بروز جمعہ کتنے خطبے دئیے جائیں؟
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا وَيَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الْآخِرَةَ.
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I sat with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I did not see him deliver the khutbah except standing, and he sat, then he stood up and delivered the second khutbah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1415
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢١٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٧٦٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٨ (١٠٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٥)، مسند احمد ٥/٨٧، ٨٨، ٨٩، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٣، ٩٤، ٩٥، ٩٧، ٩٨، ٩٩، ١٠٠، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩ (١٥٩٨) (صحیح )