عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر (زکاۃ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said to Muadh (RA) when he sent him to Yemen: ‘You are going to some of the People of the Book. When you come to them, call them to testify that there is none worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon them five prayers every day and night. If they obey you in that, then tell them that Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined on them a charity (Zakah) to be taken from their rich and given to their poor. If they obey you in that, then beware of the supplication of the oppressed person.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2435
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح کہ زکاۃ کی وصولی میں ظلم و زیادتی نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تقسیم میں، مثلاً کسی سے اس کا بہت اچھا مال لے لو یا کسی کو ضرورت سے زیادہ دے دو اور کسی کو کچھ نہ دو کہ وہ تم سے دکھی ہو کر تمہارے حق میں بد دعا کرے۔
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام کے ساتھ ، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہوگیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو ۔
Bahz bin Hakim narrated from his father, that his grand father said: “I said: ‘Prophet of Allah ﷺ, I did not come to you until I had sworn more than this many times” - the number of fingers on his hands - “that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger teach me. I ask you by the Revelation of Allah, with what has your Lord sent you to us’?’ He said: ‘With Islam.’ I said: ‘What are the signs of Islam?’ He said: ‘To say, I submit my face to Allah and give up Shirk, and to establish the ‘Salah and to pay the Zakah.” (Hasan)
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2436
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٨)، مسند احمد ٥/٤، ٥، ویأتي عند المؤلف، بأرقام: ٢٥٦٧، ٢٥٦٩، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود ٢ (٢٥٣٦) (حسن الإسناد )
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو (ثواب) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت (دلیل) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی ۔
It was narrated from ‘Abdur Rahman bin Ghunim that Abu Malik Al-Ash’ari told him that the Messenger of Allah ﷺ said: "Isbagh Al-Wudu is half of faith; Alhamdu lillah (praise be to Allah) fills the balance; the Tasbih and the Takbir fill the heavens and Earth; Salah is light; the Zakah is a sign (of sincerity); patience is an illuminating torch; and the Qur’an is proof, either for you or against you.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2437
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥ (٢٨٠)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣)، مسند احمد ٥/٣٤٢، ٣٤٣، سنن الدارمی/الطہارة ٢ (٦٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة ١ (٢٢٣)، سنن الترمذی/الدعوات ٨٦ (٣٥١٧) (صحیح )
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ادا کرے، اور ساتوں کبائر ١ ؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔
Suhaib narrated that he heard Abu Hurairah (RA) and Abu Saeed say: “The Messenger of Allah ﷺ addressed us one day and said: ‘By the One in Whose hand is my soul’ - three times - then he lowered his head, and each of us lowered his head, weeping, and we did not know what he had sworn that oath about. Then he raised his head with joy on his face, and that was dearer to us than red camels. Then he said: ‘There is no one who offers the five (daily) prayers, fasts Ramadan, pays Zakah and avoid the seven major sins, but the gates of Paradise will be opened to him, and it will be said to him: Enter in peace.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2438
Notes · وضاحت
١ ؎: ساتوں کبائر یہ ہیں:( ١ ) شراب پینا ( ٢ ) جادو کرنا ( ٣ ) ناحق خون بہانا ( ٤ ) سود کھانا ( ٥ ) یتیم کا مال کھانا ( ٦ ) جہاد سے بھاگنا ( ٧ ) پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٠٧٩، ١٣٥٠٩)، مسند احمد ٣/٧٩ (ضعیف) (اس کے راوی صہیب عتواری لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہوگا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ (و زکاۃ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ (زکاۃ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہوگا وہ باب الریان (ریان کے دروازہ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے ۔
Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever spends on a pair of things in the cause of Allah, he will be called from the gates of Paradise: slave of Allah, this is good for you. Paradise has (several) gates. Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of prayer. Whoever is one of the people of Jihad, will be called from the gate of Jihad. Whoever is one of the people of charity will be called from the gate of charity. And whoever is one of the people of fasting will be called from the gate of Ar-Rayyan.” Abu Bakr (RA) said: “Is there any need for anyone to be called from all of these gates? Will anyone be called from all of them, `O Messenger of Allah?” He said: “Yes, and I hope that you will be among them.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2439
