عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذمیوں کی دیت مسلمانوں کی دیت کی آدھی ہے، اور ذمیوں سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Amr Bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The blood money for Ahl Adh-Dhimmah is half that of the blood money for the Muslims, and they are the Jews and Christians.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4806
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اسی پر جمہور کا عمل ہے، حنفیہ کا قول ہے کہ مسلم کافر ذمی سب کی دیت ( خون بہا ) برابر ہے، ان کا استدلال دی ۃ المعاہد دی ۃ الحر المسلم سے ہے جو مرسل اور ضعیف ہے، جب کہ باب کی یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی حکمت یہ ہے کہ مسلم کو کافر پر برتری حاصل ہے جس کے اظہار کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کافر کی دیت مومن کی دیت کی آدھی ہے ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from Abdullah bin Amr, that the Messenger of Allah ﷺ said: "The blood money for a disbeliever is half the blood money for the believer." (Hassan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4807
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب کے بارے میں حکم کیا کہ مکاتب غلام اگر قتل ہوجائے تو اس کی دیت اتنے حصے میں جو وہ بدل کتابت کے طور پر ادا کرچکا ہے آزاد کی دیت کے مثل ہوگی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the Diyah for a Mukatab who is killed should be (equivalent) to the Diyah for a free man, proportionate to the amount be had paid off (toward buying his freedom).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4808
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ فرمایا: اس کی اتنے حصے کی دیت جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو آزاد کی دیت کے مثل ہوگی ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: the Prophet of Allah ruled that the Diyah for a Mukatab should be (equivalent) to the Diyah for a free man, proportionate to the amount he had paid off (toward buying his freedom).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4809
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب غلام کے بارے میں فیصلہ کیا کہ جس قدر اس نے مکاتبت کا بدل ادا کردیا ہو، اتنے کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس کی ادائیگی باقی ہو اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that in the case of a Mukatab, the Diyah should be (equivalent) to the Diyah for a free man, proportionate to the amount he had paid off (towards buying his freedom)." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4810
عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مکاتب اسی قدر آزاد ہوگا جتنا اس نے بدل مکاتبت ادا کردیا ہو اور اس پر حد بھی اسی قدر نافذ ہوگی جس قدر وہ آزاد ہوچکا ہو، اور وہ وارث بھی اسی قدر ہوگا جس قدر آزاد ہوچکا ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas tht the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Mukatab is free to the extent that the has paid off (toward buying his freedom); he Hadd punishment should be carried out on him proportionate to the amount he has paid off (toward buying his freedom); and he inherits proportionate to the amount he has paid off (toward buying his freedom).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4811
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک مکاتب کا قتل ہوگیا تو آپ نے حکم دیا کہ جتنا وہ بدل مکاتبت ادا کرچکا ہے اسی قدر اس کی دیت آزاد کی دیت کے مثل ہوگی، اور جس قدر آزاد نہیں ہوا ہے اسی کے مطابق اس کی دیت غلام کی دیت کے مثل ہوگی ۔
It was narrated from Ibn Abbas that: a Mukatab was killed at the time of the Messenger of Allah ﷺ and he commanded that the Diyah be paid (equivalent) to the Diyah for a free man, (proportionate to the amount he had paid off towards buying his freedom).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4812
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے بچے کی (دیت) پچاس بکریاں ١ ؎ طے کیں اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرما دیا۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) اسے ابونعیم نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے )
It was narrated from Abdullah bin Buraidah, from his father, that: a woman threw some pebbles and stuck another woman, and she miscarried. The Messenger of Allah ﷺ stipulated (a Diyah of ) fifty sheep for her child. And on that day, he forbade throwing pebbles.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4813
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ابوداؤد میں اسی سند سے اس حدیث کے الفاظ ہیں پانچ سو بکریاں جیسا کہ اگلی روایت میں ہے پانچ سو کی طرح یہ لفظ بھی کسی راوی کا وہم معلوم ہوتا ہے، واضح رہے کہ مؤلف کی اگلی روایت کی طرح ابوداؤد کی روایت مرسل نہیں بلکہ مرفوع متصل ہے، (واللہ اعلم بالصواب ) ۔
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک عورت کو پتھر پھینک کر مارا، پتھر لگی عورت کا حمل گرگیا، چناچہ مقدمہ نبی اکرم ﷺ تک پہنچا، تو آپ نے اس بچے کی دیت پانچ سو بکریاں ١ ؎ مقرر کیں، اور اس دن سے آپ نے پتھر پھینکنے سے منع فرمایا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ وہم ہے، صحیح سو بکریاں ہیں، (پانچ سو نہیں) اور پتھر پھینکنے کی ممانعت سے متعلق حدیث عبداللہ بن بریدہ ہی کے واسطہ سے: عبداللہ بن مغفل ؓ سے مروی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
"Abdullah bin Buraidah narrated that: a woman threw pebbles at another woman and the woman who was struck miscarried. The matter was referred to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he set the blood money for her child at five hundred sheep. And on that day, he forbade throwing pebbles. (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is an error, and it must be that the intent was one hundred camels. And the prohibition of throwing pebbles has been related from Abdullah bin Buraidah, from Abdullah bin Mughaffal.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4814
