انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ نے انہیں یہ لکھ کردیا کہ صدقہ (زکاۃ) کے یہ وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ اسے دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ اسے نہ دے۔ پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے۔ اور جب پچیس اونٹ ہوجائیں تو اس میں پنتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ (نر) ہے۔ اور جب چھتیس اونٹ ہوجائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے۔ اور جب چھیالیس اونٹ ہوجائیں تو اس میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے، جو نر کو دانے کے لائق ہوگئی ہو، اور جب اکسٹھ اونٹ ہوجائیں تو اس میں پچہتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہوجائیں تو اس میں نوے تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہوجائیں تو ایک سو بیس تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کو دانے کے قابل ہوگئی ہوں، اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہوگئی ہوں تو ہر چالیس میں دو برس کی ایک اونٹنی ہے، اور ہر پچاس میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے۔ اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ١ ؎ (مثلاً ) جس شخص پر چار برس کی اونٹنی کی زکاۃ ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو اس سے تین برس کی اونٹنی ہی قبول کرلی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ میں دو بکریاں بھی دیدے۔ اگر وہ اسے میسر ہوں ورنہ بیس درہم دے۔ اور جسے زکاۃ میں تین برس کی اونٹنی دینی ہو۔ اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کرلی جائے گی، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم دے یا دو بکریاں واپس دیدے، اور جسے تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور یہ اس کے پاس نہ ہو اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کرلی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں دے اگر میسر ہوں یا بیس درہم دے، اور جسے زکاۃ میں دو سال کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس صرف تین سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کرلی جائے گی اور عامل زکاۃ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو برس کی اونٹنی دینی ہو، اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی نہ ہو صرف ایک برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کرلی جائے اور دو بکریاں دے اگر بکریاں اسے میسر ہوں بیس درہم دے۔ اور جسے ایک برس کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا (نر) کا اونٹ ہو، تو وہی اس سے قبول کرلیا جائے۔ اس کے ساتھ کوئی اور چیز لی نہ جائے، اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں ہے الا یہ کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرنے والی بکریوں میں جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں، اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں بوڑھے کانے اور عیب دار جانور نہیں لیے جائیں گے، اور نہ نر جانور لیا جائے گا الا یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کسی ضرورت و مصلحت سے لینا چاہے۔ زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مال یکجا نہ کئے جائیں، اور نہ یکجا مال کو جدا جدا کیا جائے۔ اور جب آدمی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے، ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے اور اگر مال ایک سو نوے درہم ہی ہو تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that Abu Bakr (RA), wrote to him: “This is the obligation of Sadaqah which the Messenger of Allah ﷺ enjoined upon the Muslims, as Allah commanded the Messenger of Allah ﷺ. Whoever is asked for it in the manner explained (in the letter of Abu Bakr), let him give it, and whoever is asked for more than that, let him not give it. When there are less than twenty-five camels, for every five camels, one sheep is to be given). If the number reaches twenty-five, then a Bint Makhad (a one-year-old-she-camel) is due, up to thirty-five. If a Bint Makhad not available, then a Bin Labun (a one-year-old male camel). If the number reaches thirty six then a Bint Labun (a two-year-old she- camel) is due, up to forty five. If the number reaches forty-six, then a Hiqqah (a three year old she-camel) that was bred by a stallion camel is due, up to sixty. If the number reaches sixty-one, then a Jadh’ah (a four-year-old she-camel) is due, up to seventy-five. If the number reaches seventy-six then two Bint Labun are due, up to ninety. If the number reaches ninety-one, then two Hiqqahs that have been bred by stallion camels are due, up to one hundred and twenty. If there are more than one hundred and twenty, then for every forty a Bint Labun and for every fifty a Hiqqah. In the event that a person does not have a camel of the age specified according to the Sadaqah regulations then if a person owes a Jadh’ah as Sadaqah and he does not have a Jadh’ah but he has a Hiqqah, then the Hiqqah should be accepted from him and hee should give two sheep along with it if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Hiqqah as Sadaqah but he only has a Jadh’ah, then it should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams or two sheep. If a person owes a Hiqqah as Sadaqah and does not have one but he has a Bint Labun, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it, if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah but he only has a Hiqqah, it should be accepted from him, and the Zakah collector should give him twenty Dirhams or two sheep. If a person owes a Bint Labun as Sadaqah and he does not have a Bint Labun, but he has a Bint Makhad, it should be accepted from him, and he should give two sheep along with it, if they are available, or twenty Dirhams. If a person owes a Bint Makhad as Sadaqah but he only has a Bin Labun, a male, it should be accepted from him and nothing else (need be given) with it. If a person has only four camels, then nothing is due on them, unless their owner wishes (to give something). With regard to the Sadaqah of grazing sheep, if there are forty then one sheep is due, up to one hundred and twenty. If there is one more than that, then two sheep are due, up to two hundred. If there is one more than that, then three sheep are due, up to three hundred. If there is one more than that, then for every hundred one sheep is due, and no decrepit or defective sheep or male sheep should be taken as Sadaqah unless the Zakah collector wishes. Po not combine separate flocks or separate combined flocks for fear of Sadaqah. Each partner (who has a share in a combined flock) should pay Sadaqah in proportion to his shares. If a man’s flock is one less than forty sheep, then nothing is due from them unless their owner wishes. With regard to silver, one-quarter of one-tenth, and if there are only one hundred and ninety, nothing is due unless the owner wishes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2455
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no owner of camels, cattle or sheep who does not give Zakah on them, but they will come on the Day of Resurrection as big and fat as they ever were, and will gore him with their horns and trample him with their hooves. Every time the last of them has run over him the first of them will come back to him, until judgment is passed among the people.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2456
مال دولت کو ملانا اور ملے ہوئے مال کو الگ کرنا ممنوع ہے
أخبرنا هناد بن السري عن هشيم عن هلال بن خباب عن ميسرة أبي صالح عن سويد بن غفلة قال: أتانا مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فأتيته فجلست إليه فسمعته يقول إن في عهدي أن لا نأخذ راضع لبن ولا نجمع بين متفرق ولا نفرق بين مجتمع فأتاه رجل بناقة كوماء فقال خذها فأبى.
سوید بن غفلہ (رح) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا محصل (زکاۃ) ہمارے پاس آیا، میں آ کر اس کے پاس بیٹھا تو میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میرے عہد و قرار میں یہ بات شامل ہے کہ ہم دودھ پلانے والے جانور نہ لیں۔ اور نہ الگ الگ مال کو یکجا کریں، اور نہ یکجا مال کو الگ الگ کریں۔ پھر ان کے پاس ایک آدمی اونچی کوہان کی ایک اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: اسے لے لو، تو اس نے انکار کیا ١ ؎۔
It was narrated that Suwaid bin Ghafalah said: “The Zakah collector of the Prophet ﷺ came to us, and I went to him, sat with him, and heard him say: In my contract it says that we should not take any suckling young, nor combine what is separate, nor separate what is combined.’ A man brought a she-camel with a big hump to him and said: ‘Take it,’ but he refused.” (Da’if)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2457
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ محصل زکاۃ کو بہترین مال لینے سے منع کیا گیا ہے، اسے درمیانی مال میں سے لینا چاہیئے۔
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، وہ ایک شخص کے پاس آیا، اس نے اسے اونٹ کا ایک دبلا بچہ دیا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے محصل زکاۃ (صدقہ وصول کرنے والے) کو بھیجا، فلاں شخص نے اسے ایک دبلا کمزور، دودھ چھوڑا ہوا بچہ دیا۔ اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ دے ، یہ بات اس آدمی کو معلوم ہوئی تو وہ ایک اچھی اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: میں اللہ عزوجل سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت فرما ۔
It was narrated from Wa’il bin Hujr that the Prophet ﷺ sent a collector and he came to a man who brought him a slim, recently- weaned camel. The Prophet ﷺ said: “We sent the Zakah collector of Allah and His Messenger, and so-and-so gave him a slim, recently- weaned camel. O Allah, do not bless him nor his camels!” News of that reached the man, so he came with a beautiful she-camel and said: “I repent to Allah and to His Prophet ﷺ. “ The Prophet ﷺ said: “Allah, bless him and his camels!” (Da‘if)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2458
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی قوم اپنا صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! فلاں کے آل (اولاد) پر رحمت بھیج (چنانچہ) جب میرے والد اپنا صدقہ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت بھیج ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Abi Awfa said: “When people brought their Zakah to him, the Messenger of Allah ﷺ would say: Allah, send salah upon the family of so-and-so.’ My father brought his Sadaqah to him and he said: Allah, send salah upon the family of Abu Awfa.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2459
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو ، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو ، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو ۔ جریر ؓ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی اسی وقت سے کوئی محصل زکاۃ میرے پاس سے راضی ہوئے بغیر نہیں گیا۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Hilal said: “Jarir said: ‘Some Bedouin people came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah, some of your Zakah collectors come to us and they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. They said: Even if they are unfair? He said: Keep your Zakah collectors happy. Then they said: Even if they are unfair. He said: Keep your Zakah collectors happy. Jarir said: ‘No Zakah collector left me, since I heard this from the Messenger of Allah ﷺ but he was pleased with me.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2460
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو ۔
It was narrated that Ash Shabbi said: “Jarir said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: When the Zakah collector comes to you, let him leave happy with you.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2461
مسلم بن ثفنہ کہتے ہیں کہ ابن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کی عرافت (نگرانی) پر مقرر کیا، اور انہیں اس بات کا حکم بھی دیا کہ وہ ان سے زکاۃ وصول کر کے لائیں۔ تو میرے والد نے مجھے ان کے کچھ لوگوں کے پاس بھیجا کہ میں ان سے زکاۃ لے کر آ جاؤں۔ تو میں (گھر سے) نکلا یہاں تک کہ ایک بوڑھے بزرگ کے پاس پہنچا انہیں سعر کہا جاتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے آپ کے پاس آپ کی بکریوں کی زکاۃ لانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس طرح کی زکاۃ لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چنتے اور چھانٹتے ہیں یہاں تک کہ ہم بکریوں کے تھنوں کو ناپتے و ٹٹولتے ہیں (یعنی عمدہ مال ڈھونڈ کرلیتے ہیں) ۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں انہیں گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، میرے پاس ایک اونٹ پر سوار دو شخص آئے، اور انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے فرستادہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا: میرے اوپر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: ایک بکری، میں نے دودھ اور چربی سے بھری ایک ایک موٹی تازی بکری کا قصد کیا جس کی جگہ مجھے معلوم تھی۔ میں اسے (ریوڑ میں سے) نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: شافع ہے (شافع گابھن بکری کو کہتے ہیں) اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گابھن جانور لینے سے روکا ہے۔ پھر میں نے ایک اور بکری لا کر پیش کرنے کا ارادہ کیا جو اس سے کمتر تھی جس نے ابھی کوئی بچہ نہیں جنا تھا لیکن حمل کے قابل ہوگئی تھی۔ میں نے اسے (گلّے سے) نکال کر ان دونوں کو پیش کیا، انہوں نے کہا: ہاں یہ ہمیں قبول ہے۔ پھر ہم نے اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لاد لیا، پھر لے کر چلے گئے۔
