سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔
It was narrated from Saeed bin al-Musayyab that: when the letter was found that was with the family of Amr bin Hazm, which they said the Messenger of Allah ﷺ had written to them, they found in it, with regard to fingers, that the Diyah was ten (Camels) for each.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4846
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا: انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "When the Messenger of Allah ﷺ conquered Makkah, he said in his Khutbah: "(The Diyah) for fingers is ten each.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4850
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات ١٨ (٢٦٥٣)، مسند احمد (٢/٢٠٧) (حسن، صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا اور آپ اپنی پیٹھ کعبے سے ٹیکے ہوئے تھے: انگلیاں دیت میں برابر برابر ہیں ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said in his khutbah, while he was leaning with his back against the Kabah: "The fingers are the same.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4851
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کیا تو خطبے میں فرمایا: ہر اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے، دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib that his father told him that Abdullah bin Amr said: "When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) conquered Makkah , he said in his Khutbah: For any wound that exposes the bone, the diyah is five (camels) each.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4852
Notes · وضاحت
١ ؎: بشرطیکہ یہ زخم چہرہ اور سر پر ہو، اگر ان کے علاوہ کسی اور جگہ میں ہے تو اس کا حکم دوسرا ہے، اور وہ یہ ہے کہ قاضی یا پنچ اپنی صوابدید سے جو فیصلہ کریں۔
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا: نبی محمد ﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا: جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کردیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Bakr bin Muhammad bin Amr bin Hazm, from his father from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ wrote a letter to the people of Yemen, included in which were the rules of inheritance, the sunan and the (rules concerning) blood money. He sent it with Arm bin Hazm and it was read to the people of Yemen, Its contents were as follows: "From Muhammad the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to Shurahbil bin Abd Kulal, Nuaim bin Abd Kulal, Al-Harith bin Abd Kulal, Qail dhil-Ruain, Muafir and Hamdan. To precede" - And in this letter it said that whoevewrkills a believer for no just reason is to be killed in return, unless the heirs of the victim agree to pardon him. For killing a person, the Diyah is one hundred camels. For the nose, if it is cut off completely, diyah must be paid, for the tongue, diyah must be paid; for the lips, Diyah must be paid; for the testicles, Diyah must be paid; for the ends, Diyah must be paid; for the backbone, Dynamist be paid; for the eyes, Diyah must be paid; for one leg, half the Diyah must be paid; for a blow to the head that reaches the brain, one-third of thediyah must be paid; for a stab wound that penetrates deeply into the body, one-third of the diyah must be paid; for a blow that breaks the bone, fifteen camels must be given; for every digit of the hands or feet, ten camels must be given; for a tooth five camels must be given; for an injury that exposes the bone, five camels must be given. A man may be killed in return for (killing) a woman and those who deal in gold must pay one thousand dinars. (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4853
Notes · وضاحت
١ ؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٥٠ (ضعیف) (اس کے راوی ” سلیمان “ (جو حقیقت میں ” ابن داود “ نہیں بلکہ ” ابن ارقم “ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں )
عمرو بن حزم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چناچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abi Bakr bin Muhammad bin Amr bin Hazm, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah ﷺ wrote a letter to the people of Yemen included in which were the rules of inheritance, the sunan and the (rules concerning) blood money. He sent it with Amr bin Hazm and it was read to the people of Yemen. This is a copy of it. And he mentioned something similar, except that he said: "And for one eye, half the Diyah must be paid; for one hand, half thediyah must be paid; for one foot, half the diyah must be paid. " (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4854
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٥٠ (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں )
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم ؓ کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے لکھا تھا: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو (المائدہ: ١) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ إن اللہ سريع الحساب اللہ جلد حساب لینے والا ہے (المائدہ: ٤) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا: یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔
It was narrated that Ibn shihab said: "I read the letter of the Messenger of allah which he wrote for Amr bin Hazm when he sent him to govern Najran. The letter was with Abu Bakr bin Hazm. The Messenger of Allah ﷺ wrote this; A statement from Allah and His Messenger; O you who believe! Fulfill (your) obligations, and he wrote the Verses until he reached. Verily, Allah is Swift in reckoning. Then he wrote: this is the book if retaliation: For a soul, one hundred camels, and so on.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4855
زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے لکھی ہوئی تھی: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا: جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔
It was narrate that Az-Zuhri said: "Abu Bakr bin Hazm brought me a letter on a piece of leather (which was ) from the Messenger of Allah ﷺ: This is a statement from Allah and His Messenger: O you who believe! Fulfill (your obligations. And he quoted some Verses from it. Then he said: For a soul, one hundred camels; for an eye, fifty camels; for a hand, fifty; for a foot, fifty; for a blow to the head that reaches the brain, one-third of the Diyah: for a hand, fifty; for a stab wound that penetrates deeply, one-third of the Diyah; for a blow that breaks a bone, fifteen camels; for fingers, ten each; for teeth, five each; for a wound that exposes the bone five. (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4856
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٥٠ (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے )
محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ وہ تحریر جس میں رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم ؓ کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی: جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے اونٹوں کے تہائی ہیں۔ اسی قدر اس زخم میں ہیں جو پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے، ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں، پیر میں پچاس اونٹ ہیں، اور ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ دانت میں پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے پانچ اونٹ ہیں۔
