قسامت کے متعلق

Sunan An Nasai · Chapter 45 · 164 hadiths · Page 5 of 9

4790Sunan An Nasai

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُقَادَ، وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی آدمی قتل ہوگیا ہو تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے، چاہے تو قصاص لے اور چاہے تو دیت لے ۔

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If a persons relative is killed, he has the choice of two things: Either he may retaliate, or he may take the ransom.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4786
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4791Sunan An Nasai

کیا قاتل سے دیت وصول کی جائے جس وقت مقتول کا وارث خون معاف کر دے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ. مُرْسَلٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کردیا گیا (یعنی وہ چاہے تو قصاص لے، اور چاہے تو دیت لے) (یہ روایت مرسل ہے) ۔

Abu Salamah narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a persons relative is killed." In Mursal form. (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4787
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم ٤٧٨٩ (صحیح) (یہ حدیث مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے ذکر فرمایا اس لیے کہ اس روایت میں ابو سلمہ نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن سابقہ حدیث میں واسطہ کا ذکر ہے یعنی ابوہریرہ رضی الله عنہ )
4792Sunan An Nasai

خواتین کے خون معاف کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِصْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِصْنٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَيُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَعَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الْأَوَّلَ، فَالْأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں، پہلے جو (مقتول کے وارثین میں) سب سے قریبی ہو وہ معاف کرے، پھر اس کے بعد والے، خواہ عورت ہی ہو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "And it is upon those (relatives) of the killed one to block (any punishment) the first (in line) then the first, even if that one is a woman.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4788
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٦ (٤٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٦) (ضعیف) (اس کے راوی ” حصن “ لین الحدیث ہیں )
4793Sunan An Nasai

جو پتھر یا کوڑے سے مارا جائے

أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا تَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحَجَرٍ، أَوْ سَوْطٍ، أَوْ بِعَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ خَطَإٍ، وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدِهِ فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی ہنگامے، یا بلوے اور فساد میں (جہاں قاتل معلوم نہ ہو سکے) کسی پتھر یا کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہوگی جو قتل خطا کی ہے اور جس نے قصداً مارا تو اس پر قصاص ہوگا، جو کوئی قصاص اور قاتل کے درمیان حائل ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever is killed in the blind or by something thrown, while between them is a rock, a wipe, or a stick, then the blood money of be paid for him is the blood money for accidental killing. Whoever kills deliberately, then retaliation is upon him, and whoever tries to prevent that, upon him is the curse of Allah, the Angels, and all the people, and neither Sarf nor Adl will be accepted from him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4789
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل تلوار سے ہو یا ایسے ہتھیار سے جس سے قتل کیا جاتا ہے : اگر قتل کی نیت سے ہو تو قتل عمد ( مقصد و ارادہ اور جان بوجھ کر قتل ) ہے، اس میں قصاص ہے یا معاف کردینے کی صورت میں دیت ہے، اور اگر قتل غلطی سے ہو خواہ کسی چیز سے بھی ہو تو اس میں دیت ہے، یہی حکم بندوق یا بم کا بھی ہوگا، فساد اور ہنگامے میں قتل خواہ کسی چیز سے ہو وہ غلطی سے قتل مانا جائے گا اور اس میں دیت ہوگی۔ جس کی تفصیل اس حدیث میں ہے اور یہی دیت مغلظہ ہے۔ اور فی زمانہ موجودہ سرکار مذکورہ دیت کی قیمت موجودہ بھاؤ سے لگا کر دیت مقرر کرے گی جیسا کہ سعودی عربیہ میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٧ (٤٥٣٩، ٤٥٤٠)، ٢٨ (٤٥٩١)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٨ (٢٦٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٩) (صحیح )
4794Sunan An Nasai

جو پتھر یا کوڑے سے مارا جائے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ رِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ عَصًا فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی ہنگامے یا بلوے میں کسی پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مارا جائے تو اس کی دیت وہی ہے جو قتل خطا کی ہے، اور جس نے جان بوجھ کر مارا تو اس میں قصاص ہے اور جو کوئی اس کے اور اس کے (قصاص اور قاتل) کے درمیان حائل ہوگا تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کا نہ فرض قبول ہوگا نہ کوئی نفل ۔

It was narrated that Ibn Abbad, who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "Whoever is killed in the blind or by something thrown, with a rock, a whip, or a stick, then the blood money to be paid for him is the blood money for accidental killing. Whoever kills deliberately, then retaliation is upon him, and whoever tries to prevent that, upon him is the curse of Allah, the Angels and all the people, and Allah will not accept any Sarf nor Adl from him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4790
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4795Sunan An Nasai

شبہ عمد کی دیت کیا ہوگی؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، أَرْبَعُونَ مِنْهَا فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خطا یعنی شبہ عمد کے طور پر جو شخص کوڑے یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، چالیس ان میں سے حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Al-Qasim bin Rabiah, from Abdullah bin Amr, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The accidental killing, which seems intentional, with a whip or stick, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be (she-camels) which their young in their wombs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4791
Notes · وضاحت
١ ؎: شبہ عمد : ایسے آلات سے قتل کرنے کو کہتے ہیں جن سے عام طور سے قتل نہیں کیا جاتا، جیسے لاٹھی، کوڑا، اور موٹی سوئی وغیرہ ( گرچہ نیت قتل کی ہو ) اس میں جس دیت کا بیان ہے وہی دیت مغلظہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ٨٩١١)، ٨٩١١، ١٩١٩٤)، مسند احمد (١/١٦٤، ١٦٦)، سنن الدارمی/الدیات ٢٢ ٢٤٢٨) (صحیح )
4796Sunan An Nasai

شبہ عمد کی دیت کیا ہوگی؟

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ. مُرْسَلٌ.

قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز خطبہ دیا۔ یہ روایت مرسل ہے۔

It was narrated from Al-Qasim bin Rabiah that: the Messenger of Allah ﷺ delivered a speech on the Day of the Conquest. (And he mentioned it) in Mursal from.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4792
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے ذکر کیا اس لیے قاسم بن ربیعہ اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی سند سے متصل مرفوع ہے )
4797Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! جو شخص قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے، جن میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Indeed the accidental killing, which seems intentional, with a whip or a stick, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be (she-camels) with their young in their wombs.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4793
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٩ (٤٥٤٧، ٤٥٤٨)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٩، ١٩١٠٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٧٩٨-٤٨٠٢، ٤٨٠٤) (صحیح )
4798Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ فِيهَا أَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ.

ایک صحابی سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، اور فرمایا: سنو! قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے، ڈنڈے اور پتھر سے مرنے والے کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس ثنی سے لے کر بازلت ہوں (یعنی چھ برس سے نو برس تک کی ہوں) اور سب بوجھ لادنے کے لائق ہوں ۔

It was narrated from Uqbah bin Aws, that: a man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a speech on the Day of the Conquest of Makkah and said: Indeed the accidental killing, which seems international, with a whip, a stick, or a rock, (the Diyah) is one hundred camels, of which forty should be pregnant she-camels between the ages of six and nine years old, all in the middle of their pregnancies.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4794
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4799Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ قَتِيلَ السَّوْطِ، وَالْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ أَرْبَعُونَ مِنْهَا فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

عقبہ بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! جو قتل خطا میں یعنی شبہ عمد کے طور پر کوڑے یا ڈنڈے سے مرجائے تو اس کی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Uqbah bin Aws, that the Mssenger of Allah said: "Indeed the accidental killing, the killing with a whip or stick, for it (the Diyah) is one hundred camels - a severe penalty - of which forty should be (she-camels) with their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4795
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٩٧ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں ہے، مگر دوسری سند سے متصل مرفوع ہے )
4800Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: أَلَا وَإِنَّ كُلَّ قَتِيلِ خَطَإِ الْعَمْدِ أَوْ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلِ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا، أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

ایک صحابی رسول ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: سنو! ہر مقتول خواہ غلطی سے مارا گیا ہو یا شبہ عمد کے طور پر ہو، وہ کوڑے یا ڈنڈے سے قتل کیے گئے شخص کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے جو اس کی ہے) اس میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Yaqub bin Aws, from a man among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that: when the Messenger of Allah ﷺ entered Makkah on the Day of the Conquest, he said: "Indeed, every accidental killing on purpose, or resembling on purpose - killing with a whip or stick, for it are forty (she-camels) which their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4796
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٩٧ (صحیح )
4801Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ: أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

ایک صحابی رسول ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن جب مکہ آئے تو فرمایا: سنو! خطا سے مقتول ہونے والا کوڑے اور ڈنڈے سے مرجانے والے کی طرح ہے (یعنی اس کی دیت بھی وہی ہے) ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Yaqub bin Aws that: a man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told him, that when the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, in the Year of the Conquest, he said: "Indeed, accidental killing on purpose, is killing with a whip or stick, for which forty (she-camels) with their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4797
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٩٧ (صحیح )
4802Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّرَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، قَالَ: أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

ایک صحابی رسول ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: خطا سے مقتول ہونے والا، کوڑے اور ڈنڈے سے مقتول ہونے والے کی طرح ہے، ان میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں جو حاملہ ہوں ۔

It was narrated from Yaqub bin Aws that: a man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) narrated to him that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered Makkah during the Year of the Conquest, and said: Indeed, accidental killing on purpose, is killing with a whip or stick, for which forty (she-camels) with their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4798
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٩٧ (صحیح )
4803Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ سَمِعَهُ مِن الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَة، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، عَلَى دَرَجَةِ الْكَعْبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا شِبْهِ الْعَمْدِ فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبے کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: شکر ہے اس اللہ کا جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، جماعتوں کو اکیلے ہی شکست دی، سنو! کوڑے اور ڈنڈے سے غلطی سے مرجانے والا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں بھی دیت مغلظہ سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up on the Day of the Conquest of Makkah, on the steps of Kabah. He praised and glorified Allah, then he said: Praise be to Allah who has fulfilled His slave and defeated the confederates alone. The one who is killed purposefully by mistake, with a whip or a stick, resembling on purpose, for that (the Diyah) is one hundred camels-a severe penalty-of which forty should be pregnant she-camels with their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4799
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٩ (٤٥٤٩)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٥ (٢٦٢٨)، (تحفة الأشراف: ٧٣٧٢) (صحیح) (اس کے راوی ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، لیکن پچھلی سن دوں سے یہ روایت بھی صحیح ہے )
4804Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَطَأُ شِبْهُ الْعَمْدِ يَعْنِي بِالْعَصَا، وَالسَّوْطِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا.

قاسم بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ڈنڈے یا کوڑے سے غلطی سے قتل ہوجانا شبہ عمد کی طرح ہے، اس میں سو اونٹ کی دیت ہوگی جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ۔

It was narrated from Al- Qasim bin Rabiah that the Messenger jof Allah said: "The accident that resembles on purpose, meaning (killing) with a stick or a whip, (for which the Diyah is) one hundred camels, of which forty should be (pregnant she-camels), with their young in their wombs.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4800
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٧٩٧ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، مگر پچھلی روایتیں متصل مرفوع ہیں )
4805Sunan An Nasai

سابقہ حدیث میں خالد الخدا کے متعلق اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، ثَلَاثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَعَشَرَةُ بَنِي لَبُونٍ ذُكُورٍ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلَهَا مِنَ الْوَرِقِ، وَيُقَوِّمُهَا عَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ إِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِي قِيمَتِهَا، وَإِذَا هَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِيمَتِهَا عَلَى نَحْوِ الزَّمَانِ مَا كَانَ، فَبَلَغَ قِيمَتُهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الْأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ إِلَى ثَمَانِ مِائَةِ دِينَارٍ أَوْ عِدْلِهَا مِنَ الْوَرِقِ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ مَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الْبَقَرِ عَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ، وَمَنْ كَانَ عَقْلُهُ فِي الشَّاةِ أَلْفَيْ شَاةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَعْقِلَ عَلَى الْمَرْأَةِ عَصَبَتُهَا مَنْ كَانُوا، وَلَا يَرِثُونَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص خطا (غلطی) سے مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہے: تیس اونٹنیاں ہیں جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہوگئے ہوں، اور آپ نے گاؤں والوں پر دیت کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت (کی مالیت) بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہوجاتی، چناچہ آپ کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی یا اسی کے برابر چاندی، آپ ﷺ نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں (دیت میں) لی جائیں، نیز آپ ﷺ نے حکم فرمایا: دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق ترکہ ہے، پھر جو بچ رہے وہ عصبہ کے اوپر ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت کی طرف سے اس کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے جو بھی ہوں، لیکن وہ (ملنے والی) دیت میں کسی چیز کے وارث نہیں ہوں گے سوائے اس کے جو بچ رہے، اور اگر عورت مقتول ہو تو اس کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی اور وہ اس کے قاتل کو قتل کریں گے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever is killed by mistake, his ransom is one hundred camels: Thirty Bint Makkah, thirty Bint Labun, thirty Hiqqah and ten Bin Labun. "[1] The Messenger of Allah ﷺ used to fix the value (of the Diayah for accidental killing) among town-dwellers at four hundred Dinars or the equivalent value in silver. When he calculated the price in terms of people with camels (for Bedouin), it would vary from one time to another. When prices rose, the value in Dinars would rise, and when prices fell the value in Dinars would fall. At the time of the Messenger of Allah ﷺ the value was between four hundred and eight hundred Dinars, or the equivalent value in silver, eight thousand Dirhams. And the Messenger of Allah ﷺ ruled that if a persons blood money was paid in cattle, among those who kept cattle, the amount was two hundred cows; and if a persons blood money was paid in sheep, among this who kept sheep, the value was two thousand sheep. The Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money is part of the estate, to be divided among the heirs of the victim according to their allotted shares, and whatever is left over is for the Asabah. And the Messenger of Allah ﷺ ruled that if a woman commits urder then he Asahah, whoever they may be, must pay the blood money, but they do not inherit anything except that which is left over from her heirs; if a woman is killed then her blood money is to be shared among her heirs, and they may kill her killer. (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4801
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤١)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٩، ٨٧١٠)، مسند احمد (٢/١٨٣، ٢١٧، ٢٢٤) (حسن )
4806Sunan An Nasai

قتل خطاء کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْخِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْخَطَإِ عِشْرِينَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَعِشْرِينَ ابْنَ مَخَاضٍ ذُكُورًا، وَعِشْرِينَ بِنْتَ لَبُونٍ، وَعِشْرِينَ جَذَعَةً، وَعِشْرِينَ حِقَّةً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قتل خطا کی دیت میں بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹ جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے میں لگے ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگی ہوں اور بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں دینے کا حکم کیا ١ ؎۔

In Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the Diyah for accidental killing is twenty Bint Makhad, twenty Bin Makhad, twenty Bint Labur, twenty Jadhah, and twenty Hiqqah.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4802
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے پچھلی حدیث پر عمل ہوگا جو صحیح ہے، رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے مقتول ( جس کا ذکر قسامہ کے شروع میں گزرا ) کی دیت میں سو اونٹ ادا کئے تھے جن میں کوئی بھی ابن مخاض نہیں تھا جس کا ذکر اس ضعیف حدیث میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤٥)، سنن الترمذی/الدیات ١ (١٣٨٦)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٣١)، (تحفة الأشراف: ٩١٩٨)، مسند احمد (١/٤٥٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں، نیز ” خشف “ کی ثقاہت میں بھی کلام ہے )
4807Sunan An Nasai

چاندی کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنَاأَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَتَهُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا وَذَكَرَ قَوْلَهُ إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فِي أَخْذِهِمُ الدِّيَةَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي دَاوُدَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے ایک شخص کو قتل کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی دیت بارہ ہزار درہم مقرر کی، اور دیت لینے سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا إلا أن أغناهم اللہ ورسوله من فضله مگر یہ کہ اب اللہ اور اس کے رسول نے ان کو مالدار کردیا ہے (المائدہ: ٥٠) ، الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A man killed another man during the time of the Messenger of Allah ﷺ, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) set the Diyah at twelve thousand. And he mentioned His saying: And they could not find any cause to do so except that Allah and His Messenger had enriched them of His Bounty. concerning them taking the Dyah." (Hasan) This is the wording of Abu Dawud.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4803
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٨ (٤٥٤٦)، سنن الترمذی/الدیات ٢ (١٣٨٨، ١٣٨٩)، سنن ابن ماجہ/الدیات ٦ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٥) (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے جیسا کہ امام ابوداود نے صراحت کی ہے، اس کو عمرو بن دینار سے سفیان بن عیینہ (جو محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل اوثق ہیں) نے بھی روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے )
4808Sunan An Nasai

چاندی کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ سَمِعْنَاهُ مَرَّةً، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا يَعْنِي فِي الدِّيَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارہ ہزار درہم کا فیصلہ کیا یعنی دیت میں۔

It was narrated from Ibn Abbas that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ruled that twelve thousand (should be given) as Diyah. (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4804
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ (ضعیف )
4809Sunan An Nasai

عورت کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَقْلُ الْمَرْأَةِ مِثْلُ عَقْلِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ مِنْ دِيَتِهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت کی دیت ایک تہائی دیت تک مرد کی دیت کی طرح ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The blood money of a woman (in the event of injury) is like the blood money of a man, up to one-third of the Diyah (for her life).

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4805
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اصول حدیث کے حساب سے ضعیف ہے، مگر جمہور علماء کا یہی قول ہے، بلکہ بعض لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے، اور یہ کہ ابن خزیمہ نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی مکمل دیت سو اونٹ ہے اور عورت کے قتل عمد و شبہ عمد و خطا میں آدھی دیت پچاس اونٹ واجب الاداء ہوں گے، لیکن اگر اعضاء کے تلف کرنے کی دیت ہو تو جیسے ایک انگلی کی دیت دس اونٹ ہیں، مان لیا کہ کسی نے کسی عورت کی چار انگلیاں توڑ دیں تو ان کی دیت چالیس اونٹ ہوئے جو سو کے ثلث ( ٣٣ ) سے زیادہ ہوگئے تو اب انگلیاں توڑنے والے پر صرف بیس ( ٢٠ ) اونٹ واجب ہوں گے، (علی ھذا القیاس ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٧٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” اسماعیل بن عیاش “ حجازیوں سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ” ابن جریج “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں )