قسامت کے متعلق

Sunan An Nasai · Chapter 45 · 164 hadiths · Page 7 of 9

4830Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ هُذَيْلٍ كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ فَأَسْقَطَتْ، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَا أَكَلْ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، وَجُعِلَتْ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ. أَرْسَلَهُ الْأَعْمَشُ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ ہذیل کے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہوگیا، عرض کیا گیا: جس نے نہ کھایا، نہ پیا، جو نہ چیخا نہ چلایا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ تو دیہاتیوں کی سی سجع ہے؟ پھر آپ نے اس میں ایک غرہ یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا فیصلہ کیا، اور اس کی ذمہ داری (قاتل) عورت کے کنبے والوں پر ٹھہرائی۔ اعمش نے اسے مرسل روایت کیا ہے۔ (ان کی روایت آگے آرہی ہے )

It was narrated form Al-Mughirahbin shubah that: a man of Hudhail had two wives, and one of them threw a tent pole at the o0ther and caused her to miscarry. It was said: "What do you think of one who neither ate nor drank, or shouted nor cried (at the moment of birth)?" he said: (Rhyming verse like the verse of the Bedouins. "And the Messenger of Allah ﷺ ruled that a make or female slave shouted be given (as dihahj) for him (the unborn child), to be paid but theAqilah of the woman.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4826
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢٥ (صحیح )
4831Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِحَجَرٍ وَهِيَ حُبْلَى، فَقَتَلَتْهَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةً، وَجَعَلَ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا، فَقَالُوا: نُغَرَّمُ مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ ؟ فَقَالَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟، هُوَ مَا أَقُولُ لَكُمْ.

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو جو حمل سے تھی پتھر مارا، اور وہ مرگئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیٹ کے بچے کی دیت ایک غرہ (یعنی ایک غلام یا ایک لونڈی) ٹھہرائی اور اس کی دیت اس کے کنبے والوں کے ذمے ڈالی، وہ بولے: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا نہ کھایا اور نہ چلایا اس جیسا خون تو لغو ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ دیہاتیوں کی سی سجع ہے، حکم وہی ہے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں ۔

It was narrated from al-amash from Ibrahim who said: "I woman struck her co-wife, who was pregnant, with a rock and killed her Messenger of Allah ﷺ ruled that a slave should be given (as Diyah) for the child in her woman, and that her Diyah should be paid by her Asabah. They said: should we be penalized for one who neither after nor drank, or shouted or cried (at the moment of birth)? Such a one should be overlooked. He said: Rhyming vase like the vase of the Bedouins? It is what I say to (sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4827
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٢٥ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، اس لیے کہ ابراہیم نخعی اور نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے درمیان صحابی کا ذکر نہیں ہے لیکن پچھلی روایات مرفوع متصل ہیں )
4832Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ جَارَتَانِ كَانَ بَيْنَهُمَا صَخَبٌ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَأَسْقَطَتْ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيْتًا، وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَ عَمُّهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ فَمِثْلُهُ يُطَلَّ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟، وَكِهَانَتِهَا إِنَّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَتْ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ، وَالْأُخْرَى أُمَّ غَطِيفٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ دو سوکن عورتیں تھیں، ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا، تو اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا گرپڑا جس کے سر کے بال اگ آئے تھے اور عورت بھی مرگئی، نبی اکرم ﷺ نے کنبے والوں پر دیت ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس (مقتولہ) کے چچا نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ایک بچہ بھی ساقط ہوا ہے جس کے بال اگ آئے تھے۔ قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم، نہ تو وہ چیخا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، ایسا خون تو لغو ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جاہلیت کی سجع اور کہانت سی سجع ہے۔ بچے میں ایک غرہ (یعنی ایک غلام یا لونڈی) دینا ہوگا ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔

It was narrated that Ibn Abbas said; "There were two women neighbors between whom there was some trouble. One of them threw a rock at the other a she miscarried a boy - whose hair had already grown -O who was or dead, and the woman died too. He ruled that the Aqilah had to pay the Diyah. Her paternal uncle said: O Messenger of Allah ﷺ, she miscarried a boy whose hair had grown. The father of the killer said: "He is lying. By Allah he never cried or shouted (at the moment of birth), nor drank nor ate. Such a one should be overlooked. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: rhyming verse like the verse of the Jahiliyyah and of its soothsayers? A slave must be given (as Diyah) for the boy, Ibn Abbes said; "One of then was Mulaikah and the other was Umm Ghatif.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4828
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦١٢٤) (ضعیف الإسناد) (سماک کی روایت عکرمہ سے میں سخت اضطراب ہے، نیز سماک مختلط بھی تھے، مگر پچھلی روایات سے یہ حدیث صحیح ہے )
4833Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَجَابِرًا، يَقُولُ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَةً وَلَا يَحِلُّ لِمَوْلًى أَنْ يَتَوَلَّى مُسْلِمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لکھا: ہر قوم پر اس کی دیت ہے۔ اور کسی غلام کے لیے نہیں کہ وہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی مسلمان کو اپنا ولاء دے ١ ؎۔

Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that every clan should take part in paying the blood money, and it is not permissible for a freed slave to take a Muslim (other than the one who freed him) as his Mawla (Patron) without the permission (of his former master who set him free)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4829
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے اپنا مالک کہے اور اپنے کو اس کی طرف منسوب کرے، اور مرنے کے بعد اپنی ولاء کی وراثت اسی کے نام کر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العتق ٤ (١٥٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٣)، مسند احمد (٣/٣٢١، ٣٤٢) (صحیح )
4834Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو علاج معالجہ کرے، اور اس سے پہلے اس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ طبیب ہے، تو (کسی گڑبڑی کے وقت) وہ ضامن ہوگا ۔

It was narrated fromAmrbin shuaib, from his father that his grandfather said: "the Messenger of Allah ﷺ said: Whoever practices medicine when he is not known for that, he is liable.(Daif)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4830
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٥ (٤٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/الطب ١٦ (٣٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٤٦) (حسن )
4835Sunan An Nasai

حضرت مغیرہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف اور قتل شبہ عمد اور پیٹ کا بچہ کی دیت کس پر ہے؟

أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَن جَدِّه مِثْلَهُ سَوَاءً.

اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔

Narrator mentioned in Hadith: A similar report was narrated from Amr bin shuaib, from his father, from his grandfather. (Daif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4831
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4836Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟، قَالَ: ابْنِي، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ.

ابورمثہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Rimthah said; "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with my father and he said: Who is this with you? He said: my son, I bear witness (that he is my son). He said: You cannot be affected by his sin or he by yours.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4832
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢(٤٢٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٧)، مسند احمد (٤/١٦٣) (صحیح )
4837Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَتَفَ بِصَوْتِهِ: أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى الْأُخْرَى.

ثعلبہ بن زہدم یربوعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کو خطاب کر رہے تھے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اور آپ کی آواز بہت بلند تھی: سنو! کسی جان کا قصور کسی دوسری جان پر نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Thalabah bin Zahdam said: "some people from Banu Thalabah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was delivering a speech and a man said; "O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah bin Yarbu who killed so and so - one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No soul is affected by the sin of another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4833
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٠٧٢)، مسند احمد (٤/٦٤-٦٥ و ٥/٣٧٧)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٨٣٧-٤٨٤٢) (صحیح )
4838Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى.

ثعلبہ بن زہدم ؓ کہتے ہیں کہ بنی ثعلبہ کے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! یہ ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے صحابہ رسول میں سے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Tha1abah bin Zahdam said: "Some people from Banu Thalabah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was delivering a speech and a man said: O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah bin Yarbu who killed so and so - one of the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No soul is affected by the sin of another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4834
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4839Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا، رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى.

بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے نفس پر نہیں ہوگا ۔

It was narrated that Ashath bin Abi Ash-Shatha, said: "I heard Al-Aswad bin Hilal narrate from a man of Banu Thalabah bin Yarbu that some people from Banu Tahlabah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and a man said: "O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah bin Yarbuwho killed so and so - a man from among the companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: No soul is affected by the sin of another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4835
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٣٧ (صحیح )
4840Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ قَتَلَتْ فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى، قَالَ شُعْبَةُ: أَيْ لَا يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِأَحَدٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

اسود بن ہلال (انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا عہد پایا تھا) بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ہلاک کردیا تھا۔ تو ایک صحابی رسول نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ ہیں، جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہوگا ۔ شعبہ کہتے ہیں: یعنی کسی کے بدلے کسی اور سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔

It was narrated from Al-Aswad bin Hilal - who met the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) - from a man from Banu Thalabah bin Yarbu, that: some people from Banu Thalabah killed a man from among the companions of the Messenger of Allah ﷺ. A man from among the companions of the Messenger of the Allah said: "O Messenger of Allah ﷺ, these are Banu Thalabah who killed so and so." The Messenger said: "No soul is affected by the sin of another." Shubah (one of the narrators) said: "That means: No soul is responsible for the sin of another, and Allah knows best.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4836
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٣٧ (صحیح )
4841Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَعْنِي لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ.

بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہوگا ۔

It was narrated from Al-Ashath bin sulaim, from his father that a man from among Banu Thalabah bin Yarbu said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was speaking, and a man said: O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah bin Yarbu who killed so and so. The Messenger of Allah ﷺ said: No, meaning no soul is affected by the sin of another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4837
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٣٧ (صحیح )
4842Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو فُلَانٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى.

بنی یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی فلاں ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا: کسی نفس پر کسی کا قصور نہیں ہوگا ۔

It was narrated from Ashath, from his father that a man from among Banu Thalabah bin Yarbu said: "We came to the Messenger of Allah ﷺ when he was speaking to the people, and some people stood up and said: O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah who killed so and so. The Messenger of Allah ﷺ said: No soul is affected by the sin of another.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4838
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٣٧ (صحیح )
4843Sunan An Nasai

کیا کوئی شخص دوسرے کے جرم میں گرفتار اور ماخوذ ہوگا ؟

أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين

طارق محاربی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے: کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہوگا ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔

It was narrated from Tariq and Muharibi that a man said: "O Messenger of Allah, these are Banu Thalabah who killed so and so during the Jahiliyyah: avenger us! He raised his arms until the whiteness of his armpits could be seen and said: "No mothers sin can affect her child," twice. (Shahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4839
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤٩٨٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٦ (٢٦٧٠) (صحیح )
4844Sunan An Nasai

اگر آنکھ سے دکھلائی نہیں دیتا ہو لیکن وہ اپنی جگہ قائم ہو اس کو کوئی شخص اکھاڑ دے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَائِذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا إِذَا طُمِسَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا، وَفِي الْيَدِ الشَّلَّاءِ إِذَا قُطِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا، وَفِي السِّنِّ السَّوْدَاءِ إِذَا نُزِعَتْ بِثُلُثِ دِيَتِهَا.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آنکھ کے بارے میں جس سے نظر نہ آتا ہو اور وہ اپنی جگہ پر ہو پھر اگر کوئی اسے پھوڑ دے یا نکال دے تو صحیح سالم آنکھ کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا، اور شل ہاتھ جب کاٹ دیا جائے تو اس میں صحیح سالم ہاتھ کی دیت کے تہائی کا، اور کالے دانت میں جب وہ اکھاڑ دیا جائے تو صحیح سالم دانت کی تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ ruled that one-third of the Diyah should be paid for a sightless eye that looks fine, if it is destroyed; one-third of the Diyah should be paid for a paralyzed hand if it is cut off; and one-third of the Diyah should be paid for a black tooth if it is knocked out.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4840
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٠) (حسن )
4845Sunan An Nasai

دانتوں کی دیت کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دانتوں میں ہر ایک کی دیت پانچ اونٹ ہے ۔

It was narrated fromAmr bin Shuaib, from his father that his grandfather said; the Messenger of Allah ﷺ said: "For teeth (the Diyah is) five camels.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4841
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٥) (حسن صحیح )
4846Sunan An Nasai

دانتوں کی دیت کے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ خَمْسًا خَمْسًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام دانت برابر ہیں، ہر ایک میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہے ۔

It was narrated from Amr bin shuaib, from his father, that his grandfather said: The Messenger of Allah ﷺ said: "For teeth (the Diyah is ) the same, five camels for each.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4842
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٨٠٥)، مسند احمد (٢/٢١٥)، سنن الدارمی/الدیات ١٦ (٢٤١٧) (حسن صحیح )
4847Sunan An Nasai

انگلیوں کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔

It was narrated from abu Musa that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "For fingers (the Diyah is ) ten (camels) each.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4843
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٥٦، ٤٥٥٧)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٠)، مسند احمد (٤/٣٩٧، ٣٩٨)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٤٨٤٨، ٤٨٤٩) (صحیح )
4848Sunan An Nasai

انگلیوں کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ عَشْرًا.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انگلیاں برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔

It was narrated from Abu Musa Al-Ashaari that the Prophet of Allah said: "Fingers are the same, (the Diyah is) ten (camel).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4844
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4849Sunan An Nasai

انگلیوں کی دیت سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَلْخِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْأَصَابِعَ سَوَاءٌ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْإِبِلِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: انگلیاں سب برابر برابر ہیں، ہر ایک میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the fingers are the same and (the Diyah is ) ten camels for each.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4845
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٤٧ (صحیح )