راویوں کے اس حدیث سے متعلق اختلاف
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ، فَأَتَى هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ لِمَكَانِهِ مِنْ أَخِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرْ كَبِّرْ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ ؟، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَ بُشَيْرٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، خَالَفَهُمْ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ.
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود ؓ خیبر کی طرف نکلے، پھر وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہوگئے اور عبداللہ بن سہل ؓ کا قتل ہوگیا، محیصہ ؓ آئے تو وہ اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، عبدالرحمٰن ؓ مقتول کے بھائی ہونے کی وجہ سے بات کرنے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ، چناچہ حویصہ اور محیصہ ؓ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی یا اپنے قاتل کے خون کے حقدار بنو؟ ۔ مالک کہتے ہیں: یحییٰ نے کہا: بشیر نے یہ بھی بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ سعید بن طائی نے ان راویوں کے برعکس بیان کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Bushair bin Yasar that: Abdullah bin Sahl Al-Ansari and Muhayysah bin Masud went out to Khaibar, where they went their separate ways to go about their business. Abdullah bin Sahl was killed, and Muhayysah came (to Madinah) and went with his brother Huwayysah and Abdur-Rahman bin Sahl to the Messenger of Allah ﷺ. Abdur-Rahaman started to speak, because of his position as brother (of the slain man) but the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the elders speak first." So Huyysah and Muhayysah spoken, and told him about what happened to Abdullah bin Sahl. The Messenger of Allah ﷺ said to them: "Will you sewer fifty oaths, then you will receive compensation or be entitled to retaliate?" (In his narration) Malik said: "Yahya said: Bushair said that the Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself, but Saeed bin Ubaid At-Tal disagreed with them (in reporting that).