زکوة سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 21 · 184 hadiths · Page 3 of 10

2477Sunan An Nasai

چاندی کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “No Sadaqah is due on less than five Awsaq of dates, no Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, and no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2475
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح )
2478Sunan An Nasai

چاندی کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِيمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ وكانا ثقة، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَكَانَا ثِقَةً، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ.

ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘No Sadaqah is due on less than five Awaq of silver, no Sadaqah is due on less than five Dhawd (head) of camels, and no Sadaqah is due on less than five Awsuq of dates.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2476
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح )
2479Sunan An Nasai

چاندی کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةً.

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کردی ہے، تو تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ یعنی چالیسواں حصہ دو ۔

It was narrated that ‘Ali (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have exempted you from (having to pay Zakah on) horses and slaves. Pay the Zakah on your wealth, for every two hundred five (Dirhams).” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2477
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٥ (١٥٧٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٤ (٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٦)، مسند احمد (١/٩٢، ١١٣)، سنن الدارمی/الزکاة ٧ (١٦٦٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ٤ (١٧٩٠) (صحیح )
2480Sunan An Nasai

چاندی کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ.

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کردی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔

It was narrated that ‘Ali (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have exempted you from (having to pay Zakah on) horses and slaves, and there is no Zakah on less than two hundred (Dirhams).” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2478
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2481Sunan An Nasai

زیور کی زکوة کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتٌ لَهَا، فِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: أَتُؤَدِّينَ زَكَاةَ هَذَا ؟قَالَتْ: لَا، قَالَ: أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟، قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن (بچی کے ہاتھ سے) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔

It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that a woman from among the people of Yemen came to the Messenger of Allah ﷺ with a daughter of hers, and on the daughter’s hand were two thick bangles of gold. He said: “Do you pay Zakah on these?” She said: “No.” He said: “Would it please you if Allah were to put two bangles of fire on you on the Day of Resurrection?” So she took them off and gave them to the Messenger of Allah ﷺ and said: “They are for Allah and His Messenger.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2479
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٣ (١٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٢)، مسند احمد (٢/١٧٨، ٢٠٤، ٢٠٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ١٢ (٦٣٧) (حسن )
2482Sunan An Nasai

زیور کی زکوة کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا بِنْتٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ، نَحْوَهُ مُرْسَلٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: خَالِدٌ أَثْبَتُ مِنَ الْمُعْتَمِرِ.

عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں (اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے) ۔

‘Amr bin Shuaib said: “A woman came to the Messenger of Allah ﷺ with a daughter of hers, and on her daughter’s arm were two bangles” — a similar report, in Mursal form. (Hasan)

حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2480
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (اس سند میں دو راوی ساقط ہیں، مگر سابقہ سند متصل ہے )
2483Sunan An Nasai

مال دولت کی زکوة ادا نہ کرنے سے متعلق سزا

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ أقْرَعَ لَهُ زَبِيَبَتَانِ، قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ أَوْ يُطَوِّقُهُ، قَالَ: يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہوگا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The one who does not pay Zakah on his wealth, his wealth will appear to him on the Day of Resurrection like a bald- headed Shuja’a with two dots above its eyes. It will hold onto him or encircle him and will say: I am your hoarded treasure, I am your hoarded treasure.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2481
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٢١١)، مسند احمد (٢/٩٨، ١٣٧، ١٥٦) (صحیح )
2484Sunan An Nasai

مال دولت کی زکوة ادا نہ کرنے سے متعلق سزا

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا، اور اس سے کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں ۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی: ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا (آل عمران: ١٨٠ ) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ * said: “If Allah gives a person wealth and he does not pay Zakah on it, his wealth will appear to him on the Day of Resurrection as a bald- headed Shuja’a with two dots above its eyes. It will take hold of the corners of his mouth on the Day of Resurrection and will say: ‘I am your wealth, I am your hoarded treasure.’ Then he recited this verse: ‘And let not those who covetously withhold of that which Allah has bestowed on them of His Bounty (wealth) and think that it is good for them (and so they do not pay the obligatory Zakah).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2482
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣ (١٤٠٣)، تفسیر آل عمران ١٤ (٤٥٦٥)، براء ة ٦ (٤٦٥٩)، الحیل ٣ (٦٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٠)، مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
2485Sunan An Nasai

کھجوروں کی زکوة سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ حَبٍّ أَوْ تَمْرٍ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ وسق سے کم غلے یا کھجور میں زکاۃ نہیں ہے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no Sadaqah on less than five Awsaq of grains or dates.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2483
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح )
2486Sunan An Nasai

گیہوں کی زکوة سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي إِبِلٍ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں ۔

It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: “No Zakah is due on wheat or dates unless the amount reaches five Awsuq. No Zakah is due on silver unless the amount reaches five Awaq. No Zakah is due on camels until the number reaches five Dhawd.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2484
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح الإسناد )
2487Sunan An Nasai

غلوں کی زکوة سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ ذَوْدٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہوجائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: “No Sadaqah is due on grains or dates unless the amount reaches five Awsuq, nor on less than five Dhawd, nor on less than five Awaq.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2485
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح )
2488Sunan An Nasai

کس قدر دولت میں زکوة واجب ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے ۔

It was narrated that Abu Saeed said: The Messenger of Allah ﷺ said: “No Sadaqah is due on less than five Awaq.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2486
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١ (١٥٥٩)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ٢٣ (١٨٣٢)، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٢)، مسند احمد (٣/٥٩، ٨٣، ٩٧) (صحیح )
2489Sunan An Nasai

