Sunan An Nasai 1411

جمعہ کا بیان

1411Sunan An Nasai

امام کا منبر پر بیٹھ کر اپنی رعایا سے خطاب کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً، وَيَقُولُ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا، حسن ؓ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ١ ؎۔

Abu Bakrah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, and Al-Hasan was with him. He would turn to the people sometime and turn to him (Al-Hasan) sometimes, and he said: This son of mine is a leader (Sayyid) and Allah (SWT) may make peace between two large groups of Muslims through him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1410
Notes · وضاحت
١ ؎: الحمدللہ نبی اکرم ﷺ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور امت مسلمہ کے دو گروہ باہم متفق ہوگئے ہوا یہ کہ حسن ؓ نے خلافت سے دستبرداری فرمائی اور ساری امت معاویہ ؓ کی امارت پر متفق ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤)، المناقب ٢٥ (٣٦٢٩)، فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦)، الفتن ٢٠ (٧١٠٩)، سنن ابی داود/السنة ١٣ (٤٦٦٢)، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٨)، مسند احمد ٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١ (صحیح )