عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کا پہلا قسامہ یہ تھا کہ بنی ہاشم کا ایک شخص تھا، قریش یعنی اس کی شاخ میں سے کسی قبیلے کے ایک شخص نے اسے نوکری پر رکھا، وہ اس کے ساتھ اس کے اونٹوں میں گیا، اس کے پاس سے بنی ہاشم کے ایک شخص کا گزر ہوا جس کے توش دان کی رسی ٹوٹ گئی تھی، وہ بولا: میری مدد کرو ایک رسی سے جس سے میں اپنے توش دان کا منہ باندھ سکوں تاکہ (اس میں سے سامان گرنے سے) اونٹ نہ بدکے، چناچہ اس نے اسے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے رسی دی، جب انہوں نے قیام کیا اور ایک اونٹ کے علاوہ سبھی اونٹ باندھ دیے گئے تو جس نے نوکر رکھا تھا، اس نے کہا: اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے، تمام اونٹوں میں اسے کیوں نہیں باندھا گیا؟ اس نے کہا: اس کے لیے کوئی رسی نہیں ہے، اس نے کہا: اس کی رسی کہاں گئی؟ وہ بولا: میرے پاس سے بنی ہاشم کا ایک شخص گزرا جس کے توش دان کا منہ باندھنے کی رسی ٹوٹ گئی تھی، اس نے مجھ سے مدد چاہی اور کہا: مجھے توش دان کا منہ باندھنے کے لیے ایک رسی دے دو تاکہ اونٹ نہ بدکے، میں نے اسے رسی دے دی، یہ سن کر اس نے ایک لاٹھی نوکر کو ماری، اسی میں اس کی موت تھی (یعنی یہی چیز بعد میں اس کے مرنے کا سبب بنی) اس کے پاس سے یمن والوں میں سے ایک شخص کا گزر ہوا، اس نے کہا: کیا تم حج کو جا رہے ہو؟ اس نے کہا: جا نہیں رہا ہوں لیکن شاید جاؤں، اس نے کہا: کیا تم (اس موقع سے) کسی بھی وقت میرا یہ پیغام پہنچا دو گے؟ اس نے کہا: ہاں، کہا: جب تم حج کو جاؤ تو پکار کر کہنا: اے قریش کے لوگو! جب وہ آجائیں تو پکارنا! اے ہاشم کے لوگو! جب وہ آجائیں تو ابوطالب کے بارے میں پوچھنا پھر انہیں بتانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے سلسلے میں مار ڈالا ہے اور (یہ کہہ کر) نوکر مرگیا، پھر جب وہ شخص آیا جس نے نوکری پر اسے رکھا تھا تو اس کے پاس ابوطالب گئے اور بولے: ہمارے آدمی کا کیا ہوا؟ وہ بولا: وہ بیمار ہوگیا، میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی پھر وہ مرگیا، میں راستے میں اترا اور اسے دفن کردیا۔ ابوطالب بولے: تمہاری طرف سے وہ اس چیز کا حقدار تھا، وہ کچھ عرصے تک رکے رہے پھر وہ یمنی آیا جسے اس نے وصیت کی تھی کہ جب موسم حج آیا تو وہ اس کا پیغام پہنچا دے۔ اس نے کہا: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں، اس نے کہا: اے بنی ہاشم کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ بنی ہاشم ہیں، اس نے کہا: ابوطالب کہاں ہیں؟ کسی نے کہا: ابوطالب یہ ہیں۔ وہ بولا: مجھ سے فلاں نے کہا ہے کہ میں آپ تک یہ پیغام پہنچا دوں کہ فلاں نے اسے ایک رسی کی وجہ سے مار ڈالا، چناچہ ابوطالب اس کے پاس آئے اور بولے: تم تین میں سے کوئی ایک کام کرو، اگر تم چاہو تو سو اونٹ دے دو، اس لیے کہ تم نے ہمارے آدمی کو غلطی سے مار ڈالا ہے ١ ؎ اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تم نے اسے نہیں مارا، اگر تم ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہو تو ہم تمہیں اس کے بدلے قتل کریں گے، وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہم قسم کھائیں گے، پھر بنی ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اس قبیلے کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی، اس شخص سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ بولی: ابوطالب! میں چاہتی ہوں کہ آپ ان پچاس میں سے میرے اس بیٹے کو بخش دیں اور اس سے قسم نہ لیں، ابوطالب نے ایسا ہی کیا، پھر ان کے پاس ان میں کا ایک شخص آیا اور بولا: ابوطالب! آپ سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم لینا چاہتے ہو؟ ہر شخص کے حصے میں دو اونٹ پڑیں گے، تو لیجئیے دو اونٹ اور مجھ سے قسم مت لیجئیے جیسا کہ آپ اوروں سے قسم لیں گے، ابوطالب نے دونوں اونٹ قبول کرلیے، پھر اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابھی سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان اڑتالیس میں سے ایک بھی آنکھ جھپکنے والی نہیں رہی (یعنی سب مرگئے) ٢ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The first instance of Qasamah during the Jahiliyyah involved a man from Banu Hashim who was employed by a man from Quraish, from another branch of the tribe. He went out with him, driving his camels and another man from Banu Hashim passed by them. The leather rope of that mans bag broke, so he said (to the hired worker): Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag, lest the camels run away from me. So he gave him a rope and he tied his gab with it. When they halted, all the camels legs were hobbled except one camel. The one who had hired him said: Why is his camel, out of all of them, not hobbled? He said: There is no rope for it. He said: Where is its rope? He said: A man from Banu Hashim passed by and the leather rope of his bag had broken, and he asked me to help him; he said: "Help me by giving me a rope with which to tie the handle of my bag lest the camels run away from me, so I gave him a rope . " He struck him with a stick, which led to his death.Then a man from Yemen passed by him (the man from Banu Hashim, (the man from Banu Hashim, just before he died) and he (the Hashimi man) said: Are you going to attend the Pilgrimage? He said: I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it. He said: Will you convey a message from me once in your lifetime? He said: Yes. He said: If you attend the pilgrimage, then call out, O family of Quraish! If they respond, then call out, O family of Hashim! If they respond, then ask for Abu Talib, and tell him that so and so killed me for a rope. Then the hired worker died. When the one who had hired him cam, Abu Talib went to him and said: What happened to our companion? He said: He fell sick and I took good care of him, but he died, so I stopped and buried him. He said: He deserved that from you. Some time passed, then the Yemeni man who had been asked to convey the message arrived at the time of the pilgrimage. He said: O family of Quraish! And they said: Here is Quraish. He said: O family of Banu Hashim! They said: Here is Banu Hashim. He said" Where is Abu Talib? He said: Here is Abu Talib. He said: so and so asked me to convey a message to you, that so and so killed him for a camels rope. Abu Talib went to him and said" Choose one of three alternatives that we are offering you. If you wish, you may give us one hundred camels, because you killed our companion by mistake: or if you wish, fifty of your men may swear an oath that you did not kill him; or if you wish, we will kill you in retaliation. He went to his people and told them about that, and they said: We will swear the oath. Then a woman from Banu Hashim, who was married to one of their men and had born him a child, came to Abu Talib and said: O Abu Talib, I wish that my son, who is one of these fifty men, should be excused from having to take the oath., So the excused him. Then one of the men came to him and said: O Abu Talib, you want fifty men to take the oath in lieu of one hundred camels, which means that each man may give two camels instead, so here are two camels; take them from me, and do not make me take the oath. So he accepted them, and did not make him take the oath. Then forty-eight men came and took the oath." Ibn Abbas said: "By the One in Whose hand is my soul, by the time a year has passed, none of those forty-eight men remained alive.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4706
Notes · وضاحت
١ ؎: نامعلوم قتل کی صورت میں مشتبہ افراد یا بستی والوں سے قسم لینے کو قسامہ کہا جاتا ہے۔ ٢ ؎: ابن عباس ؓ نے ان سب کے مرجانے کی خبر قسم کھا کردی باوجود یہ کہ یہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس سلسلہ میں تین باتیں کہی جاتی ہیں : یہ خبر ان تک تواتر کے ساتھ پہنچی ہوگی، کسی ثقہ شخص کے ذریعہ پہنچی ہوگی، یہ بھی احتمال ہے کہ اس واقعہ کی خبر انہیں نبی اکرم ﷺ نے دی ہوگی۔
ایک انصاری صحابی رسول ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسامہ کو اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا۔
Abu Salamah and Sulaiman bin Yasar narrated from one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, one of the Ansar, that: the Messenger or Allah approved of Qasamah as it had been during the Jahiliyyah.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4707
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/القسامة ١ (الحدود ١) (١٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٨٧، ١٨٧٤٧)، مسند احمد (٤/٦٢، و ٥/٣٧٥، ٤٣٢، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٧١٢، ٤٧١٣) (صحیح )
کچھ صحابہ سے روایت ہے کہ قسامہ جاہلیت میں جاری تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اسی حالت پر باقی رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھا، اور انصار کے کچھ لوگوں کے درمیان ایک مقتول کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ کیا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اس کا خون خیبر کے یہودیوں پر ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) معمر نے ان دونوں (یونس اور اوزاعی) کے برخلاف یہ حدیث (مرسلاً ) روایت کی ہے۔
It was narrated from Abu Salamah and Sulaiman bin Yasar, from some of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ, that: Qasamah existed during the Jahiliyyah and the Messenger of Allah ﷺ approved of it as it had been during the Jahiliyyah, and he ruled accordingly among some of the Ansar concerning a victim whom they claimed the Jews of Khaibar had Killed. (Sahih) Mamar contradicted the two of them.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4708
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ قسامہ جاہلیت میں رائج تھا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ نے اس انصاری کے سلسلے میں باقی رکھا جو یہودیوں کے کنویں میں مرا ہوا پایا گیا تو انصار نے کہا: ہمارے آدمیوں کا قتل یہودیوں نے کیا ہے۔
It was narrated that Ibn Al-Musayyab said: "Qasamah existed during the Jahiliyyah, then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) confirmed it in the case of an Ansari who was found slain in the dry well of the jews, and Ansar said: "The Jews kill our companion.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4709
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧١١ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر مرفوع متصل ہے )
