn Abbas that : During the subh prayer on Friday, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite: "Alif-Lam-Mim. The Revelation" and: "Has there not been over man," and in Jumuah prayer he would recite Al-Jumuah (62) and Al-Munafiqin (63).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1421
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite in jumuah prayer: Glorify the Name of your Lord, the Most Hight and: Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1422
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں اور اس سے پہلے والے باب کی روایت میں بظاہر تعارض ہے، پر یہ اختلاف دونوں کے جواز اور دونوں کے مسنون ہونے پر دلالت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورة جمعہ اور دوسری رکعت میں سورة منافقون پڑھتے اور کبھی سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ضحاک بن قیس نے نعمان بن بشیر ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن سورة الجمعہ کے بعد کون سی سورة پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔
Ad-Dahhak bin Qais asked An-Numan bin Bashir: "What did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) use to recite on Friday after Surat Al-Jumuah?" He said: "He used to recite: Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the Day of Resurrection)?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1423
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ میں سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہوجاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
It was narrated that An-Numan bin Bashir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite Glorify the name of your Lord, the Most High and Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e. the day of resurrection)? in the Jumuah prayer, and sometimes Eid and jumuah would fall on the same day, and he would recite them in both Eid and jumuah prayer."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1424
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو اس نے (جمعہ کی نماز) پا لی ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever catches up with a rakah of jumuah prayer has caught up with it."
شاذ بذکر الجمعة والمحفوظ الصلاةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1425
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٠ (٥٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩١ (١١٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٣)، مسند احمد ٢/٢٤١، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (شاذ بذکر الجمعة) (جمعہ کا لفظ صرف مؤلف کے یہاں ہے، باقی تمام محدثین کے یہاں صرف ” صلاة “ کا لفظ ہے، تفاصیل کے لیے مذکور تخریج ملاحظہ فرمائیں، اس لیے جمعہ کا لفظ شاذ ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When any one of you prays jumuah let him pray four (rakahs) after that."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1426
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں چار رکعت کا ذکر ہے، اور اس کے بعد والی حدیث میں دو رکعت کا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں صورتیں جائز ہیں بعض لوگوں نے دونوں رایتوں میں اس طرح سے تطبیق دی ہے کہ جو مسجد میں پڑھے وہ چار رکعت پڑھے، اور جو گھر جا کر پڑھے وہ دو رکعت پڑھے، اسی طرح چار رکعت کس طرح پڑھی جائیں، اس میں بھی دو رائے ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ ایک سلام کے ساتھ چاروں رکعتیں پڑھی جائیں، اور دوسری رائے یہ ہے کہ دو دو کر کے چار رکعتیں پڑھی جائیں، کیونکہ صحیح حدیث میں ہے صلا ۃ اللیل والنہارمثنیٰ مثنیٰ رات اور دن کی (نفلی نمازیں) دو دو کر کے ہیں۔