اشتر کہتے ہیں کہ انہوں نے علی ؓ سے کہا: لوگوں میں مشہور ہو رہی ہیں جو وہ سن رہے ہیں، لہٰذا اگر رسول اللہ ﷺ نے آپ سے کوئی بات کہی ہو تو اسے بیان کر دیجئیے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کوئی بات ایسی نہیں بتائی جو لوگوں کو نہ بتائی ہو، سوائے اس کے جو ایک صحیفہ میری تلوار کی نیام میں ہے، اس میں لکھا ہے: مومنوں کا خون برابر ہے، ان کا معمولی آدمی بھی کسی کا ذمہ لے سکتا ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی ذمی جب تک وہ عہد پر قائم رہے ۔
It was narrataed from Al-Ashtar that he said to Ali: "What the people have been hearing from you has become widespread. If the Messenger of Allah ﷺ told you anything, then tell us," He said: "The Messenger of Allah ﷺ did not tell me anything that he did not tell the people, except that in the sheath of my sword there is a sheet, in which it says: The lives of the believers are equal in value, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his covenant is in effect." It is an abridgement of it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4746
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کی جان لی جب کہ اس کا خون جائز نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کی خوشبو حرام کردی ہے ۔
It was narrated that Abu Bakrah said: The Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever kills a Muahad with no justification, Allah will forbid Paradise to him and he will not even smell its fragrance.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4748
ایک صحابی رسول ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کا قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت کی دوری سے آتی ہے ۔
It was narrated from Al-Qasim bin Al-Mukhaimirah, from a man among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever kills a man from among Ahl Adh-Dhimmah.[2] he will not smell the fragrance of Paradise, and its fragrance may be detected from a distance of seventy years.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4749
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever kills a person from among Ahl Adh-Dhimmah, he will not smell the fragrance of Paradise, and its fragrance may be detected from a distance of forty years.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4750
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٦١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة ٥ (٣١٦٦)، الدیات ٢٠ (٦٩١٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٢ (٢٦٨٦)، مسند احمد (٢/١٨٦) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ غریب لوگوں کے ایک غلام نے امیر لوگوں کے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے انہیں کچھ نہ دلایا۔
It was narrated from Imran bin Hussain that: a slave belonging to some poor people cut off the ear of a slave belonging to some rich people. They came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) but he did not give them anything.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4751
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے مؤلف کا یہ اپنا استدلال ہے، جب کہ امام ابوداؤد (رح) نے اس پر جو باب باندھا ہے وہ اس حدیث کے مفہوم کی صحیح ترجمان ہے ان کے الفاظ ہیں فقراء کے غلام کی جنایت کا باب تب حدیث کا مطلب ہوگا مجرم غلام اگر غریب لوگوں کا ہوگا تو اس سے ساقط ہوجائے گا۔ لیکن مؤلف کا یہ استنباط بہرحال باقی ہے کہ جب یہ جنایت قتل سے کم تر ہو، ورنہ قتل کے بدلے اگر قصاص کا فیصلہ ہو تو بہرحال غلام سے بھی قصاص لیا جائے گا۔ اور دیت کے فیصلے کی صورت میں اگر مالک غریب ہے تو بیت المال سے دیت دی جائے گی اور امام خطابی کے بقول یہاں غلام بمعنی لڑکا ہے نہ کہ غلام بمعنی عبد یعنی اگر غریبوں کے کسی لڑکے نے قتل سے کم تر جنایت کا ارتکاب کیا تو اس کے غریب سرپرستوں سے دیت ساقط ہوجائے گی۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دانت میں قصاص کا فیصلہ فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ۔
It was narrated from Anas that: the Messenger of Allah ﷺ ruled that Qisas should be given for a tooth. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What Allah has decreed is retaliation.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4752
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا، اسے ہم قتل کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹا تو اس کا عضو ہم کاٹیں گے ١ ؎۔
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever kills his slave, we will kill him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4753
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آخری جملہ کی باب سے مطابقت ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہمارے لیے اس موضوع پر کافی مواد موجود ہے۔
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو خصی کیا اسے ہم خصی کریں گے اور جس نے اپنے غلام کا عضو کاٹا ہم اس کا عضو کاٹیں گے ۔
It was narrated from Samurah that the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever castrates his slave, we will castrate him, and whoever mutilates his slave, we will mutilate him." This is the wording of Ibn Bashshar (one of the narrators).