سہل بن ابی حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ ؓ (رزق کی) تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے تو محیصہ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل کا قتل ہوگیا ہے، اور انہیں ایک کنویں میں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم ہی نے انہیں قتل کیا ہے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم! انہیں ہم نے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، حویصہ (ان کے بڑے بھائی) اور عبدالرحمٰن بن سہل ؓ ساتھ آئے تو محیصہ ؓ نے گفتگو کرنا چاہی (وہی خیبر میں ان کے ساتھ تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو ، اور حویصہ ؓ نے گفتگو کی پھر محیصہ ؓ نے کی، رسول اللہ ﷺ نے (اس سلسلے میں) فرمایا: یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا، پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے ، اور یہ بات رسول اللہ ﷺ نے انہیں لکھ بھیجی، تو انہوں نے لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن ؓ سے فرمایا: تمہیں قسم کھانا ہوگی ٢ ؎ اور پھر تمہیں اپنے آدمی کے خون کا حق ہوگا ، وہ بولے: نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی قسم کھائیں گے ، وہ بولے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس (یعنی بیت المال) سے ان کی دیت ادا کی اور ان کے پاس سو اونٹ بھیجے یہاں تک کہ وہ ان کے گھر میں داخل ہوگئے، سہل ؓ نے کہا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔
It was narrated from Sahl bin Abi Hathmah that: Abdullah bin Sahl and Muhayysah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayysah and he told him that Abdullah bin Sahl had been Killed and thrown into a pit, or a well. He came to the Jews and said: "By Allah, you killed him. " They said: "By Allah, we did not kill him."Then he went back to the Messenger of Allah ﷺ and told him about that. Then he and Huwayysah - his brother who was older than him - and Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)). Muhayysah, who was the one who had been at Khaibar, began to speak, but the Messenger of Allah said: "Let the elder speak first," So Huwayysah elder speaks first." So Huwayysah spoke, then Muhayysah spoke. The Messenger of Allah ﷺ said: "Either (the Jews) will pay the Diyah for your comanion, or war will be declared on them." The Messenger of Allah ﷺ sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: "By Allah, we did not kill him." The Messenger of Allah ﷺ said to Huwayysah, Muhayysah and Abdur-Rahman: "Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?" They said: "No." He said: "Should the jews swear an oath for you? They said: "They are not Muslims." So the Messenger of Allah ﷺ paid (the Diyah) himself, and he sent one hundred she-camels to their abodes. Sahl said: "A red she-camel from among them kicked me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4710
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : قسامہ میں پہلے مقتول کے ورثاء سے کہا جائے گا کہ تم لوگ قسم کھالو تو تم کو قتل کی دیت دے دی جائے گی، اور جب ورثاء قسم سے انکار کردیں گے تب مدعا علیہم سے قسم کھانے کو کہا جائے گا اب اگر وہ بھی قسم کھا لیں گے تو دیت بیت المال سے دلائی جائے گی جیسا کہ آپ ﷺ نے اس معاملہ میں کیا تھا۔ ٢ ؎: اسی جملہ کی باب سے مناسبت ہے۔
سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ ان سے ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ ؓ تنگ حالی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے، محیصہ ؓ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل ؓ مارے گئے، انہیں ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، پھر وہ اپنے قبیلے کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا۔ پھر وہ، ان کے بھائی حویصہ (حویصہ ان سے بڑے تھے) اور عبدالرحمٰن بن سہل چلے۔ (اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے) تو محیصہ نے بات کرنی چاہی (وہی خیبر میں گئے) تھے تو رسول اللہ ﷺ نے محیصہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو ۔ آپ کی مراد عمر میں بڑے ہونے سے تھی، چناچہ حویصہ نے گفتگو کی پھر محیصہ نے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یا تو وہ تمہارے آدمی کی دیت دیں یا پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس بارے میں لکھ بھیجا تو ان لوگوں نے لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن (ؓ ) سے کہا: کیا تم قسم کھاؤ گے اور اپنے آدمی کے خون کے حقدار بنو گے؟ وہ بولے: نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی قسم کھائیں گے ۔ وہ بولے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی اور سو اونٹنیاں ان کے پاس بھیجیں یہاں تک کہ وہ ان کے گھروں میں داخل ہوگئیں۔ سہل کہتے ہیں: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔
It was narrated from Abu Laila bin Abdullah bin Abdur-Rahman bin Sahl, from Sahl bin Abi Hathmah, that: he informed him, ans some men among the elders of his people, that "Abdullah bin Sahl and Muhayysah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayysah, and he told him that Abdullah bin Sahl had been killed and thrown into a pit or well. He came to the Jews and said: "By Allah, you killed him." They said: "By Allah, we did not kill him." Then he went baack to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayysah, who was older than him, and Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)). Muhayysah, who was the one who had been at Khaibar, bnegan to speak, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elder speak first." So Huwayysah spoke, then Muhayysah spoke. The Messenger of Allah ﷺ said: "Either (the Jews) will pay the Diyah for your companion, or war will be declared on them." The Messenger of Allah ﷺ sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: "By Allah, we did not kill him." The Messenger of Allah ﷺ and Abdur-Rahman: "Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?" They said: "No." He said: "Should the Jews swear an oath for you?" They said: "They are not Muslims." So the Messenger of Allah ﷺ paid it himself, and he sent one hundred she-camels to their abodes. Sahl said: "A red she-camel from among them kicked me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4711
سہل بن ابی حثمہ ؓ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود ؓ نکلے، جب خیبر پہنچے تو کسی مقام پر وہ الگ الگ ہوگئے، پھر اچانک محیصہ کو عبداللہ بن سہل مقتول ملے، انہوں نے عبداللہ کو دفن کیا، پھر وہ، حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن ان میں سب سے چھوٹے تھے، پھر اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے عبدالرحمٰن بولنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: عمر میں جو بڑا ہے اس کا لحاظ کرو تو وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھی گفتگو کرنے لگے، پھر عبدالرحمٰن نے بھی ان کے ساتھ گفتگو کی، چناچہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے، پھر اپنے ساتھی کے خون کے حقدار بنو گے (یا کہا: اپنے قاتل کے) انہوں نے کہا: ہم کیوں کر قسم کھائیں گے جب کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے، آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے ، انہوں نے کہا: ان کی قسمیں ہم کیوں کر قبول کرسکتے ہیں وہ تو کافر لوگ ہیں، جب یہ چیز رسول اللہ ﷺ نے دیکھی تو آپ نے ان کی دیت خود سے انہیں دے دی۔
It was narrated from Yahya, from Bushair bin Yasa, from Sahl bin Abi Hathmah who said - and I think he said: and from Rafi bin Khadij, the two of them said - :"Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayysah bin Masud went out until when they reached Khaibar, they went their separate ways. Then Muhayysah found Abdullah bin Sahl slain, so he buried him. Then he came to the Mesenger of Allah, along with Huwayysah bin Masud and Abdur-Rahman bin Sahl, who was the youngest of them, Abdur-Rahman started to speak before his two companions, but the Messenger of Allah ﷺ said to him: "Let the clear speak first." So he fell silent and his two companions spoke, then he spoke with them. They told the Messenger of Allah ﷺ about the killing of Abdullah bin Sahl, and he said to them: "Will you swear fifty oaths, then you will receive compensation, or be entitled to retaliate?" They said: "How can we swear an oath when we did not witness what happened?" he said: "Then can the Jews swear fifty oaths declaring their Announce?" They said: "How can we accept the oath of a disbelieving people?" When the Messenger of Allah ﷺ saw that, he paid the blood money (himself).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4712
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل ؓ اپنی کسی ضرورت کے پیش نظر خیبر آئے، پھر وہ باغ میں الگ الگ ہوگئے، عبداللہ بن سہل کا قتل ہوگیا، تو ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور چچا زاد بھائی حویصہ اور محیصہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن نے اپنے بھائی کے معاملے میں گفتگو کی حالانکہ وہ ان میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، سب سے بڑا پہلے بات شروع کرے ، چناچہ ان دونوں نے اپنے آدمی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یوں تھا: تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں گے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک ایسا معاملہ جہاں ہم موجود نہ تھے، اس کے بارے میں کیوں کر قسم کھائیں؟ آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی اپنے پچاس لوگوں کو قسم کھلا کر تمہارے شک کو دور کریں گے ، وہ بولے: اللہ کے رسول! وہ تو کافر لوگ ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا کی۔ سہل ؓ کہتے ہیں: جب میں ان کے مربد (باڑھ) میں داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔
It was narrated from Sahl bin Ab Hathmah and Rafi bin Khadij that: Muhayysah bin Masud and Abdullah bin Sahl went to Khaibar for some need they had there, and they parted among the palm trees. Abdullah bin Sahl was killed, and Abdullah bin Sahl was killed, and his brother Abdur-Rahman bin Shl, and Huwayysah, and Musayysah, his paternal cousins, came to the Messenger of Allah ﷺ. Abdur-Rahan spoke about his brothers case, but he was the youngest of them, so the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first." So they spoke about their companions, and the Messenger of Allah ﷺ said: Let fifty of your swear an oath." The said: "O Messenger of Allah, it is something that we did not witness: how can we swear an oath?" He said: "Then let the Jews swear fifty oaths to their Announce." They said: "O Messenger of Allah, they area) a disbelieving people," So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself Sahl said: "I entered a Mirbad of theirs, and one of those camels kicked me.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4713
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل، محیصہ بن مسعود بن زید خیبر ؓ گئے، ان دنوں صلح چل رہی تھی، وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے، پھر محیصہ ؓ عبداللہ بن سہل ؓ کے پاس آئے (دیکھا کہ) وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ رہے تھے، تو انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، پھر عبدالرحمٰن بن سہل، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو عبدالرحمٰن نے بات کی وہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو ، چناچہ وہ خاموش ہوگئے، پھر ان دونوں نے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ اپنے آدمی (کے خون بہا) یا اپنے قاتل (خون) کے حقدار بنو؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کیوں کر قسم کھائیں گے حالانکہ نہ ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہی ہم نے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے ، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔
It was narrated from Sahi bin Abi Hathmah that: Abdullah bin SAahi and Nubayysah bin Masud bin Zaid went o Khaibar, and at that time there was peace treaty. They went their separate ways to about their business, then Muhayysah came upon Abdullah in Sahl lying dead in a pool of blood. He buried him, then he came to AL-Madinah. Abdur-Rahman bin Sahi. Huwayysah, and Muhayysah came to the Messenger of Allah ﷺ, and Abdur-Rehman started to speak, but he was the youngest of them, so the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first." So he fell silent and they (the other two) spoke. The Messenger of Allah ﷺ said: "Will you swear fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" They said: "O Messenger of Allah, how can we swear an oath when we did not witness, and did not see (what happened)?" He said: "The n can the Jews swear fifty oaths declaring their Announce?" They said: "O Messenger of Allah, how can we accept the oath of a disbelieving people?" So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4714
سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید ؓ خیبر کی طرف چلے، اس وقت صلح چل رہی تھی، محیصہ اپنے کام کے لیے جدا ہوگئے، پھر وہ عبداللہ بن سہل ؓ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا قتل ہوگیا ہے اور وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے، انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، عبدالرحمٰن بن سہل ؓ بات کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو ، وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، تو وہ چپ ہوگئے، پھر انہوں (حویصہ اور محیصہ) نے بات کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ تم اپنے قاتل (کے خون) ، یا اپنے آدمی کے خون (بہا) کے حقدار بنو ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم قسم کیوں کر کھائیں گے، نہ تو ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : تو کیا پچاس یہودیوں کی قسموں سے تمہارا شک دور ہوجائے گا؟ وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔
It was narratd that Sahl bin Abi Hatmah said: "Abdullah bin Sahl and Muhayysah bin Masud bin Zaid went to Khaibar, and at that time there was a peace treaty. They went their separatea ways to go about their business, then Muhayysah came upon Abdullah bin Sahl lying dead in a pool of blood. He buried him, then he camae to Al-Madinah. Abdur-Rahman bin Sahl and Huwhayysah, and Muhayysah, the tow sons of Nasud, came to the Messenger of Allah ﷺ, and "Abdur-Rahman started to speak, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first," for he was the youngest of them. So he fell silent and they (the other two) spoke. The Messenger of Allah ﷺ said: "Will you sear fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" They said: "O Messenger of Allah, how can we a wear and oath when we did not witness and did not see (what happened)" He said: "Then can the Jews swear fifty oaths declaring their Announce?" They said: "O Messenger of Allah, how can we accept the oath of a disbelieving people?" So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4715