Notes · وضاحت
١ ؎: اگلی روایات ( رقم ٤٨٢٠ و ٤٨٢١ ) میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا باندی کا ذکر ہے، ہوسکتا ہے اس وقت ایک غلام یا باندی کی قیمت سو بکریوں کے مساوی ہوتی ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ روایت سے یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے ایک شخص کو پتھر پھینکتے دیکھا تو کہا: مت پھینکو، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ پتھر پھینکنے سے منع فرماتے تھے، یا پتھر پھینکنا آپ کو پسند نہ تھا، یہ کہمس کا شک ہے۔
It was narrated from Abdullah bin Mughaffal that he saw a man throwing pebbles and he said: "Do not throw pebbles, for the Prophet of Allah forbade throwing pebbles," or "he disliked the throwing of pebbles." Kahmas (one of the narrators) was not sure.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4815
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة الفتح ٥ (٤٨٤١)، الذبائح ٥ (٥٤٧٩)، الأدب ١٢٢(٦٢٢٠)، صحیح مسلم/الذبائح ١٠ (١٩٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٩)، سنن ابن ماجہ/الصید ١١ (٣٢٢٦)، مسند احمد ٤/٨٦ و ٥/ ٥٦، ٥٧، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٣) (صحیح )
طاؤس سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے لوگوں سے جنین (پیٹ میں موجود بچہ کی دیت) کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا، تو حمل بن مالک ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) میں ایک غرہ (ایک لونڈی یا ایک غلام) کا فیصلہ کیا۔ طاؤس کہتے ہیں: گھوڑا بھی غرہ ہے۔
Hamal bin Malik said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that a slave (should be given as Diyah) for a fetus." Tawus said: "A horse would do in place of a slave.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4816
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی عورت کے جنین (پیٹ میں موجود بچہ) کے بارے میں جو مرا ہوا ساقط ہوگیا تھا ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، پھر وہ عورت جس پر ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی کا حکم ہوا، مرگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی میراث اس کے بیٹوں اور اس کے شوہر کے لیے ہے اور دیت اس کے عصبہ پر ہوگی ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that a male or female slave should be given (as Diyah) to a woman of Banu Lihyah whosw child was miscarried and died. Then the woman to whom he had decreed that the slave should be given died, and the Messenger of Allah ﷺ ruled that her estate belonged to the children and husband, and that the blood money was to be paid by her Asabah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4817
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں جھگڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک مارا، اور کوئی ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ عورت مرگئی اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی، چناچہ وہ لوگ جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا: اس کے جنین (پیٹ کے بچہ) کی دیت ایک غرہ ہے یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی۔ اور (قاتل) عورت کی دیت اس کے کنبے کو لوگوں (عصبہ) سے دلائی اور اس عورت کا وارث اس کے بیٹوں اور دوسرے ورثاء کو قرار دیا، تو حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا تاوان کیسے ادا کروں جس نے نہ پیا نہ کھایا، جو نہ بولا نہ چلایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ کاہنوں کا بھائی ہے (یہ بات آپ نے اس کی اس قافیہ دار بات چیت کی وجہ سے جو اس نے کی) ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "Two women of Hudhail had a fight, and one of them threw a rock at the other and killed her and the child in her womb. They referred the dispute to the Messenger of Allah ﷺ, and the Messenger of Allah ruled that the Diyah for her fetus was a male or female slave, and that the Diyah of the woman be paid by her Aqilah (male relatives on the fathers side). And he made her children and those who were with them her heirs. Hamal bin Malik bin An-Nabighah Al-Hudhali said: "O Messenger of Allah, how can I pay blood money for one who neither ate nor drank, or shouted such a one should be over looked." The Messenger of Allah ﷺ said: "This is one of the brothers of the soothsayers" because of the rhyming way in which he spoke.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4818
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا۔ جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: there were two women of Hudhail during the time of the Messenger of Allah, one of whom threw something at the other and caused her to miscarry. The Messenger of Allah ruled that (Diyah of ) a male or female slave be paid for that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4819
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کی دیت غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا جو ماں کے پیٹ میں ہی قتل کردیا جائے، تو وہ شخص جس کے خلاف آپ نے فیصلہ کیا تھا بولا: میں اس کی دیت کیوں کر ادا کروں جس نے نہ پیا، نہ کھایا، جو نہ چیخا اور نہ بولا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں میں سے (لگتا) ہے ١ ؎۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that: the Messenger of Allah ﷺ ruled that for a fetus which is killed in the mothers womb, a male or female slave be given (as Diyah). The one against whom he passed this ruling said: "How can I pay blood money for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked." The Messenger of Allah ﷺ said: "This is one of the soothsayers.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4820
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے بارے میں آپ نے ایسا اس لیے فرمایا کہ اس نے کاہنوں کی طرح مقفع مسجع جملے استعمال کیے، نہ کہ آپ نے خود اس کو کاہن قرار دیا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢٣ (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن پچھلی روایت مرفوع متصل ہے )
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی (کھونٹی) سے مارا، جس سے وہ مرگئی، وہ حمل سے تھی، چناچہ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے مارنے والی عورت کے عصبہ پر دیت کا اور جنین (پیٹ کے بچہ) کے بدلے ایک غرہ (غلام یا ایک لونڈی) دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے خاندان والے بولے: کیا اس کی بھی دیت ادا کی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا اور نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم اعراب (دیہاتیوں) کی طرح مسجع کلام کرتے ہو۔
It was narrated from Al-Mughirah bin Shubah that: a woman struck her co-wife with a tent pole and killed her, and she (the slain woman) was pregnant. She was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah ﷺ ruled that the Asabah of the killer should pay the Diyah , and a slavae (should be paid) for the fetus. Her Asabah said: "Should Diyah be paid for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Rhyming verse like the verse of the Bedouins.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4821
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی کھونٹی سے مارا وہ حمل سے تھی، اور مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول عورت کی دیت اور پیٹ کے بچے کے بدلے ایک غرہ (ایک غلام یا لونڈی) قاتل عورت کے خاندان والوں پر مقرر فرمایا۔ تو قاتل عورت کے خاندان کا ایک شخص بولا: کیا ہم اس کی بھی دیت ادا کریں گے جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ چیخا، ایسا خون تو معاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ اعراب (دیہاتیوں) کی طرح سجع کرتا ہے، پھر ان پر دیت لازم ٹھہرائی ١ ؎۔
It was narrated that Al-Mughirah bin Shubah said: "A woman struck her co-wife, who was pregnant, with a tent pole and Killed her, The Messenger of Allah ﷺ ruled that the Asahab of the Killer was to pay the Diyah and to give a slave (as Diyah for ) the child in her womb. One of theAsabah of the killer said: Am I to pay blood money for one whom neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked. The Messenger of Allah ﷺ said: Rhyming verse like the verse of the Bedouin? and he made them pay the Diyah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4822
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں باب سے مناسبت اس طرح ہے کہ خیمے کی لکڑی سے عموماً آدمی کا قتل عمل نہیں آتا اس لیے جب اس کی مار سے وہ عورت مرگئی تو اس قتل کو آپ ﷺ نے قتل خطا یا قتل شبہ عمد ( غلطی سے قتل ) قرار دے کر اس کی دیت مقرر کی، نیز اس میں باب کے دوسرے جزء سے مناسبت اس طرح ہے کہ مقتول عورت اور جنین ( ساقط حمل ) کی دیت دونوں قاتلہ عورت کے خاندان کے ذمہ لگائی۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، تو وہ مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے قاتلہ کے خاندان والوں کی جانب سے دیت ادا کیے جانے کا فیصلہ کیا اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا: آپ مجھ سے ایسی جان کی دیت ادا کروا رہے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا۔ ایسا خون تو لغو ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ تو جاہلیت کی سجع کی طرح ہے ، اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Al-Mughirah bin shubah that: there were two co-wives, one of whom struck the other with a tent people and killed her. The Messenger of Allah ﷺ ruled that the Diyah was to be paid by the Asabah of the killer, and that a slave should be given (as diyah) for the child in her womb. The Bedouin Said: "Are you penalizing me for one who neither ate nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked." He said: "Rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah," and he ruled that a slave should e given (as Diyah) for the child in her womb.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4823
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ بنی لحیان کی ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے وہ مرگئی، مقتولہ حمل سے تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے قاتل عورت کے خاندان والوں پر دیت اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated that Al-Muhgirah bin Shubah said: "A woman of Banu Lihyan struck her co-wife with a tent pole and killed her, and the slain woman was pregnant. The Messenger of Allah ﷺ ruled that the Diyah was to be paid by theAsbah of the killer, and that a slave should be given (as Diyah) for the child in her womb".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4824
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ دو عورتیں ہذیل کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں۔ ایک نے دوسری کو خیمے کا ڈنڈا پھینک کر مارا جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، فریقین جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، لوگوں نے کہا: ہم اس کی دیت کیوں کر ادا کریں جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ پیا، نہ کھایا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا دیہاتیوں کی طرح سجع کرتا ہے؟ اور آپ نے عورت کے کنبے والوں پر غرہ یعنی ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا۔
It was narrated from Al-Muhgirah b in Shubad that: two woman were married to a man of Hudhail, and one of them threw tent pole at the other and caused her to miscarry. They referred the dispute to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and they said: "how can we pay the Diyah for one who neither shouted nor cried (at the moment of birth), or ate or drank? Such a one should be overlooked." He said: "Rhyming verse like the verse of the Bedouins?" And the ruled that the Aqilah of the women should give a slave asdiyah).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4825