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr bin Muhammad bin Amr bin Hazm that his rather said: "The letter which the Messenger of Allah ﷺ wrote to Amr bin Hazm concerning blood money: For a soul, one hundred camels; for the nose if it is cut off completely, one hundred camels, for a blow to thread that reaches the brain, one third of the Diyah for a soul; for a stab wound that penetrates deeply, likewise; for a hand fifty; for an eye, fifty, for a foot, fifty; for every fingers, Ten camels for a tooth, five; and for a wound that exposes the bone, five.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4857
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے دروازے پر آیا تو دراز میں آنکھ لگا کر جھانکنے لگا، نبی اکرم ﷺ نے جب یہ دیکھا تو لوہا یا لکڑی لے کر اس کی آنکھ پھوڑنے کا ارادہ کیا، جب اس کی نظر پڑی تو اس نے اپنی آنکھ ہٹا لی، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تم اپنی آنکھ یہیں رکھتے تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ١ ؎۔
It was narrated form Anas bin Malik (RA) that a Bedouin came to the door of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and put his eye to the crack. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) saw him and intended to put his eye out with a sword or a stick. When he saw him , he stopped, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to hi: "If you had persisted, I would have put your eye out.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4858
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر کے اندر اس طرح جھانکنے والے کی آنکھ اگر گھر والا پھوڑ دے تو اس پر آنکھ پھوڑنے کی دیت واجب نہیں ہوگی۔ نیز دیکھئیے اگلی حدیث۔
سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک سوراخ سے رسول اللہ ﷺ کے دروازے میں جھانکا، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے اپنا سر کھجا رہے تھے، جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ میں یہ لکڑی گھونپ دیتا، نگاہ ہی کے سبب اجازت کا حکم دیا گیا ہے ۔
It was narrated from Sahl bin Sad As-Saidi that: a man looked through a hole in the door of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), who had with him a kind of comb with which he was scratching his head, When the Messenger of Allah ﷺ saw him he said: "If I had known that you were watching me, I would have stabbed you in the eye with this. This rule of asking permission has been ordained so that one may not look unlawfully (into peoples houses).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4859
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever looks into a house without the permission of the occupants and they put out his eye, he has no right to blood money or retaliation.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4860
ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا ۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا: کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a person were to look at you without permission and you were to throw a stone at him and put out his eye, there would be no blame on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4861
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک مروان کا بیٹا ان کے آگے سے گزر رہا تھا، آپ نے اسے روکا، وہ نہیں لوٹا تو آپ نے اسے مارا، بچہ روتا ہوا نکلا اور مروان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی، مروان نے ابو سعید خدری سے کہا: آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں مارا؟ انہوں نے کہا: میں نے اسے نہیں، بلکہ شیطان کو مارا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو اور کوئی انسان سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے طاقت بھر روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that: he was praying and a son a Marwan wanted to pass in front of him. He tried to stop him but he did not go back, so he hit him. The boy went the boy went out crying and went to Marwan and told him (what had happened). Marwan said to Abu Saeed: "Why did you hit your brothers son?" He said: "I did not hit him, rater I hit the Saitan. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If one of you is praying and someone wants to pass in front of him, let him troy to stop him as much as he can, and if he persists then let him fight him, for he is a devil.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4862
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٤١٨٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٠٠ (٥٠٩)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٧٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨(٥٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨(٧٠٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٩(٩٥٤)، موطا امام مالک/السفر ١٠ (٣٣)، مسند احمد (٣/٣٤)، ٤٣-٤٤، ٤٩، ٦٣ (صحیح )
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں ابن عباس ؓ سے ان دو آیتوں ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے (النساء: ٩٣) والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو ناحق قتل نہیں کرتے (الفرقان: ٦٧) کے متعلق سوال کروں، میں نے اس کے بارے میں ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا، اور دوسری آیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ١ ؎
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "Abdur-Rahman bin Abi Laila told me to ask Ibn Abbas about two Verses: And whoever kills a believe4r intentionally, his recompense is Hell I asked him and he said: Nothing of this has been abrogated.(And I asked him about the Verse): And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person as Allah has forbidden, except by right. He said: This was revealed concerning the people of shirk.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4863
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن عباس ؓ کی اس رائے سے متعلق دیکھیں حاشیہ حدیث رقم ( ٤٠٠٤ ) ۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ میں اس آیت: ومن يقتل مؤمنا متعمدا کے بارے میں اختلاف ہوگیا، میں ابن عباس ؓ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت تو آخر میں اتری ہے، اور یہ کسی (بھی آیت) سے منسوخ نہیں ہوئی۔
It was narrated that Saeed bin Jabair said: "The people of Al-Kufah differed concerning this verse: And whoever kills a believer intentionally. So I went to Ibn Abbas and asked him, and he said: It was revealed among the last of what was revealed, and nothing of it was abrogated after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4864
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: کیا مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں انہیں سورة الفرقان کی یہ آیت والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا: یہ آیت مکی ہے۔ اسے مدینے کی آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم نے منسوخ کردیا۔
It was narrated that Saeed bin Jubair said: "I said to Ibn Abbas . Can a person who killed a believer intentionally repent? He said: No. Irecited the Verse from Al-Furqan to him: And those who invoke not any other ilah (god) along with Allah, nor kill such person a Allah has forbidden, except but right. He said: This Verse was revealed in Makkah and was abrogated by a verse that was revealed in Al-Madinah: And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4865