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4754
انس ؓ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ ؓ ١ ؎ نے ایک شخص کو زخمی کردیا، وہ لوگ مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قصاص ہوگا قصاص ، ام ربیع ؓ بولیں: اللہ کے رسول! کیا فلاں عورت سے قصاص لیا جائے گا؟ نہیں، اللہ کی قسم! اس سے کبھی بھی قصاص نہ لیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، ام ربیع! قصاص تو اللہ کی کتاب کا حکم ہے ، وہ بولیں: نہیں، اس سے ہرگز قصاص نہ لیا جائے گا، وہ کہتی رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے دیت قبول کرلی، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کو (قسم میں) سچا کردیتا ہے ۔
It was narrated from Anas that: the sister of Ar-Rubai Umm Harithah injured a person and they referred the dispute to the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah said: "Retaliation, retaliation (Qisas)." Umm Ar-Rabi said: O Messenger of Allah, how could retaliation be carried out against so and so? No, by Allah, retaliation willnever be carried out against her! The Messenger of Allah ﷺ said: "Subhan Allah, O Umm Ar-Rabi! decreed by Allah." She said: "No, by Allah, retaliation will never be carried out against her!" And she carried on until they accepted Diyah (blood money). He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4755
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں زخمی کرنے والی کا نام ربیع بنت نضر کی بہن ام حارثہ ہے اور اعتراض کرنے والی ربیع ہیں، جب کہ اگلی روایت میں زخمی کرنے کی نسبت خود ربیع بنت نضر کی طرف کی گئی ہے، اور اعتراض کرنے کی نسبت ان کے بھائی انس بن نضر کی طرف کی گئی ہے، حافظ ابن حزم وغیرہ علماء کی تحقیق کے مطابق یہ الگ الگ دو واقعات ہیں، حافظ ابن حجر کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے، (دیکھئیے کتاب الدیات باب ١٩ ) ۔
انس ؓ نے ذکر کیا کہ ان کی پھوپھی نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، تو نبی اکرم ﷺ نے قصاص کا فیصلہ کیا، ان کے بھائی انس بن نضر ؓ نے کہا: کیا فلاں کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، فلاں کے دانت نہیں توڑے جائیں گے، اور وہ لوگ اس سے پہلے اس کے گھر والوں سے معافی اور دیت کی بات کرچکے تھے، پھر جب ان کے بھائی نے قسم کھائی (وہ انس ؓ کے چچا تھے، جو احد کے دن شہید ہوئے) تو وہ لوگ معاف کرنے پر راضی ہوگئے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ انہیں سچا کر دکھاتا ہے ۔
Anas narrated that: his paternal aunt broke the front tooth of a girl and the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) decreed retaliation. Her brother, Anas bin An-Nadr, said: "Will you break the front tooth of so and so? No, by the One Who sent you with the truth, the front tooth of so and so will not be broken!" Before that, they had asked her family for forgiveness and blood money. When her brother - who was the paternal uncle of Anas and was martyred at Uhud - swore that oath, the people agreed to forgive. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4756
انس ؓ کہتے ہیں کہ ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، چناچہ انہوں نے معاف کردینے کی درخواست کی تو ان لوگوں نے انکار کیا، پھر ان کے سامنے دیت کی پیش کش کی گئی، تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ نے انہیں قصاص کا حکم دیا، انس بن نضر ؓ بولے: اللہ کے رسول! کیا ربیع کے دانت توڑے جائیں گے؟ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، وہ نہیں توڑے جائیں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: انس! اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم ہے ، پھر وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہیں معاف کردیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے قسم کھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں سچا کر دکھاتا ہے ۔
It was narrated that Anas said: "Ar-Rubai broke the front tooth of a girls, and they asked them (her people) to forgive her, but they refused. They offered them blood money, but they refused. Then they went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he decreed relation. Anas Bin An-Nadr said: "O Messenger of Allah, will you break the front tooth of Ar-Rubai? No, by the One Who sent you with the truth, it will not be broken!" He said: "O Anas, what Allah has decreed is retaliation." But the people agreed to forgive her. He (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)) said: "There are among the slaves of Allah who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4757
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ١٦ (٢٦٤٩)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گرگیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا ١ ؎۔
It was narrated from Imran bin Hussain that: a man bit the hand of another man, who pulled his hand away, and the mans front tooth (or from teeth) fell out. He complained about that to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah said: "What do you want? Do you want me to tell him to put his hand in your mouth, so that you can bite it like a stallion bites? Or, do you want to give him your hand so that he may bite it, then you can pull it away if you want?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4758
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹنے لگے اور وہ اپنا ہاتھ زور سے کھینچ لے جس کی وجہ سے اس کے دانت ٹوٹ جائیں تو ان دانتوں کا قصاص ( یا دیت ) ہاتھ کھینچنے والے سے نہیں لیا جائے گا، یہ بات صرف دانت کھینچنے میں ہی نہیں اس جیسے دیگر معاملات میں بھی ہوگی۔ دیکھئیے اسی حدیث پر مولف کا باب باندھنا الرجل یدفع عن نفسہ ( حدیث نمبر : ٤٧٦٧ ) ۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، پہلے نے اسے کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اسے کچھ نہ دلایا اور فرمایا: کیا چاہتے ہو کہ تم اونٹ کی طرح اپنے بھائی کا گوشت چباؤ۔
It was narrated from Imran bin Husain that a man bit another man on the forearm: he pulled it away and a front tooth fell out. The matter was referred to the Messenger of Allah ﷺ and he canceled (the Diyah) and said: "Did you want to bite your brothers flesh as a stallion bites?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4759
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ یعلیٰ ؓ کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا ١ ؎، ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پھر ایک نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دوسرے کا دانت نکل پڑا، وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اونٹ کی طرح اپنے بھائی کے ہاتھ کو کاٹتا ہے (پھر دیت مانگتا ہے) اسے دیت نہیں ملے گی ۔
It was narrated that Imran bin Husain said: "Yala fought with a man, and one of them bit the other, who pulled his hand away from his mouth, and a front tooth fell out. They referred their dispute to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Would one of you bite his brother as a stallion bites? There is no Diyah for that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4760
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں صراحت ہے کہ دانت کاٹنے والے یعلیٰ بن امیہ ؓ تھے اور جس کو دانت کاٹا تھا وہ ان کا مزدور تھا، چونکہ معاملہ خود یعلیٰ ؓ کا تھا اس لیے اپنی روایتوں میں ( جو آگے آرہی ہیں ) انہوں نے دانت کاٹنے والے کا نام مبہم کردیا ہے۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ یعلیٰ ؓ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے دانت کاٹ کھایا، تو اس کا دانت اکھڑ گیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے دیت نہیں ہے ۔
It was narrated from Imran bin Husain that: Yala said, concerning the one who bit (another), and his front tooth fell out, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no Diyah for you." (Sahih )
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4761
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک آدمی کے ہاتھ میں دانت کاٹا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم چاہتے تھے کہ تم اپنے بھائی کا ہاتھ اونٹ کی طرح چبا ڈالو پھر آپ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔
It was narrated from Imran bin Husain that: a man bit another man in the forearm, and his front tooth fell out, so he went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that. He said: "Do you want to bite your brothers forearm as a stallion bites?" And he judged it to be invalid.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4762
یعلیٰ بن منیہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص سے ان کا جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسرے کو دانت کاٹا، پہلے نے اپنا ہاتھ دوسرے کے منہ سے چھڑایا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، معاملہ نبی اکرم ﷺ تک لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح کاٹتا ہے پھر آپ نے اسے تاوان نہیں دلایا۔
It was narrated from Yala bin Munyah that: he fought a man and one of them bit the other, who pulled his forearm away from his mouth, and a front tooth fell out. The matter was referred to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Would one of you bite his brother as a young camel bites?" And judged it to be invalid.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4763
یعلیٰ بن منیہ ؓ سے روایت ہے کہ بنی تمیم کے ایک آدمی کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا، تو پہلے نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا دانت نکل پڑا، وہ دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو جوان اونٹ کی طرح دانت کاٹتا ہے ، پھر آپ ﷺ نے اس کی دیت نہیں دلوائی۔
It was narrated from Yala bin Munyah that: a man from Banu Tamim fought with another man, and he bit his hand, so he pulled it away and a front tooth fell out. They referred the dispute to the Messenger of Allah ﷺ, who said: "Would one of you bite his brother as a young camel bites?" and he thwarted it, meaning he judged it to be invalid.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4764
سلمہ بن امیہ اور یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور ساتھی تھے وہ کسی مسلمان سے لڑ پڑے، اس نے ان کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، انہوں نے ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس دیت کا مطالبہ کرنے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کے پاس جا کر اونٹ کی طرح اسے دانت کاٹتا ہے، پھر دیت مانگنے آتا ہے، ایسے دانت کی کوئی دیت نہیں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیت نہیں دلوائی۔
It was narrated from Safwan bin Abdullah that his two paternal uncles, Salamah and Yala, the sons of Umayyah, said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ on the campaign of Tabuk, and there was a friend of ours with us, who fought with a man from among the Muslims. The man bit him on the forearm, so he pulled it away from his mouth and a tooth fell out. The man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), seeking blood money, but his brother and bite him like a stallion bites, then come and demand blood money? There is no blood money for that." And the Messenger of Allah ﷺ juddgedit to be invalid.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4765
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٥٤، ١١٨٣٥)، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤) (صحیح )