Sunan An Nasai 1381

جمعہ کا بیان

1381Sunan An Nasai

جمعہ کے دن اگر غسل نے کرے تو کیا کرنا چاہئے؟

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الْحَسَنُ عَنْ سَمُرَةَ كِتَابًا، وَلَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ سَمُرَةَ إِلَّا حَدِيثَ الْعَقِيقَةِ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور یہ خوب ہے ١ ؎ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حسن بصری نے سمرہ ؓ سے اس حدیث کو ان کی کتاب سے روایت کیا ہے، کیونکہ حسن نے سمرہ سے سوائے عقیقہ والی حدیث کے کوئی اور حدیث نہیں سنی ہے ٢ ؎ واللہ اعلم۔

It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever performs wudu on Friday, that is all well and good, but whoever performs ghusl, the ghusl is better."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1380
Notes · وضاحت
١ ؎: فبہا کا مطلب ہے فبالرخص ۃ أخذ یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا، اور نِعْمَتْ کا مطلب نعمت ہی الرخص ۃ ہے یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے عدم وجوب پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ ایک تو اس میں وضو کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے ترک غسل کی اجازت نکلتی ہے۔ ٢ ؎: صحیح بخاری میں حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی حسن بصری کی سمرہ ؓ سے روایات موجود ہیں، اس بابت اختلاف ہے، مگر علی بن المدینی اور امام بخاری کی ترجیح یہی ہے کہ حسن بصری نے حدیث عقیقہ کے علاوہ بھی سمرہ ؓ سے سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطھارة ١٣٠ (٣٥٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٠ (الجمعة ٥) (٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٧)، مسند احمد ٥/٨، ١١، ١٥، ١٦، ٢٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٨١) (صحیح )