It was narrated that Muslim bin Thafinah said: “lbn ‘Alqamah appointed my father to be in charge of his people, and he commanded him to collect their Sadaqah. My father sent me to a group of them to bring their Sadaqah to him. I set out and came to an old man who was called Sa’r. I said: ‘My father has sent me to collect the Sadaqah of your sheep.’ He said: ‘son of my brother, how will you decode what you want to take?’ I said: ‘We choose, and we even measure the sheep’s udders.’ He said: ‘son of my brother, I tell you that I was in one of these mountain passes at the time of the Messenger of Allah ﷺ with some sheep of mine. Two men came on a camel and said: We are the messengers of the Messenger of Allah ﷺ, we come to take the Sadaqah of your sheep. I said: What do I have to give? They said: A sheep. So I went to a sheep that I knew was filled with milk and was fat, and brought it out to them. He said: This is a Shafi’ - a sheep that has a child or is pregnant - and the Messenger of Allah ﷺ forbade us to take a Shafi’. So I went to a Mu’tashe-goat a Mu’taf is one that has not given birth before, but has reached the age where it could produce young - and brought it out to them. They said: We will take it. So I lifted it up to them, and they took it with them on their camel and left.” (Da’if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2462
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٩)، مسند احمد (٣/٤١٤، ٤١٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” مسلم بن ثفنہ، یا شعبہ “ لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کا حکم کیا۔ تو آپ سے کہا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید، اور عباس بن عبدالمطلب ؓ نے (زکاۃ) نہیں دی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابن جمیل زکاۃ کا انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنادیا۔ اور رہے خالد بن ولید تو تم لوگ خالد پر زیادتی کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور اسباب اللہ کی راہ میں وقف کردی ہیں، اور رہے رسول اللہ ﷺ کے چچا عباس بن عبدالمطلب، تو یہ زکاۃ تو ان پر ہے ہی۔ مزید اتنا اور بھی دیں گے ١ ؎۔
Abu Hurairah said: “Umar said: ‘The Messenger of Allah ﷺ enjoined Sadaqah and it was said that Ibn Jamil, Khalid bin Al-Walid and Abbas bin Abdul-Muttalibhad withheld some. The Messenger of Allah ﷺ said: What is the matter with Ibn Jamil? Was he not poor then Allah made him rich? As for Khalid bin Al-Walid, you are being unfair to Khalid, for he is saving his shields and weapons for the sake of Allah. As for Al-’Abbas bin ‘Abdul-Muttalib, the paternal uncle of the Messenger of Allah ﷺ it is an obligatory charity for him and he has to pay as much again.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2464
Notes · وضاحت
١ ؎: مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں فَھِیَ عَلَیَّ اس کا مفہوم یہ ہے کہ رہے عباس رضی الله عنہ تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی کے مثل اور، یعنی میں ان سے دو سال کی زکاۃ پہلے ہی لے چکا ہوں اس لیے اس کی ادائیگی میں کروں گا۔
عبداللہ بن ہلال ثقفی (رح) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: (لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہوگئے ہیں کہ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کردیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Hilal Ath-Thaqafi said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘I feared that I might be killed after you are gone for the sake of a goat or sheep of the Sadaqah.’ He said: ‘Were it not that it will be given to the poor Muhajirin I would not have taken it.” (Da’if)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2466
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٧١) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، عبداللہ بن ہلال ثقفی تابعی ہیں )
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘No Sadaqah is due on anything less than five Awaq, no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head of camel), and no Sadaqah is due on less than five Awsuq.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2473
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم ہوا، جو موجودہ وزن کے حساب سے پانچ سو پنچانوے گرام بنتا ہے۔ ٢ ؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق تین سو صاع کے برابر ہوا جو موجودہ وزن کے حساب سے چھ سو ترپن کیلو گرام بنتا ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “No Sadaqah is due on less than five Awsuq of dates, no Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, and no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels.” (Sahih)
صحيح ق وليس عند خ من التمرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2474
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٤٢ (١٤٥٩)، ٥٦ (١٤٨٤)، (تحفة الأشراف: ٤١٠٦)، موطا امام مالک/الزکاة ١ (١)، مسند احمد (٣/٦٠) (صحیح )