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم ! میں نے (اپنے جی میں) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہوگی تو وہ (اونٹ یا بیل) (دنیا میں) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “I came to the Prophet ﷺ while he was sitting in the shade of the Ka’bah. When he saw me coming he said: ‘They are the losers, by the Lord of the Ka’bah!’ I said: ‘What’s happening? Perhaps something has been revealed concerning me.’ I said: ‘Who are they, may my father and mother be ransomed for you?’ He said: ‘Those who have a lot of wealth, except one who does like this, and like this, and like this,’ (motioning) in front of him, and to his right, and to his left. Then he said: ‘By the One in Whose hand is my soul, no man dies leaving camels, or cattle, or sheep on which he did not pay the Zakah, but they will come on the Day of Resurrection as big and fat as they ever were, trampling him with their hooves and goring him with their horns. Every time the last of them runs over him, the first of them will come back, until judgement is passed among the People.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2440
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے (یعنی زکاۃ نہ دے) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنادیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ (سانپ) اس کے ساتھ ہوگا ، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہوگا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنادیا جائے گا (آل عمران: ١٨ ) ۔
It was narrated that Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no man who has wealth and does not pay the dues of his wealth, but a bald- headed Shuja’a will be made to encircle his neck, and he will run away from it but it will follow him.’ Then he recited the confirmation of that from the Book of Allah: ‘And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth)’ think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah). Nay, it will be worse for them; the things which they covetously withheld, shall be tied to their necks like a collar on the Day of Resurrection.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2441
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر آل عمران (٣٠١٢)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢ (١٧٨٤)، مسند احمد ١/٣٧٧ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے (لوگوں نے) عرض کیا: اللہ کے رسول! نجدتها ورسلها سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ١ ؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کردیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ (دنیا میں) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہوگی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔
Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Any man who has camels and does not pay what is due on them in its Najdah or its Risl;’ they said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what does its Najdah and its Risl mean?’ He said: In times of hardship or in times of ease; they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their hooves. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people, and he realizes his end. Any man who has cattle and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He will be laid face down in a flat arena for them, and they will trample him with their cloven hooves. When the last of them has passed the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until judgment is passed among the people and he realizes his end. Any man who has sheep and does not pay what is due on them in drought or in plenty, they will come on the Day of Resurrection as energetic, fat and lively as they ever were. He Will be laid face down in a flat arena for them and they will trample him with their cloven hooves, and each horned one will gore him with its horn, and there will be none among them with twisted or broken horns. When the last of them has passed, the first of them will return, on a day that is as long as fifty thousand years, until Judgment is passed among the people, and he realizes his end.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2442
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ نہ تنگی و پریشانی کے زمانے میں زکاۃ دے کہ دینے سے اونٹ کم ہوجائیں گے، اور محتاجی و تنگی مزید بڑھ جائے گی، اور نہ خوش حالی و فارغ البالی کے دنوں میں زکاۃ دے یہ سوچ کر کہ ایسے موٹے تازے جانور کی زکاۃ کون دے؟
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی اور آپ کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہوگئے تو عمر ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیا، اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے اسلام کے حق ١ ؎ کے مجھے سے محفوظ کرلیا۔ اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے ٢ ؎ اس پر ابوبکر ؓ نے کہا: میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا (یعنی نماز تو پڑھے اور زکاۃ دینے سے منع کرے) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے، تو میں ان سے ان کے روکنے پر لڑوں گا، عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر ؓ کو قتال کے سلسلے میں شرح صدر عطا کردیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہ (یعنی ابوبکر ؓ کی رائے) حق ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ died, and Abu Bakr (RA) became the Khalifah after him, and some of the ‘Arabs reverted to disbelief. ‘Umar said to Abu Bakr (RA): ‘How can you fight the people when the Messenger of Allah ﷺ said: “I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship but Allah). Whoever says La ilaha illallah, his wealth and his life are safe from me, unless he deserves a legal punishment justly, and his reckoning will be with Allah?” Abu Bakr (RA) said: ‘I will fight anyone who separates prayer and Zakah; Zakah is the compulsory right to be taken from wealth. By Allah, if they withhold from me a rope that they used to give to the Messenger of Allah ﷺ I will fight them for withholding it.’ ‘Umar (RA), said: ‘By Allah, it was as if I saw that Allah has opened the heart of Abu Bakr (RA) for fighting, and I knew that it was the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2443
Notes · وضاحت
١ ؎: سوائے اسلام کے حق کے کا مطلب یہ ہے کہ اگر قبول اسلام کے بعد کسی نے ایسا جرم کیا جو قابل حد ہے تو وہ حد اس پر ضرور نافذ ہوگی، مثلاً چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، زنا کیا تو غیر شادی شدہ کو سو کوڑوں کی سزا یا رجم کی سزا، کسی کو ناحق قتل کیا تو قصاص میں قتل کی، سزا دی جائے گی۔ ٢ ؎: اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے کا مطلب ہے اگر وہ قبول اسلام میں مخلص نہیں ہوں گے بلکہ منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کریں گے، یا قابل جرم کام کا ارتکاب کریں گے لیکن اسلامی عدالت اور افسران مجاز کے علم میں نہیں آسکا، تو ان کا حساب اللہ کے سپرد ہوگا یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کا فیصلہ فرمائے گا۔
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: چرائے جانے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ١ ؎ ہے، اونٹوں کو (زکاۃ سے بچنے کے لیے) ان کے حساب (ریوڑ) سے جدا نہ کیا جائے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا، اور جو شخص زکاۃ دینے سے انکار کرے گا تو ہم زکاۃ بھی لیں گے اور بطور سزا اس کے آدھے اونٹ بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے۔ اس میں سے محمد ﷺ کے خاندان کے لیے کوئی چیز جائز نہیں ہے ۔
Bahz bin Hakim said: “My father told, me that my grandfather said: ‘I heard the Prophet ﷺ say: With regard to grazing camels, for every forty a Bint Laban (a two- year old female camel). No differentiation is to be made between camels when calculating them. Whoever gives it seeking reward, he will be rewarded for it. Whoever refuses, we will take it, and half of his camels, as one of the rights of our Lord. And it is not permissible for the family of Muhammad to have any of them.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2444
Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹ کا وہ بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کرچکا ہو، اور تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٧٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣٨٤)، مسند احمد ٥/٢، ٤، سنن الدارمی/الزکاة ٣٦ (١٧١٩)، ویأتی عند المؤلف فی باب ٧ (برقم ٢٤٥١) (حسن )
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “No Sadaqah is due on less than five Awsuq, and no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awaq.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2445
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور پانچ وسق تقریباً ساڑھے سات کو ئنٹل بنتا ہے۔ ٢ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، اور دو سو درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے ٨٥ گرام بنتا ہے۔
ابوسعید خدری ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “No Sadaqah is due on less than five Dhawd (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awaq, and no Sadaqah is due on less than five Awsuq.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2446
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ نے انہیں (عاملین صدقہ کو) یہ لکھا کہ یہ صدقہ کے وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں، جن کا اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے: پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور جب پچیس اونٹ ہوجائیں تو اس میں پینتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ (نر) ہے، اور جب چھتیس اونٹ ہوجائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھیالیس اونٹ ہوجائیں تو چھیالیس سے ساٹھ اونٹ تک میں تین برس کی اونٹنی (یعنی جو ان اونٹنی جو نر کو دانے کے لائق ہوگئی ہو) ہے، اور جب اکسٹھ اونٹ ہوجائیں تو اکسٹھ سے پچہتر اونٹوں تک میں چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہوجائیں تو چھہتر سے نوے اونٹوں تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہوجائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کے کو دانے کے قابل ہوگئی ہوں۔ اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوگئی ہوں تو ہر چالیس اونٹ میں دو برس کی ایک اونٹنی۔ اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے، اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو (یعنی زکاۃ کے لائق اونٹ نہ ہو، اس سے بڑا یا چھوٹا ہو) مثلاً جس شخص پر چار برس کی اونٹنی لازم ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو، تین برس کی اونٹنی ہو۔ تو تین برس کی اونٹنی ہی اس سے قبول کرلی جائے گی اور وہ ساتھ میں دو بکریاں بھی دے۔ اگر اسے بکریاں دینے میں آسانی و سہولت ہو، اور اگر دو بکریاں نہ دے سکتا ہو تو بیس درہم دے۔ اور جس شخص کو تین برس کی اونٹنی دینی پڑ رہی ہو، اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی نہ ہو، چار برس کی اونٹنی ہو تو چار برس کی اونٹنی ہی قبول کرلی جائے گی۔ اور عامل صدقہ (یعنی زکاۃ وصول کرنے والا) اسے بیس درہم واپس کرے گا۔ یا اسے بکریاں دینے میں آسانی ہو تو دو بکریاں دے۔ اور جس کو تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کرلی جائے، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں اور دے، اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کو دو برس کی اونٹنی دینی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کرلی جائے، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو سال کی اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو، اور دو سال کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو ایک سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کرلی جائے، اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کے اوپر ایک برس کی اونٹنی دینی لازم ہو، اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا (نر) اونٹ ہو، تو دو برس کا اونٹ قبول کرلیا جائے۔ (اس کے ساتھ کچھ مزید لینا دینا نہیں ہوگا) اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرائی جانے والی بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک سو بیس بکریوں تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر ایک سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں کوئی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا، اور نہ بکریوں کا نر جانور لیا جائے گا مگر یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کوئی ضرورت و مصلحت سے مجھے تو لے سکتا ہے، زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مالوں کو یکجا نہیں کیا جاسکتا ١ ؎ اور نہ یکجا مال کو جدا جدا ٢ ؎ اور جب آدمی کی چرائی جانے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تودے سکتا ہے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے، اور اگر ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Abu Bakr (RA) wrote to them: “This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah ﷺ enjoined upon the Muslims, as Allah, the Mighty and Sublime, commanded the Messenger of Allah ﷺ Whoever is asked for it in the manner explained (in the letter of Abu Bakr), let him give it, and whoever is asked for more than that, let him not give it. When there are less than twenty- five camels, for every five camels, one sheep (is to be given). If the number reaches twenty five, then a Bint Makhad (a one-year old she- camel) is due, up to thirty-five. If a Bint Makhad not available, then a Bin Laban (a two-year old male camel). If the number reaches thirty-six, then a Bint Laban (a two- year-old she-camel) is due, up to forty-five. If the number reaches forty-six, then a hiqqah (a three- year-old she-camel) that has been bred from a stallion camel is due, up to sixty. If the number reaches sixty-one, then a Jadhah (a four- year-old she-camel) is due, up to seventy-five. If the number reaches seventy-six, then two Bint Labdns (two-year-old she-camels) are due, up to ninety, lithe number reaches ninety-one, then two -hiqqahs (three-year-old she-camels) that have been bred from stallion camels are due, up to one hundred and twenty. If there are more than one hundred and twenty, then for every forty a Bint Laban, and for every fifty a hiqqah. In the event that a person does not have a camel of the age specified according to the Sadaqah regulations, then if a person owes a Jadh’ah as Sadaqah but he does not have a Jadh’ah, then a hiqqah should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If he owes a Hiqqah as Sadaqah and he does not have a Hiqqah but he has a Jadh’ah, then it should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams, or two sheep if they are available. If a person owes a -hiqqah as Sadaqah and he does not have one, but he has a Bint Laban, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Labun as ‘Sadaqah but he only has a Hiqqah, then it should be accepted from him and the Zakah collector should give him twenty Dithams, or two sheep. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Bint Makhad, then it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Makhad as Sadaqah but he only has a Bin Laban, a male; it should be accepted from him, and he does not have to give anything else along with it. If a person has only four camels he does not have to give anything unless their owner wants to. With regard to the Sadaqah on grazing sheep, if there are forty, then one sheep is due upon them, up to one hundred and twenty. If there is one more, then two sheep are due, up to two hundred. If there is one more, then three sheep are due, up to three hundred. If there are more than that, then for every hundred, one sheep is due. No feeble, defective or male sheep should be taken as Sadaqah unless the Zakah collector wishes. Do not combine separate flocks or separate combined flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in a combined flock) should pay the Sadaqah in proportion to his shares. If a man’s flock is one less than forty sheep, then nothing is due from them, unless their owner wishes. With regard to silver, one-quarter of one-tenth, and if there are only one hundred and ninety Dirhams, no Zakah is due unless the owner wishes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2447
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم جانوروں کے مالکوں اور زکاۃ کے محصلین دونوں کے لیے ہے، اس کی تفسیر یہ ہے: مثلاً تین آدمیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، تو اس صورت میں ہر ایک پر ایک ایک بکری واجب ہے، جب زکاۃ لینے والا آیا تو ان تینوں نے اپنی اپنی بکریوں کو یکجا کردیا کہ ایک ہی بکری دینی پڑے، ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر تین متفرق لوگوں کے پاس انتالیس انتالیس بکریاں ہوں تو ان پر الگ الگ کوئی زکاۃ نہیں، تو عامل ان کو زکاۃ لینے کے لیے یکجا نہ کر دے کہ ایک بکری زکاۃ میں لے لے۔ ٢ ؎: اس کی تفسیر یہ ہے کہ مثلاً دو ساجھی دار ہیں ہر ایک کی ایک سو ایک، ایک سو ایک، بکریاں ہیں، تو کل ملا کر دو سو دو بکریاں ہوئیں، ان میں تین بکریاں لازم آتی ہیں، جب زکاۃ لینے والا آیا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بکریاں الگ الگ کرلیں تاکہ ایک ہی ایک بکری لازم آئے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، نیز اسی طرح اگر تین ساجھے داروں کے پاس ساجھا میں ایک سو بیس کی بکریاں ہوں تو اس مجموعہ پر صرف ایک بکری واجب ہوگی، تو عامل زکاۃ لینے کے لیے ان بکریوں کو تین الگ الگ حصوں میں نہ کر دے کہ تین بکریاں لے لے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہوگا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ (دنیا میں) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہوگا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ (دنیا میں) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ١ ؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (بچائیے مجھ کو اس عذاب سے) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں تو تجھے بتاچکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (مجھے اس عذاب سے بچائیے) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتاچکا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا خزانہ ٢ ؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کرلے گا ۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘(On the Day of Resurrection) camels will come to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their hooves. Sheep will come to their owner in the best state of health that they ever had (in this world) and if he did not pay what was due on them, they will trample him with their cloven hooves and gore him with their horns. And among their rights are that they should be milked with water in front of them. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a groaning camel on his neck, saying, Muhammad, and I will say: I cannot do anything for you, I conveyed the message. I do not want any one of you to come on the Day of Resurrection with a bleating sheep on his neck, saying, “Muhammad, and I will say: “I cannot do anything for you, I conveyed the message.” And on the Day of Resurrection the hoarded treasure of one of you will be a bald-headed Shuja’a from which its owner will flee, but it will chase him (saying), I am your hoarded treasure, and it will keep (chasing him) until he gives it his finger to swallow.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2448
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بکریوں کو گھاٹوں پر دوہا جائے تاکہ وہاں موجود مساکین کو بھی اس میں سے کچھ دیا جائے، نہ کہ بند گھروں میں مساکین سے بچنے کے لیے دوہا جائے۔ ٢ ؎: جس کی وہ زکاۃ نہیں ادا کرتا تھا۔
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ہر چرنے والے چالیس اونٹوں میں دو برس کی اونٹنی ہے۔ اونٹ اپنے حساب (ریوڑ) سے جدا نہ کئے جائیں، جو ثواب کی امید رکھ کر انہیں دے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو دینے سے انکار کرے گا تو ہم اس سے اسے لے کر رہیں گے، مزید اس کے آدھے اونٹ اور لے لیں گے، یہ ہمارے رب کے تاکیدی حکموں میں سے ایک حکم ہے، محمد کے آل کے لیے اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘With regard to grazing camels, for every forty a Bint Laban. No differentiation is to be made between camels when calculating them. Whoever gives it seeking reward will be rewarded for it. Whoever refuses, we will take it and half of his camels, as one of the rights of our Lord. And it is not permissible for the family of Muhammad ﷺ to have any of them.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2449
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار (جزیہ) لیں یا اتنی قیمت کی یمنی چادریں، اور ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے اور بیل میں دو برس کی ایک گائے۔
It was narrated from Muadh that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen, and he commanded him to take a Dinar, or its equivalent in Ma‘afir, from each person who had reached the age of puberty. And with regard to cattle, from every thirty a male or female Tabih (two-year-old), and from every forty a Musinnah (three-year-old). (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2450
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن بھیجا، تو مجھے حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں دو برس کی ایک گائے، اور ہر تیس میں ایک سال کا ایک بچھوا لوں۔ اور ہر بالغ سے (بطور جزیہ) ایک دینار لوں، یا ایک دینار کے مساوی قیمت کی یمنی چادر۔
Muadh said: “The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen, and he commanded me to take from every forty cows, a cow in its third year, and from every thirty, a Tabih’ (two-year-old), and from every person who had reached the age of puberty a Dinar or is equivalent in Ma ‘afir.” (Da’if)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2451
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں دو سال کی بچھیا۔ اور ہر بالغ سے (جزیہ میں) ایک دینار یا ایک دینار کی قیمت کی یمنی چادر۔
It was narrated that Muadh said that when the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen, he commanded him to take from every thirty, cattle a male or female Tabi’h (two-year-old), and from every forty, a Musinnah (three-year old), and from every person who had reached the age of puberty a Dinar or is equivalent in Ma’afir. (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2452
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت مجھے یمن بھیجا تو حکم دیا کہ میں گائے، بیل سے جب تک وہ تیس کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں کچھ نہ لوں، اور جب تیس ہوجائیں تو ان میں گائے کا ایک سال کا بچہ چاہے نر ہو یا مادہ یہاں تک کہ وہ چالیس کو پہنچ جائیں، اور جب چالیس ہوجائیں تو ان میں دو سال کی ایک بچھیا ہے۔
It was narrated that Muadh bin Jabal said: “When he sent me to Yemen, the Messenger of Allah ﷺ commanded me not to take any cattle until the number had reached thirty. If the number reached thirty, then a Jadh’ah calf in its second year, either male or female, was due on them, until the number reached forty. If the number reached forty, then a Musinnah was due on them.” (Da’if)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2453
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی اونٹ، گائے اور بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرے گا، (یعنی زکاۃ نہیں ادا کرے گا) تو اسے قیامت کے دن ایک کشادہ ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا، کھر والے جانور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، اور سینگ والے اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی ایسا نہ ہوگا جس کے سینگ ہی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہوگی ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان پر نر کودوانا، ان کے ڈول کو منگنی دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ اور سواری لادنا، اور جو صاحب مال اپنے مال کا حق ادا نہ کرے گا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے (زہریلے) سانپ کی شکل میں اسے دکھائی پڑے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، اور اس سے کہے گا: یہ تو تیرا وہ خزانہ ہے جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو (لاچار ہو کر) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا، اور وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no owner of camels or cattle or sheep who does not give what is due on them, but he will be made to stand for them on the Day of Resurrection in a flat arena, and those with hooves will trample him with their hooves, and those with horns will gore him with their horns. And on that day there will be none that are horniess or have broken horns.’ We said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what is due on them?’ He said: ‘Lending males for breeding, lending their buckets, and giving them to people to ride in the cause of Allah. And there is no owner of wealth who does not give what is due on it but a bald- headed Shuja’a will appear to him on the Day of Resurrection; its owner will flee from it and it will chase him and say to him: This is your treasure which you used to hoard. When he realizes that he cannot escape it he will put his hand in its mouth and it will start to bite it as a stallion bites.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2454