کس قدر دولت میں زکوة واجب ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: “No Sadaqah is due on less than five Awaq, no Sadaqah is due on less than five Dhawd, no Sadaqah is due on less than five Awsuq.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2487
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٤٧ (صحیح )
2490Sunan An Nasai

عشر کس میں واجب ہے اور بیسواں حصہ کس میں؟

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَالْأَنْهَارُ، وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي، وَالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو ١ ؎ اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے ۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “For whatever is irrigated by the sky, rivers and springs, or draws up water from deep roots, one-tenth. For whatever is irrigated by animals and artificial means, one half of one-tenth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2488
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے سینچنے کی ضرورت نہ پڑتی ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٥ (١٤٨٣)، سنن ابی داود/الزکاة ١١ (١٥٩٦)، سنن الترمذی/الزکاة ٤٤ (٦٤٠)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٧ (١٨١٧)، (تحفة الأشراف: ٦٩٧٧) (صحیح )
2491Sunan An Nasai

عشر کس میں واجب ہے اور بیسواں حصہ کس میں؟

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَالْأَنْهَارُ، وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے ۔

Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘For that which is watered by the sky, rivers and springs, one-tenth. For whatever is irrigated by animals, one-half of one-tenth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2489
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١ (٩٨١)، سنن ابی داود/الزکاة ١١ (١٥٩٧)، مسند احمد ٣/٣٤١، ٣٥٣ (صحیح )
2492Sunan An Nasai

عشر کس میں واجب ہے اور بیسواں حصہ کس میں؟

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرَ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ.

معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے (سینچائی کر کے) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔

It was narrated that Muadh said: “The Messenger of Allah ﷺ sent me to Yemen and he commanded me to take one-tenth of whatever is irrigated by the sky, and half of one-tenth of whatever is irrigated by means of buckets.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2490
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٣١٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٧ (١٨١٨)، مسند احمد ٥/٢٣٣ (حسن صحیح )
2493Sunan An Nasai

اندازہ چھوڑنے والا شخص کس قدر اندازہ چھوڑے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ شَكَّ شُعْبَةُ فَدَعُوا الرُّبُعَ.

سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ١ ؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو (شعبہ کو شک ہوگیا ہے) تو تم چوتھائی چھوڑ دو ۔

It was narrated from ‘Abdur Rahman bin Mas’ud bin Niyar: “Sahl bin Abi Hathmah came to us when we were in the market and said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: When you have estimated, take two-thirds (of the portion you have estimated as Zakah) and leave one-third, and if you do not take (two-thirds) or leave one- third. (One of the reporters) Shu’bah doubted — leave one quarter.” (Hasan)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2491
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی زکاۃ نہ لو تاکہ اسے دوستوں اور ہمسایوں پر خرچ کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٤ (١٦٠٥)، سنن الترمذی/الزکاة ١٧ (٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٧)، مسند احمد (٣/٤٤٨، ٤/٢) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبدالرحمان بن مسعود “ لین الحدیث ہیں )
2494Sunan An Nasai

آیت کریمہ کی تفسیر

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصَبِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِي الْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، قَالَ: هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ حُبَيْقٍ، فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ فِي الصَّدَقَةِ الرُّذَالَةُ.

ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہیل بن حنیف ؓ نے اللہ عز و جل کے فرمان: ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو (البقرہ: ٢٦٧ ) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ خبيث سے مراد جعرور اور لون حبیق ہیں، رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔

Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said, concerning the Verse in which Allah, the Mighty and Sublime, says: And do not aim at that which is bad to spend from it.” This refers to bad quality dates. The Messenger of Allah ﷺ forbade taking bad quality dates as Sadaqah. (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2492
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرور اور لون حبیق دونوں کھجور کی گھٹیا قسموں کے نام ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٩، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة ١٦ (١٦٠٧) نحوہ (صحیح )
2495Sunan An Nasai

آیت کریمہ کی تفسیر

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عَصًا، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ، فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، فَقَالَ: لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی (مسجد میں پہنچے) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ١ ؎ آپ اس گچھے میں (لاٹھی سے) کو چتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا ۔

It was narrated that ‘Awf bin Malik said: “The Messenger of Allah ﷺ came out with a stick in his hand, and a man had hung up a bunch of dry and bad dates. He started hitting that bunch of dates and said: ‘I wish that the one who gave this Sadaqah had given something better than this, for the one who gave these dry, bad dates will eat dry, bad dates on the Day of Resurrection.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2493
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ دستور تھا کہ لوگ مسجد نبوی میں محتاجوں اور ضرورت مندوں کے کھانے کے لیے کھجوریں لٹکا دیا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ١٦ (١٦٠٨)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٩ (١٨٢١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٤)، مسند احمد (٦/٢٣، ٢٨) (حسن )
2496Sunan An Nasai

کان (معدنیا ت) کی زکوة سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: مَا كَانَ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ أَوْ فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ، فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلَكَ، وَمَا لَمْ يَكُنْ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ وَلَا فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ فَفِيهِ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو، اگر اس کا مالک آجائے (اور پہچان بتائے) تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے (یعنی: زکاۃ نکال کر خود استعمال کرلے) ۔

It was narrated from ‘Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ was asked about Al-Luqtah. He said: ‘That which is found on a much- traveled road or in an inhabited village, announce it for a year. If its owner comes (and takes it, well and good), otherwise it is yours. That which was not found on a much-traveled road or in an inhabited village is subject to the Khums, as is Rikaz.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2494
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللقطة ١٢ (١٧١٠)، (تحفة الأشراف: ٨٧٥٥) (حسن )