سہل بن ابی حثمہ ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کی طرف نکلے پھر اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے اور عبداللہ بن سہل انصاری ؓ کا قتل ہوگیا۔ چناچہ محیصہ، مقتول کے بھائی عبدالرحمٰن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بات کرنے لگے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ۔ پھر محیصہ اور حویصہ ؓ نے گفتگو کی اور عبداللہ بن سہل ؓ کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی، پھر تم اپنے قاتل کے (خون کے) حقدار بنو گے ، وہ بولے: ہم قسم کیوں کر کھائیں، نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارے شک کو دور کریں گے ۔ وہ بولے: ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت ادا کی۔ بشیر کہتے ہیں: مجھ سے سہل بن ابی حثمہ ؓ نے کہا: دیت میں دی گئی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے مربد (باڑھ) میں مجھے لات ماری۔
It was narrated from Sahl bin Abi Hathmah that: Abdullah bin Sahi Al-Anasri and Muhayysah bin Masud went out to Khaibar and went their separate ways to go about their business. Abdullah bin Sahl Al-Anasari was killed and Muhayysah. Abdur-Rahman, who was the brother of the victim, and Huwayysah, came to the Messenger of Allah ﷺ. Abdur-Rahman started to speak, but the prophert said to him: "Let the elders speak first." So Muhayysah and Huwayysah spoke and told him about the case of Abdullah bin Sahl. The Messenger of Allah ﷺ said: "Will you swear fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" They said: "How can we swear an oath when we did not witness (what happened) and we were not there?" The Messenger of Allah ﷺ said: "Then can the Jews swear fifty oaths declaring their Announce?" They said: "O Messenger of Allah, how can we accept the oath of a disbelieving people?" So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself. (One of the narrators) Bushair said: One of those camels kicked me in a Mirbad of ours.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4716
سہل بن ابی حثمہ ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل ؓ مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی اور ان کے چچا حویصہ اور محیصہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، عبدالرحمٰن ؓ بات کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ، ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے خیبر کے ایک کنویں میں عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا: تمہارا شک کس پر ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا شک یہودیوں پر ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ یہودیوں نے ہی انہیں قتل کیا ہے؟ ، انہوں نے کہا: جسے ہم نے دیکھا نہیں، اس پر قسم کیسے کھائیں؟ آپ نے فرمایا: تو پھر یہودیوں کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے عبداللہ بن سہل کو قتل نہیں کیا ہے، تمہارے شک کو دور کریں گی؟ وہ بولے: ہم ان کی قسموں پر کیسے رضامند ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی سہل بن ابی حثمہ کا ذکر نہیں کیا ہے) ۔
It was narrated that Sahl bin Abi Hathmah said: "Abdullah bin Sahl was found slain, and his brother, and two paternal uncles, Huwayysah and Huwayisaah, who were the paternal uncles of Abdullah bin Sahl, came to the Messenger of Allah ﷺ. Abdur-Rahman started to speak, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first." They said: "O Messenger of Allah, we found Abdullah bin Sahl slain in one of the dry wells of Khaibar." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whom do you suspect? They said: "We suspect the Jews." He said: "Will you swear fifty oaths saying that the Jews killed him?" They said: "How can we swear an oath about something that we did not see?" He said: "Then can the Jews swear fifty oaths declaring that they did not kill him?" They said:"How can we accept their oaths, when they are Mushrikun?" So the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself. (Sahih) Malik narrated this in Mursal from.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4717
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے اور عبداللہ بن سہل ؓ کا قتل ہوگیا، محیصہ ؓ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، عبدالرحمٰن ؓ مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ، چناچہ حویصہ اور محیصہ ؓ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی یا اپنے قاتل کے خون کے حقدار بنو؟ ۔ مالک کہتے ہیں: یحییٰ نے کہا: بشیر نے یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ سعید بن طائی نے ان راویوں کے برعکس بیان کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Bushair bin Yasar that: Abdullah bin Sahl Al-Ansari and Muhayysah bin Masud went out to Khaibar, where they went their separate ways to go about their business. Abdullah bin Sahl was killed, and Muhayysah came (to Madinah) and went with his brother Huwayysah and Abdur-Rahman bin Sahl to the Messenger of Allah ﷺ. Abdur-Rahaman started to speak, because of his position as brother (of the slain man) but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first." So Huyysah and Muhayysah spoken, and told him about what happened to Abdullah bin Sahl. The Messenger of Allah ﷺ said to them: "Will you sewer fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" (In his narration) Malik said: "Yahya said: Bushair said that the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself, but Saeed bin Ubaid At-Tal disagreed with them (in reporting that).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4718
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن طائی کی روایت میں مقتول کے اولیاء سے قسم کھانے کے بجائے گواہ پیش کرنے، پھر مدعی علیہم سے قسم کھلانے کا ذکر ہے۔ امام بخاری نے اسی روایت کو ترجیح دی ہے، (دیات ٢٢ ) بقول امام ابن حجر : بعض رواۃ نے گواہی کا تذکرہ نہیں کیا ہے اور بعض نے کیا ہے، بس اتنی سی بات ہے، حقیقت میں نبی اکرم ﷺ نے پہلے گواہی طلب کی اور گواہی نہ ہونے پر قسم کی بات کہی، اور جب مدعی یہ بھی نہیں پیش کرسکے تو مدعا علیہم سے قسم کی بات کی، اس بات کی تائید عبداللہ بن عمرو ؓ کی اگلی روایت سے بھی ہو رہی ہے۔
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری شخص نے ان سے بیان کیا کہ ان کے قبیلہ کے کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے، پھر وہ الگ الگ ہوگئے، تو انہیں اپنا ایک آدمی مرا ہوا ملا، انہوں نے ان لوگوں سے جن کے پاس مقتول کو پایا، کہا: ہمارے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا: نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا پتا ہے، تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنا ایک آدمی مقتول پایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ١ ؎، پھر آپ نے ان سے فرمایا: تمہیں قاتل کے خلاف گواہ پیش کرنا ہوگا ، وہ بولے: ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ قسم کھائیں گے ، وہ بولے: ہمیں یہودیوں کی قسمیں منظور نہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کو گراں گزرا کہ ان کا خون بیکار جائے، تو آپ نے انہیں صدقے کے سو اونٹ کی دیت ادا کی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) عمرو بن شعیب نے ان (یعنی اوپر مذکور رواۃ) کی مخالفت کی ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Saeed bin Ubaid At-Tal from Bushair bin Yasar who said: "A man from among the Ansar who was called Sahl bin Abi Hathmah told him that some of his people went to Khaibar, where they went their separate ways. Then they found one of their numbers slain. They said to those in whose land they found him: You killed our companion! They said: We did not kill him and we do not know who killed him. They went to the Prophet of Allah and said: O Prophet (صلی اللہ علیProphet of ibar and we found one of our number slain. The Messenger of Allah ﷺ said: Let the elders speak first. And he said to them: Bring proof of the one whom you suspect killed him. They said: We do not have any proof. He said: "Then let them swear an oath to you. They said" We will not accept the oath of the Jews. The Messenger of Allah ﷺ did not want his blood to have been shed with no Justice done, so he paid a Diyah of one hundred camels from the Sadaqah." Amr bin Shuaib differed with them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4719
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر یہ ذکر نہیں ہے کہ عمر میں چھوٹے آدمی ( عبدالرحمٰن مقتول کے بھائی ) نے رسول اللہ ﷺ سے بات شروع کی تو آپ نے ادب سکھایا کہ بڑوں کو بات کرنی چاہیئے اور چھوٹوں کو خاموش رہنا چاہیئے۔ ملاحظہ ہو : سابقہ احادیث۔ ٢ ؎: عمرو بن شعیب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ الاصغر کو مقتول کہا ہے، اور یہ کہا ہے کہ مدعیان سے شہادت طلب کرنے کے بعد اسے نہ پیش کر پانے کی صورت میں ان سے قسم کھانے کو کہا گیا۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ محیصہ کے چھوٹے بیٹے کا خیبر کے دروازوں کے پاس قتل ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو گواہ لاؤ کہ کس نے قتل کیا ہے، میں اسے اس کی رسی سمیت تمہارے حوالے کروں گا ، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمیں گواہ کہاں سے ملیں گے؟ وہ تو انہیں کے دروازے پر قتل ہوا ہے، آپ نے فرمایا: تو پھر تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی ، وہ بولے: اللہ کے رسول! جسے میں نہیں جانتا اس پر قسم کیوں کر کھاؤں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تو تم ان سے پچاس قسمیں لے لو ، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم ان سے قسمیں کیسے لے سکتے ہیں وہ تو یہودی ہیں، تو آپ نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کی اور آدھی دیت دے کر ان کی مدد کی۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that: the younger son of Muhayysah was found slain one morning at the gate of one morning at the gates of Khaibar. The Messenger of Allah ﷺ said: "Bring two witnesses to (say) who killed him, and he will hand him over to you." He said: "O Messenger of Allah ﷺ, where shall I get two witnesses? He was found slain in the morning at their gates." He said: "Will you swear fifty oaths?" He said: "O Messenger of Allah, how can I swear concerning something I do not know?" The Messenger of Allah ﷺ said: "Then will you accept fifty oaths from them?" He said: "O Messenger of Allah, how can we accept their oaths when they are Jews?" So the Messenger of Allah ﷺ told them (the Jews) to pay the Diyah and he would help them with half.
شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4720
Notes · وضاحت
١ ؎: امام نسائی نے اس روایت پر نقد یہ کہہ کر کیا کہ عمرو بن شعیب نے ان رواة کی مخالفت کی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اوپر گزری روایتوں سے اس روایت میں تین جگہ مخالفت ہے: اس میں مقتول کا نام عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ ہے، اور مدعی سے قسم سے پہلے گواہ پیش کرنے کی بات ہے،، نیز اس میں یہ ہے کہ آدھی دیت یہودیوں پر مقرر کی، دوسری شق کی تائید کہیں نہ کہیں سے ہوجاتی ہے لیکن بقیہ دو باتیں بالکل شاذ ہیں۔ اس حدیث کے راوی عبید اللہ بن اخنس، بقول ابن حبان: روایت میں بہت غلطیاں کرتے تھے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون بہانا جائز تین صورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے: جان کے بدلے جان ١ ؎، جس کا نکاح ہوچکا ہو وہ زنا کرے، جو دین چھوڑ دے اور اس سے پھر جائے ۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is not permissible to shed the blood of a Muslim except in one of three cases: A soul for a soul, a adulterer who has been married, and one who separates leaving his religion.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4721
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی لفظ سے قصاص کا حکم ثابت ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان ناحق لی گئی ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قتل کردیا گیا، قاتل کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کردیا ١ ؎، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: سنو! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کردیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے ، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ (رسی والا) پڑگیا۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A man was killed during the time of the Messenger of Allah ﷺ, and the Killer was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He handed him over to the heir of the victim, but the killer said: O Messenger of Allah, by Allah I did not means to kill him. The Messenger of Allah ﷺ said to the next of kin: If he is telling the truth and you kill him, you will go to the Fire. So he let him go. He had been tied with a string and he went out dragging his string, so he became known as Dhul-Nisah (the one with the string).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4722
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے حوالہ کردیا کہ وہ اس کو قصاص میں قتل کردیں، اسی سے قصاص کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
وائل حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو) ، جب وہ (قتل کرنے) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو) ، جب وہ (قتل کرنے) چلا، تو آپ نے فرمایا: اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ اسی پر ہوگا ١ ؎، چناچہ اس نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ٢ ؎۔
It was narrated from Alqamah binWail Al-Hadrami that his farther said: A man who had killed someone was brought to the Messenger of Allah ﷺ, and he was brought by the heir of the victim. The Messenger of Allah ﷺ said to him. Will you forgive him? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Go away. Then when he went away, he called him back and said: will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept the Diyah? He said: No. He said: will you kill him? He said: Yes. He said: Go away. Then when he had gone he said: If you forgive him, he will carry your sin and the sin of your companion (the victim)." So he forgave him and let him go." He said: "And I saw him dragging his string.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4723
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کردینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہوگا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہوگا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کردینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہوچکے ہوں گے۔ ٢ ؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
وائل ؓ کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے ، چناچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھیرا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو قتل ہی کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے ، اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: سنو! اگر اسے معاف کرتے ہو تو وہ اپنا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ سمیٹ لے گا ١ ؎، چناچہ اس نے اسے معاف کردیا، اور اسے چھوڑ دیا، پھر میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا۔
It was narrated that Wail said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when the heir of a victim brought the killer, leading him by a string. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to the heir of the victim: Will you forgive him? He said: No., He said: Will you accept Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said" Take him away (to kill him). When he took him and turned away, he turned to those who were with him, and called him back, and said to him: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. Then the Messenger of Allah ﷺ said: If you forgive him, he will carry your sin and the sin of your companion (the victim). So he forgave him and left him, and I was him dragging his string.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4724
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ قتل سے پہلے جو گناہ اس کے سر تھا اور قتل کے بعد جس گناہ کا وہ مرتکب ہوا ہے ان دونوں کو وہ سمیٹ لے گا۔
اس سند سے بھی وائل ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔ یحییٰ ١ ؎ کہتے ہیں: یہ اس سے بہتر ہے۔
A similar report was narrated from Alqamah bin Wail from his father, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Yahya (one of the narrators) said: "He is better than him.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4725
Notes · وضاحت
١ ؎: یحییٰ یعنی القطان ( جو راوی بھی ہیں، اور امام جرح و تعدیل بھی، وہ ) فرماتے ہیں : اس حدیث کی یہ سند پچھلی سند سے بہتر ہے۔