Sunan An Nasai 4728

قسامت کے متعلق

4728Sunan An Nasai

حضرت علقمہ بن وائل کی روایت میں راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: أَتَعْفُو ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ، فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: أَتَعْفُو ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ، فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.

وائل ؓ کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے ، چناچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھیرا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو قتل ہی کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے ، اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: سنو! اگر اسے معاف کرتے ہو تو وہ اپنا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ سمیٹ لے گا ١ ؎، چناچہ اس نے اسے معاف کردیا، اور اسے چھوڑ دیا، پھر میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا۔

It was narrated that Wail said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when the heir of a victim brought the killer, leading him by a string. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to the heir of the victim: Will you forgive him? He said: No., He said: Will you accept Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said" Take him away (to kill him). When he took him and turned away, he turned to those who were with him, and called him back, and said to him: Will you forgive him? He said: No. He said: Will you accept Diyah? He said: No. He said: Will you kill him? He said: Yes. He said: Take him away. Then the Messenger of Allah ﷺ said: If you forgive him, he will carry your sin and the sin of your companion (the victim). So he forgave him and left him, and I was him dragging his string.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4724
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ قتل سے پہلے جو گناہ اس کے سر تھا اور قتل کے بعد جس گناہ کا وہ مرتکب ہوا ہے ان دونوں کو وہ سمیٹ لے گا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )