قسامت کے متعلق

Sunan An Nasai · Chapter 45 · 164 hadiths · Page 4 of 9

4770Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَهْدَرَهَا.

یعلیٰ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا تو پہلے شخص کا دانت اکھڑ گیا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے اسے لغو قرار دیا ١ ؎۔

It was narrated from Safwan bin Yala, from his father, that: a man bit the hand of another man and his front tooth fell out. He came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) but he considered it in vain.

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4766
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دیت نہیں دلوائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإجارة ٥ (٢٢٦٥)، الجہاد ٢٠ (٢٩٧٣)، المغازي ٧٨ (٤٤١٧)، الدیات ١٨ (٦٨٩٣)، صحیح مسلم/الحدود ٤ (١٦٧٤)، سنن ابی داود/الدیات ٢٤ (٤٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٧)، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٧٧١- ٤٧٧٦) (صحیح )
4771Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ مَرَّةً أُخْرَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى. وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى أَنَّهُ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ يَدَهُ فَانْتُزِعَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَخَاصَمَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيَدَعُهَا يَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ.

یعلیٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، اس کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، تو اس نے اس کا ہاتھ کاٹ کھایا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، وہ اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ چھوڑ دیتا کہ وہ اسے اونٹ کی طرح چبا جائے ۔

It was narrated from Yala that: he hired a worker who fought with a man and bit his hand, and his from tooth fell out. So he referred the dispute to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who said: "Do you want to bite his hand as a stallion bites?

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4767
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد )
4772Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ أَجِيرِي رَجُلًا، فَعَضَّ الْآخَرُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَهْدَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یعلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گیا، میں نے ایک شخص کو نوکر رکھا، پھر میرے نوکر کی ایک شخص سے لڑائی ہوگئی، تو دوسرے نے اسے دانت کاٹ لیا، چناچہ اس کا دانت اکھڑ گیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لغو قرار دیا۔

It was narrated from Safwan bin Yala that his father said: "I went on the campaign to Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ, and I hired a worker. My hired man fought with another man. The other one bit him, and his front tooth fell out. He went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) considered it to bin vain.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4768
Takhrij · تخریج
انظر رقم ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد )
4773Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ أَوْثَقَ عَمَلٍ لِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا.

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جیش العسرۃ ١ ؎ (غزوہ تبوک) میں جہاد کیا، میرے خیال میں یہ میرا بہت اہم کام تھا، میرا ایک نوکر تھا، ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی، پھر پہلے نے اپنی انگلی کھینچی تو دوسرے آدمی کا دانت نکل کر گرپڑا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ نے اس کے دانت کی دیت نہیں دلوائی، اور فرمایا: کیا وہ اپنے ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چباتا رہے؟ ۔

It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I went on a campaign with the Messenger of Allah ﷺ in the Army of Hardship, and this was the deed of which I was most sure. I had a hired man who fought with another person. One of them bit the finger of the other, who pulled his finger away and a front tooth fell out. He went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who considered the tooth to be in vain, and said: "Would he put his hand in your mouth for you to bite it?

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4769
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس آیت کریمہ : الذين اتبعوه في ساعة العسرة سے ماخوذ ہے اور یہ غزوہ تبوک کا دوسرا نام ہے، اس جنگ میں زاد سفر کی بےانتہا قلت تھی اسی لیے اسے ساعۃ العسرۃ کہا گیا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٧٠ (صحیح الإسناد )
4774Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهبِمِثْلِ الَّذِي عَضَّ، فَنَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا دِيَةَ لَكَ.

یعلیٰ ؓ سے اس جیسے شخص جس نے دانت کاٹا ہو اور اس کا دانت اکھڑ گیا ہو کے بارے میں روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے دیت نہیں ہے ۔

A similar report to that of the one who bit (another man) and his from tooth fell out was narrated from Ibn Yala from his father, in which the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no Diyah for you.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4770
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٦٩ (صحیح الإسناد )
4775Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْعَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَهُ فَانْتَزَعَهَا مِنْ فِيهِ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَيَدَعُهَا فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ.

صفوان بن یعلیٰ بن منیہ (امیہ) سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن منیہ (امیہ) ؓ کے ایک نوکر کو ایک دوسرے شخص نے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، اس (نوکر) نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا، یہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جایا گیا اور حال یہ تھا کہ اس آدمی کا دانت اکھڑ کر گرگیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے لغو قرار دیا، اور فرمایا: کیا وہ تمہارے منہ میں اسے چھوڑ دیتا تاکہ تم اسے اونٹ کی طرح چبا جاؤ۔

It was narrated from Safwan bin Yala bin Munyah that: a hired man of Yala bin Munyah was bitten by another on his forearm and he pulled it away from his mouth. The matter was referred to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), as his front tooth had fallen out, but the Messenger of Allah ﷺ considered it an invalid claim, and said: "No; should he put (his forearm) in your mouth for you to bite it as a stallion bites?

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4771
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٧٠ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
4776Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت عطاء پر روایوں کا اختلا ف

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى: أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَاسْتَأْجَرَ أَجِيرًا، فَقَاتَلَ رَجُلًا، فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ، فَلَمَّا أَوْجَعَهُ نَتَرَهَا فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَعَضُّ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُفَأَبْطَلَ ثَنِيَّتَهُ.

صفوان بن یعلیٰ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، انہوں نے ایک نوکر رکھ لیا تھا، اس کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا تو اس آدمی نے اس (نوکر) کے ہاتھ میں دانت کاٹ لیا، جب اسے تکلیف ہوئی تو اس نے اسے زور سے کھینچا، تو اس (آدمی) کا دانت نکل پڑا، یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی کو چبائے جیسے اونٹ چباتا ہے؟ چناچہ آپ نے دانت کی دیت نہیں دلوائی۔

It was narrated from Safwan bin Yala that: his father wen on the campaign of Tabuk with the Messenger of Allah ﷺ, and he hired a man who fought with another man. The man bit his forearm, and when it hurt him, he pulled it away, and the mans front tooth fell out. The matter was referred to the Messenger of Allah ﷺ who said: "Would one of you deliberately bit his brother as a stallion bites?" And he judged it to be invalid.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4772
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٦٩ (صحیح )
4777Sunan An Nasai

کچو کا لگانے میں قصاص

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْعَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَالَ، فَاسْتَقِدْ، قَالَ: بَلْ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ کے اوپر گرپڑا تو آپ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے ساتھ تھی چبھا دی، وہ شخص نکل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آؤ اور بدلہ لے لو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو معاف کردیا۔

It was narrated that Abu Aaeed Al-Khudri daid: "While the Messenger of Allah ﷺ was distributing something, a man came and leaned over him, and the Messenger of Allah ﷺ hit him with a stick that he had with him. The man went tout, and the Messenger of Allah ﷺ said: Come and ask for retaliation. He said: No. I ask for retaliation. He said: No, I pardon you, O Messenger of Allah.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4773
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٤٧)، مسند احمد (٣/٢٨) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیدہ “ لین الحدیث ہیں )
4778Sunan An Nasai

کچو کا لگانے میں قصاص

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى يُحَدِّثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا إِذْ أَكَبَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ، فَصَاحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَالَ، فَاسْتَقِدْ، قَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ اسی دوران اچانک ایک شخص آپ پر گرپڑا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی چبھا دی، وہ شخص چیخ پڑا تو آپ نے اس سے فرمایا: آؤ، بدلہ لے لو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو معاف کردیا۔

It was narrated the Abu Saeed Al-Khudri said: "While the Messenger of Allah ﷺ was distributing something, a man came and leaned over him, and the Messenger of Allah ﷺ hit him with a stick that head with him. The man shouted, and the Messenger of Allah ﷺ said: Come and ask for retaliation. He said: No, I pardon you, O Messenger of Allah.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4774
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف )
4779Sunan An Nasai

طمانچہ مارنے کا انتقام

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: لَيَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالُوا: أَنْتَ، فَقَالَ: إِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا، فَجَاءَ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ اسْتَغْفِرْ لَنَا.

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کے جاہلیت کے کسی باپ دادا کو برا بھلا کہا تو عباس ؓ نے اسے تھپڑ مار دیا، اس کے آدمیوں نے آ کر کہا: وہ لوگ بھی انہیں تھپڑ ماریں گے جیسا کہ انہوں نے مارا ہے اور ہتھیار اٹھا لیے۔ یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا: لوگو! تم جانتے ہو کہ زمین والوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے؟ انہوں نے کہا: آپ، آپ نے فرمایا: تو عباس میرے ہیں اور میں عباس کا ہوں، تم لوگ ہمارے مردوں کو برا بھلا نہ کہو جس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہو ، ان لوگوں نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔

Ibn Abbad narrated that: a man slandered one of his forefathers from the time of the Jahiliyyah, and Al-Abbas slapped him. His people came and said: "Let him slap him as he slapped him," and they prepared for quarrel. News of that reached the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and he ascended the Minbar and said: "O People, which of the people of the Earth do you know to be the most noble before Allah?" They said: "You." He said: "Al-Abbas belongs to me and I to him. Do not defame our dead or offend our living." Those people came and said: "O Messenger of Allah, we seek refuge with Allah from your anger; pray to give us.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4775
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٥٤٥)، مسند احمد (١/٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالاعلی ثعلبی “ حافظہ کے کمزور ہیں، لیکن اس کا جملہ ” لاتسبوا ۔۔۔ “ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )
4780Sunan An Nasai

پکڑ کر کھینچنے کا قصاص

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَقْعُدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا قَامَ قُمْنَا، فَقَامَ يَوْمًا وَقُمْنَا مَعَهُ حَتَّى لَمَّا بَلَغَ وَسَطَ الْمَسْجِدِ، أَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَجَبَذَ بِرِدَائِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَكَانَ رِدَاؤُهُ خَشِنًا، فَحَمَّرَ رَقَبَتَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ احْمِلْ لِي عَلَى بَعِيرَيَّ هَذَيْنِ، فَإِنَّكَ لَا تَحْمِلُ مِنْ مَالِكَ، وَلَا مِنْ مَالِ أَبِيكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا أَحْمِلُ لَكَ حَتَّى تُقِيدَنِي مِمَّا جَبَذْتَ بِرَقَبَتِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لَا، وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُقِيدُكَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الْأَعْرَابِيِّ أَقْبَلْنَا إِلَيْهِ سِرَاعًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى مَنْ سَمِعَ كَلَامِي أَنْ لَا يَبْرَحَ مَقَامَهُ حَتَّى آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: يَا فُلَانُ، احْمِلْ لَهُ عَلَى بَعِيرٍ شَعِيرًا، وَعَلَى بَعِيرٍ تَمْرًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْصَرِفُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا کرتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے، ہم کھڑے ہوجاتے، ایک دن آپ کھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے بیچوں بیچ پہنچے تو ایک شخص نے آپ کو پکڑا اور پیچھے سے آپ کی چادر پکڑ کر کھینچے لگا، وہ چادر بہت کھردری تھی، آپ کی گردن سرخ ہوگئی، وہ بولا: اے محمد! میرے لیے میرے ان دو اونٹوں کو لاد دیجئیے، آپ کوئی اپنے مال سے تو کسی کو دیتے نہیں اور نہ اپنے باپ کے مال سے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، میں تجھے نہیں دوں گا جب تک تو میری اس گردن کھینچنے کا بدلہ نہیں دے گا ، اعرابی نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، میں بدلہ نہیں دوں گا، رسول اللہ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا، ہر مرتبہ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں بدلہ نہیں دوں گا، جب ہم نے اعرابی کی بات سنی تو ہم دوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں قسم دیتا ہوں، تم میں سے جو میری بات سنے اپنی جگہ سے نہ ہٹے، یہاں تک کہ میں اسے اجازت دے دوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے قوم کے ایک آدمی سے کہا: اے فلاں! اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دو اور ایک اونٹ پر کھجور ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جاسکتے ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "We would sit with the Messenger of Allah ﷺ in the Masjid and when he stood up, we would stand up too, Only day he stood up and we stood up with him, and when he reached the middle of the Masjid, a man caught up with him and pulled roughly on his Rida (upper-warp) from behind. His Rida was of rough material, and that left a red mark on his neck. He said: O Muhammad! Load up these two camels of mine, for you are not giving me anything from your wealth or the wealth of your father! The Messenger of Allah ﷺ said: The Messenger of Allah said: No, and I pray for Allahs forgiveness. I will not load anything (onto your camels) untily you let me retaliate for your pulling roughly (on my cloak and leaving a mark on) my neck. The Bedouin said: No, by Allah, I will not let you retaliate., The Messenger of Allah ﷺ said that three times, and each time the man said: No, by Allah, I will not let you retaliate., When we heard what the Bedouin said, we turned toward him quickly. The Messenger of Allah ﷺ turned to us and said; I urge anyone who hears me not to leave his place until give him permission. Then the Messenger of Allah ﷺ said: O so and so, load one of his camels with barley and the other with dates. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Leave

ضعيف لکن قصة الأعرابي وجبذه وأمره صلى الله عليه وسلم له بعطاء في قصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4776
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١(٤٧٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠١)، مسند احمد (٢/٢٨٨) (ضعیف) (اس کے راوی ہلال بن ابی ہلال لین الحدیث ہیں، لیکن اعرابی کے آپ کو پکڑ کر کھینچنے کا قصہ صحیح بخاری (لباس ١٨) میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے )
4781Sunan An Nasai

بادشاہوں سے قصاص لینا

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ: أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ اپنی ذات سے بدلا دلاتے تھے۔

It was narrated from Abu Firas that "Umar said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ allowing others to seek retaliation against him.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4777
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٥ (٤٥٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٤)، مسند احمد ١/٤١ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو فراس “ لین الحدیث ہیں )
4782Sunan An Nasai

بادشاہوں سے قصاص لینا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاحَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الْقَوَدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَلَمْ يَرْضَوْا بِهِ، فَقَالَ: لَكُمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَرَضُوا، قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا، فَكَفُّوا، ثُمَّ دَعَاهُمْ، قَالَ: أَرَضِيتُمْ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: أَرَضِيتُمْ ؟، قَالُوا: نَعَمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ ؓ کو زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تو ایک شخص اپنے صدقے کے سلسلے میں ان سے لڑ گیا، تو ابوجہم نے اسے مار دیا، ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: اتنا اتنا مال لے لو ، وہ اس پر راضی نہ ہوئے، تو آپ نے فرمایا: (اچھا) اتنا اتنا مال لے لو ، تو وہ اس پر راضی ہوگئے، پھر آپ نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی اطلاع دوں گا ، ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے خطاب کیا اور فرمایا: یہ لوگ میرے پاس قصاص مانگنے آئے تھے تو میں نے ان پر اتنے اتنے مال کی پیش کش کی ہے اور وہ اس پر راضی ہیں ، لیکن وہ لوگ بولے: نہیں، تو مہاجرین نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ٹھہر جانے کا حکم دیا، چناچہ وہ لوگ باز رہے، پھر آپ نے انہیں بلایا اور فرمایا: کیا تم رضامند ہو؟ وہ بولے: جی ہاں، آپ نے فرمایا: میں لوگوں سے خطاب کروں گا اور تمہاری رضا مندی کی انہیں اطلاع دوں گا ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، چناچہ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا پھر (ان سے) فرمایا: کیا تم اس پر راضی ہو؟ وہ بولے: جی ہاں۔

It was narrated from Aishah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ sent Abu Jahm bin Hudhaifah to collect Zakah and a man argued with him about his Sadaqah, so Abu Jahm struck him. They came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: "Diyah, O Messenger of Allah." He said: "You will have such and such," but they did not accept it. The Messenger of Allah ﷺ said: "You will have such and such," and they accepted it. The Messenger of Allah ﷺ said: "I am going to address the people and tell them that you accepted it." They said: "Yes." So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed (the people) and said: "Those people came to me seeking compensation, and I offered them such as such, and they accepted." They said: "No." The Muhajirun wanted to attack them, but the Messenger of Allah ﷺ ordered them to refrain, so they refrained. Then he called them and said: "Do you accept?" They said:" Yes." He said: "I am going to address the people and tell them that you accepted it." They said: "Yes." So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) addressed (the people), then he said: "Do you accept?" They said: "Yes.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4778
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث پر باب باندھا ہے العامل یصاب علی یدہ خطأ یعنی عامل کے ذریعہ کسی کو غلطی سے زخم لگ جائے اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری عامل ہونے کی وجہ سے قصاص معاف نہیں ہوگا، ہاں دیت پر راضی ہوجانے کی صورت میں سرکاری بیت المال سے دیت دلوائی جائے گی جیسا کہ آپ ﷺ نے دلوائی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٣ (٤٥٣٤)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٠ (٢٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٦)، مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح الإسناد )
4783Sunan An Nasai

تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا، فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، فَقَالَ: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ لَا، قَالَ: أَقْتَلَكِ فُلَانٌ ؟، فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا: أَنْ نَعَمْ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ) اس نے کہا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟ (پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ) اس نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ١ ؎۔

It was narrated from Anas, that: a Jew saw some jewelry on a girl, so he killed her with a rock. She was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) as she was breathing her last, and he said: "Did so and so kill you?" - Shubah (one of the narrators) gestured with his head, to show that she had gestured no. - He said: "Did so and so kill you?" - Shubah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured no. - He said: "Did so and so kill you?" - Shubah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured yes. - So the Messenger of Allah ﷺ called for him, and killed him with two rocks.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4779
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے ( جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے ) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ( سورة النحل : 126) فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم ( سورة البقرة : 194) حنفیہ حدیث لا قود إلا بالسیف یعنی : قصاص صرف تلوار ہی سے ہے سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم منکر ہے ( کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ٢٢٢٩ ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٢٤ (٥٢٩٥ تعلیقًا)، الدیات ٤ (٦٨٧٧)، ٥ (٦٨٧٩)، صحیح مسلم/الحدود ٣ (١٦٧٢)، سنن ابی داود/الدیات ١٠ (٤٥٢٩)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣١)، مسند احمد (٣/١٧١، ٢٠٣) (صحیح )
4784Sunan An Nasai

تلوار کے علاوہ دوسری چیز سے قصاص لینے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقُتِلُوا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا.

قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف (فوج کی) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی آدھی دیت ادا کی ١ ؎ اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے ٢ ؎، پھر آپ نے فرمایا: سنو! (مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ٣ ؎۔

It was narrated from Anas that: the Messenger of Allah ﷺ sent a detachment jof troops to some people of Khatham, who sought to protect themselves by prostrating (to demonstrate that they were Muslims), but they were killed. The Messenger of Allah ﷺ ruled that half the Diyah should be paid, and said: "I am innocent of any Muslim who (lives with) a Mushrik. Then the Messenger of Allah ﷺ said: "Their fires should not be visible to one another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4780
Notes · وضاحت
١ ؎: آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎: اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آگئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، لايكلف الله نفسا إلا وسعها ( سورة البقرة : ٢٨٦)۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ١٠٥ (٢٦٤٥)، سنن الترمذی/السیر ٤٣ (١٦٠٤، ١٦٠٥)، (تحفة الأشراف: ٣٢٢٧، ١٩٢٣٣) (صحیح مرسلاً وموصولاً ) (یہ حدیث ابوداود اور ترمذی وغیرہ میں قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ سے روایت کی ہے، لیکن قیس کے شاگردوں کی ایک جماعت نے قیس کے بعد جریر رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ مرسلا ہی روایت کی ہے، امام بخاری نے بھی مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے، مگر موصول کی بھی صحیح متابعات موجود ہیں جیسا کہ علامہ البانی نے ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: الإروائ: ١٢٠٧ )
4785Sunan An Nasai

آیت کریمہ کی تفسیر

قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ: قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ الْقِصَاصُ، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 178، فَالْعَفْوُ: أَنْ يَقْبَلَ الدِّيَةَ فِي الْعَمْدِ، وَاتِّبَاعٌ بِمَعْرُوفٍ: يَقُولُ: يَتَّبِعُ هَذَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ: وَيُؤَدِّي هَذَا بِإِحْسَانٍ، ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ سورة البقرة آية 178 مِمَّا كُتِبَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إِنَّمَا هُوَ الْقِصَاصُ لَيْسَ الدِّيَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا، ان میں دیت دینے کا حکم نہ تھا، تو اللہ تعالیٰ نے كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والأنثى بالأنثى تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت سے فمن عفي له من أخيه شىء ف اتباع بالمعروف وأداء إليه بإحسان جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے۔ (تمہارے رب کی طرف سے) یہ تخفیف اور رحمت ہے، اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے گا، اسے درد ناک عذاب ہوگا (البقرہ: ١٧٨) تک نازل فرمایا، تو عفو یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلے اور اتباع بالمعروف یہ ہے کہ وہ دستور کی پابندی کرے، اور وأداء إليه بإحسان یہ ہے کہ وہ اسے اچھی طرح ادا کرے، ذلک تخفيف من ربکم ورحمة یہ تخفیف ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے اس لیے کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر صرف قصاص فرض تھا، دیت کا حکم نہیں تھا ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "There was Qisas among the Children of Israel, but Diyah was unknown among them. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "Al-Qisas (the law of equality in punishment) is prescribed for your in case of murder: the free for the free, the slave for the slave, and the female for the female." Up to His saying: "But if the killer is forgiven by the brother 9or the relatives) of the killed against blood money, then adhering to it with fairness and payment of the blood money to the heir should be made in fairness."[2] Forgiveness means accepting the Diyah in the case of deliberate killing. Adhering to it in fairness means asking him to pay the Diyah in a fair manner, and payment in fairness means giving the Diyah in a fair manner. This is and alleviation and a mercy from you Lord,[1] means: This is easier than that which was prescribed for those who came before you, which was Qisas and not Diyah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4781
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة ٢٣ (٤٤٩٨)، والدیات ٨ (٦٨٨١)، (تحفة الأشراف: ٦٤١٥) (صحیح )
4786Sunan An Nasai

آیت کریمہ کی تفسیر

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ سورة البقرة آية 178 قَالَ: كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ عَلَيْهِمُ الْقِصَاصُ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ فَجَعَلَهَا عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ تَخْفِيفًا عَلَى مَا كَانَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ.

مجاہد اس آیت کریمہ كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر تم پر قصاص فرض کیا گیا ان لوگوں کا جو مارے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد کے سلسلہ میں کہتے ہیں: بنی اسرائیل پر صرف قصاص فرض تھا، ان پر دیت نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے دیت کا حکم نازل فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بالمقابل اس امت محمدیہ پر تخفیف کی۔

It was narrated that Mujahid said: "Al-Qisas (the Law of Equality in punishment) is prescribed for you in case of murder: the free for the free[2] The rule for the Children of Israel was Qisas, and not Diyah. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed the Diyah to them, and He revealed this ruling to this Ummah as an alleviation of the ruling that applied to the Children of Israel.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4782
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
4787Sunan An Nasai

قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "A case requiring Qisas was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he enjoined them to pardon.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4783
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٣ (٤٤٩٧)، سنن ابن ماجہ/البیوع ٣٥ (٢٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٥)، مسند احمد (٣/٢١٣، ٢٥٢) (صحیح )
4788Sunan An Nasai

قصاص سے معاف کرنے کے حکم سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ فِيهِ قِصَاصٌ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی کوئی ایسا معاملہ آیا جس میں قصاص ہو تو آپ نے اسے معاف کردینے کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "No case requiring Qisas was ever brought to the Messenger of Allah ﷺ but he would enjoin pardoning.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4784
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : سفارش کی۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4789Sunan An Nasai

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَشْعَثَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُقَادَ، وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا ہو تو اسے اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے، چاہے تو دیت لے ١ ؎۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If a persons relative is killed, he has the choice of two things: Either he may retaliate, or he may take the ransom.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4785
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل عمد میں مقتول کے وارثین کے لیے قصاص یا دیت دونوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے کا حق ہے ( اس میں قاتل کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ) اگر قصاص معاف کردیتے ہیں تو دیت واجب ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢)، اللقطة ٧ (٢٤٣٤)، الدیات ٨ (٦٨٨٠)، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥)، سنن ابی داود/الدیات ٤ (٤٥٠٥)، سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٣، ١٩٥٨٨)، مسند احمد (٢/٢٣٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٧٩٠، ٤٧٩١) (صحیح )