وائل ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مرگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ١ ؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ، اس نے کہا: ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چناچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
It was narrated from Alqamah bin Wail that his father said: "I was sitting with the Messenger of Allah ﷺ when a man came with a string around his neck and said: O Messenger of Allah, this man and my brother were digging a hole, and he raised his pickax and struck his companion in the head, Killing him. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Forgive him, but he refused and said: O Prophet of Allah, this man and my brother were digging a whole, and he raised his pickax and struck his companion in the head, killing him. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Forgive him, but he refused, then he stood up and said: O Messenger of Allah, this man and my brother were digging a hole, and he raised his pickax and struck his companion in the head, killing him. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Forgive him, but he refused. He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said: Go, but if you kill him, you will be like him. So he took him out, and they called out to him: Didnt you hear what the Messenger of Allah ﷺ said? So he came back and he said: If I kill him will I be like him? He said: Yes. Forgive him. Then he went out, dragging his string, until he disappeared from our view.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4726
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہوجائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔
وائل ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ ، اس نے (لانے والے نے) کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا: ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے تم نے کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو ، اس نے کہا: میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا: میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا: تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے ، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا: تمہارا برا ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، یہ سن کر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹ آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی جیسا ہوگا ، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے؟ ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: تو یہی ہوگا ، اس نے کہا: تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں) ۔
Alqamah bin Wail narrated from his father that he was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man came leading another man by a string. He said: "O Messenger of Allah, this man killed my brother." The Messenger of Allah ﷺ said to him: "Did you kill him?" He said: "O Messenger of Allah even if he did not confess I would have brought proof against him." He said: "Yes, I killed him." He said: "How did you kill him?" He said: "He and I were chopping firewood from a tree and he insulted me, so I got angry and struck him with the ax on the forehead." The Messenger of Allah ﷺ said: "Do you have any wealth with which you can pay the Diyah to save yourself?" He said: "O Messenger of Allah, I do not have anything but my ax and my clothes." The Messenger of Allah said to him: "Do you think your people will pay to save you?" He said: "I am too insignificant to them for that." He threw the string to the man and said: "Here, thank him." When he turned to go, the Messenger of Allah ﷺ said: "If he kills him, he will be like him. "They caught up with the man, and said: "Woe to you! The Messenger of Allah ﷺ said: If he kills him, he will be like him. "So he went back to the Messenger of Allah ﷺ and said: "O Messenger of Allah, I have been told that you said: if he kills him, he will be like him. But I only took him because you told me to. He said: Dont you want him to carry your sin and the sin of your companion (the victim)? He said: Yes, if that is the case. He said: And that is how it is.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4727
وائل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔
It was narrated from Simak bin Harb that Alqamah bin Wail told him that his father said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a man came leading another" (and he narrated) a similar report.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4728
وائل ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، چناچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کردیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا: قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ١ ؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
It was narrated from Alqamah bin Wail that: his father told them that a man who had killed another man was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he handed him over to their of the victim to kill him. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to those who were sitting with him: "The killer and the slain will both be in Fire. "A man went after him and told him that, and when he told him that, he left him (let him go). He (the narrator) said: "I saw him dragging his string when he let him go. I mentioned that the Habib and he said: Saeed bin Ashwa told me that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded the man to forgive him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4729
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات آپ نے خاص ان دونوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، کیونکہ اس میں نہ تو مذکورہ مقتول کا کوئی قصور تھا، نہ ہی اس کے ولی کا جو اس کو بدلے میں قتل کرتا بلکہ آپ نے ولی کو معافی پر ابھارنے کے لیے یہ جملہ فرمایا تھا۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا: دیت لے لو ، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے قتل کر دو، تم بھی اسی جیسے ہوجاؤ گے (گناہ میں) ، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو، تم بھی اسی طرح ہوجاؤ گے ، چناچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔
It was narrated from Ans bin Malik that a man brought the killer of his kinsman to the Messenger of Allah ﷺ and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Forgive him." But he refused. He said: "Take the Diyah," but he refused. He said: "Go and kill him then, for you are just like him." So he went away, but some people caught up with the man and told him that the Messenger of Allah ﷺ had said: "Messenger of Allah had said: "Kill him for you are just like him." So he let him go, and the man passed by me dragging his string.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4730
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا: جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے ، اس شخص نے اس سے کہا: اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہوگا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا: سنو! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah, from the father, that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "This man killed my brother." He said: "Go and kill him as he killed your brother." The man said to him: "Fear Allah and let me go, for that will bring you a greater reward and will be better for you and your brother on the Day of Resurrection." So he let him go. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was told about that, so he asked him about it, and he told him what he had said. He said: "Pardoning him would be better for you than what he would have done for you on the Day of Resurrection when he said: O Lord, ask him why he killed me.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4731
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٥١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” بشیر “ لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قریظہ اور نضیر یہودیوں کے دو قبیلے تھے، بنو نضیر بنو قریظہ سے بڑھ کر تھے، جب بنو قریظہ کا کوئی شخص بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ اس کے بدلے قتل کردیا جاتا، اور جب بنو نضیر کا کوئی شخص بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرتا تو وہ سو وسق کھجور ادا کردیتا، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نبی بنا کر بھیجے گئے تو بنو نضیر کے ایک شخص نے بنو قریظہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تو ان لوگوں نے کہا: اسے (قاتل کو) ہمارے حوالے کرو ہم اسے قتل کریں گے، انہوں (بنو نضیر) نے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان ثالث نبی اکرم ﷺ ہوں گے، چناچہ وہ لوگ آپ کے پاس آئے تو یہ آیت: وإن حکمت فاحکم بينهم بالقسط اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو (المائدہ: ٤٠) نازل ہوئی، قسط یعنی انصاف کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لی جائے، پھر یہ آیت أفحکم الجاهلية يبغون کیا یہ لوگ جاہلیت کا انصاف پسند کرتے ہیں (المائدہ: ٥٠) نازل ہوئی۔
It was narrated from Simak, from Ikrimah, that Ibn Abbas said: "There were (the two tribes of) Quraizah and An-Nadir, and An-Nadir was nobler than Quraiaah. If a man of Quraizah Killed a man of An-Nadir, he would be killed in return, but if a man of An-Nadir killed a man of Quraizah, he would pay a Diyah of one hundred Wasqs of dates. When An-Nadir killed a man of Quraizah, and they said: Hand him over to us and we will kill him. They said: Between us and you (as judge) is the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). So they came to him, then the following was revealed: "And if you judge, judge with justice between them."[3] Al-Qisl (justice) means a soul for a soul. Then the following was revealed: "Do they then seek the judgment of (the days of) Ignorance?[4]
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4732
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١ (٤٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٩) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، مگر اگلی سند میں سماک کے متابع ” داود بن حسین “ ہیں، اس کی بنا پر یہ روایت بھی صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مائدہ کی وہ آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فاحکم بينهم أو أعرض عنهم سے المقسطين، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے درمیان ایک دیت کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں، وجہ یہ تھی کہ بنو نضیر کے مقتولین کو برتری حاصل ہونے کی وجہ سے ان کی پوری دیت دے دی جاتی تھی اور بنو قریظہ کو آدھی دیت دی جاتی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان کے سلسلے میں نازل فرمایا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سلسلہ میں حق کی ترغیب دلائی اور دیت برابر کردی۔
It was narrated from Dawud hin Al-Husain, from Ikrimah, from Ibn Abbas, that the Verses in AL-Maidah, in which Allah, the Mighty and Sublime, says: "Either judge between them, or turn away from them. If you turn away from then up to: those who act justly."[1] - were revealed concerning the matter of blood money between An-Nadir and Quraizah. That was because the slain of An-Nadir were of noble status, so the blood money would be paid in full for them, but for Banu Quraizah only half of the blood money would be paid. They referred the matter to the Messenger of Allah ﷺ for judgment, then Allah, the Mighty and Sublime, revealed that concerning them, so the Messenger of Allah ﷺ told them to do the right thing and he made the blood money equal.
حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4733
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں اور اشتر علی ؓ کے پاس گئے تو ہم نے کہا: کیا نبی اکرم ﷺ نے آپ کو کوئی ایسی خاص بات بتائی جو عام لوگوں کو نہیں بتائی؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جو میری اس کتاب میں موجود ہے ١ ؎ پھر انہوں نے اپنی تلوار کی نیام سے ایک تحریر نکالی، اس میں لکھا تھا: سب مسلمانوں کا خون برابر ہے ٢ ؎، اور وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں، اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی ان سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے ٣ ؎ آگاہ رہو! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمہ داری اسی کے اوپر ہوگی، اور جو نئی بات نکالے گا یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
It was narrated that Qais bin Ubad said: "Al-Ashtar and I went to Ali (RA) with him, and said: Did the Prophet of Allah tell you anything that he did not tell to all the people? He said: No, except what is in this letter of mine. He brought out a letter from the sheath of his sword and it said therein: "The lives of the believers are equal in value, and they are one against others, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his convenant is in effect. Whoever commits an offense then the blame is on himself, and whoever gives sanctuary to an offender, then upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4734
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میرے لیے کوئی خاص بات ہوتی تو میری اس کتاب میں ضرور ہوتی، جب کہ اس کتاب میں جو کچھ ہے وہ میرے لیے خاص نہیں ہے بلکہ عام ہے، یہ اور بات ہے کہ اوروں کو چھوڑ کر مجھے اسے لکھنے کا حکم دیا گیا۔ ٢ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آزاد آدمی اور غلام کے درمیان بھی قصاص کا حکم جاری ہوگا۔ ٣ ؎: یعنی کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کافر کو پناہ دیدے تو کوئی مسلمان اسے توڑ نہیں سکتا۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سارے مسلمانوں کا خون برابر ہے وہ غیروں کے مقابل (باہمی نصرت و معاونت میں) گویا ایک ہاتھ ہیں اور ان میں کا ایک ادنیٰ آدمی بھی سب کی طرف سے عہد و امان کی ذمہ داری لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو جب تک وہ ذمہ میں رہے ۔
It was narrated from Ali (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The lives of the believers are equal in value, and they are one against others, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his covenant is in effect.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4735
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا تو ہم اس کا عضو کاٹیں گے اور جو کوئی اپنے غلام کو خصی کرے گا، ہم اسے خصی کریں گے ۔
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever kills his slave, we will kill him: whoever mutilates (his slave). We will mutilate him, and whoever castrates (his slave), we will castrate him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4736
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٧ (٤٥١٥)، سنن الترمذی/الدیات ١٨(١٤١٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٦)، مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨، ١٩)، سنن الدارمی/الدیات ٧ (٢٤٠٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٥١٦، ٤٥١٧، ٤٧٤١، ٤٧٤٢، ٤٧٥٧، ٤٧٥٨) (ضعیف) (اس کے رواة ” قتادہ “ اور ” حسن بصری “ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز سمرہ رضی الله عنہ سے حسن بصری کے سماع میں اختلاف ہے )
سمرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنے غلام کو قتل کر دے گا ہم اسے قتل کریں گے اور جو اپنے غلام کا عضو کاٹے گا ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔
It was narrated from Samurah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4737
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے گا تو ہم اسے قتل کریں گے اور جو کوئی اس کا عضو کاٹے گا، ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔
It was narrated that Samurah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4738
عبداللہ بن عباس ؓ عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی تلاش تھی، تو حمل بن مالک ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: میں دو عورتوں کے کمروں کے درمیان میں رہتا تھا، ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو مار ڈالا، تو نبی اکرم ﷺ نے بچے کے بدلے ایک غلام یا لونڈی دینے اور اس (عورت) کے بدلے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
Amr bin Dinar narrated that: he heard Tawus narrate from Ibn Abbas, from Umar(RA) that he asked about the ruling of the Messenger of Allah ﷺ concerning that. Hamal bin Malik stood up and said: "I was married to two women, and one of them struck the other with a tent pole and killed her and her fetus. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ruled that a slave be given (as Diyah) for her fetus and that she be killed (for killing the other woman).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4739
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢١ (٤٥٧٢، ٤٥٧٣، ٤٥٧٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٤١)، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٤) مسند احمد (١/٣٦٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٤٨٢٠ (صحیح الإسناد )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا زیور لے لیا، اور پھر اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، لوگوں نے اس عورت کو اس حال میں پایا کہ اس میں کچھ جان باقی تھی، وہ اسے لے کر لوگوں کے پاس پہنچے، یہ پوچھتے ہوئے: کیا اس نے مارا ہے، کیا اس نے مارا ہے، وہ بولی: ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، پھر اس کا بھی سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that: a Jew took some jewelry from a girl, then he crushed her head between two rocks. They found her as she was breathing her last, and they took her around among the people (saying); "Was it this one? Was it this one?" (When) she said yes, the Messenger of Allah ﷺ ordered that his head be crushed between two rocks.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4741
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی وہ زیور ہار پہنے ہوئے تھی، ایک یہودی نے اسے پکڑا اور اس کا سر کچل دیا اور جو زیور وہ پہنے ہوئے تھی اسے لے لیا، پھر وہ پائی گئی، اس کی سانس چل رہی تھی، اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے پوچھا: تمہیں کس نے قتل کیا؟ کیا فلاں نے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام آیا، اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، تو اسے گرفتار کیا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا، رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا اور دو پتھروں کے درمیان اس کا سر کچل دیا گیا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "A girl went out wearing some jewelry and a Jew caught her, crushed her head between two rocks and took the jewelry that she was wearing. She was found as she was breathing her last, and she was brought to the Messenger of Allah ﷺ who said: Who killed you? Was it so and so? She gestured no with her head, and he continued asking until he named the Jew, and she gestured yes with her head. He was caught and he confessed (to his crime), then the Messenger of Allah ﷺ ordered that his head be crushed between two rocks.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4742
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ١ ؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا ۔
It was narrated from Aishah (RA), the Mother of the Believers, that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is not permissible to kill a Muslim except in one of three cases: A adulterer who has been married, who is to be stoned; a man who kills a Muslim deliberately; and a man who leaves Islam and wages war against Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger, who is to be killed, crucified or banished from the land.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4743
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ان تین صورتوں میں کافر کے بدلے مسلم کو قتل کرنے کی بات نہیں ہے اسی سے مؤلف کا باب پر استدلال ہے، جو بہرحال مبہم ہے، لیکن اگلی حدیث اس باب میں بالکل واضح ہے۔ کافر چاہے حربی ہو یا ذمی، یہی جمہور علماء امت کا قول ہے۔ البتہ ذمی کے قتل کا گناہ بہت ہی زیادہ ہے، دیکھئیے اگلی حدیث۔
It was narrated that Ash-Shabi said: "I heard Abu Juhaifah say: We asked Ali: "Do you have anything from the Messenger of Allah ﷺ apart from the Quran?" He said: "No, by the One who splits the seeds and creates the soul, unless Allah gives a slave understanding of His Book, or except this sheet." I said: "What is in the sheet?" He said: "In it are (the regulations concerning) blood money and the freeing of captives and (the rule) that no Muslim should be killed for killing a disbeliever.
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی ؓ سے کچھ پوچھا، ہم نے کہا: کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا رسول اللہ ﷺ کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم، جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندے کو جو قرآن کی سمجھ دیدے، یا جو اس صحیفہ میں ہے، میں نے کہا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اس میں دیت کے احکام ہیں، قیدیوں کو چھوڑنے کا بیان ہے، اور یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
It was narrated that Abi Hassan said: "Ali said: The Messenger of Allah ﷺ did not tell me anything that he did not tell the people, except what is in a sheet in the sheath of my word. They did not leave him alone until he brought out the sheet, and in it (were the words): The lives of the believers are equal in value, and they hasten to support the asylum granted by the least of them, and they are one against others. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his covenant is in effect.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4744